جموں و کشمیر
1947میںتقسیم ملک کی ہولناکیوں کا یادگاری دن ایک قوم کی ہمت کاعکاسی :وزیر اعظم نریندر مودی
ہم آہنگی کی حفاظت اور اجتماعی فرض کو تقویت دینے کا دن
ملک تقسیم کے درد کو کبھی نہیںبھولے گا: امت شاہ،1947 کا باب دردناک اورتکلیف دہ:راجناتھ سنگھ
جانیں قربان کرنے والوں، پیاروں کو کھونے والوں اور بے گھر ہونے والوں کوخراج تحسین : منوج سنہا
سری نگر:جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ تقسیم ملک کی ہولناکی یادگاری دن نہ صرف ان لوگوں کی لچک کا احترام کرتا ہے جو اس سانحے سے گزرے بلکہ ملک میں ہم آہنگی کی حفاظت کے اجتماعی فرض کو بھی تقویت دیتا ہے۔خبر رساں ایجنسی جے کے این ایس کے مطابق، ایکس پر ایک پوسٹ میں، وزیر اعظم مودی نے لکھاکہ ہماری تاریخ کے اس المناک باب کے دوران لاتعداد لوگوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اتھل پتھل اور درد کو یاد کرتے ہوئے ہندوستان تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کا دن مناتا ہے ۔انہوںنے مزیدلکھاکہ یہ ان کی ہمت، ناقابل تصور نقصان کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور پھر بھی نئے سرے سے آغاز کرنے کی طاقت تلاش کرنے کا دن ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ متاثر ہونے والوں میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کی اور قابل ذکر سنگ میل حاصل کیے۔ مودی نے مزید کہا کہ یہ دن ہم آہنگی کے بندھنوں کو مضبوط کرنے کی ہماری مستقل ذمہ داری کی یاد دہانی بھی ہے جو ہمارے ملک کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھے ہوئے ہیں۔یہ دن تقسیم کے دوران مصائب کا شکار ہونے والوں کی یاد میں 2021 سے ہر سال14 اگست کو سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان کی تقسیم ملک کی تاریخ کے سب سے المناک بابوں میں سے ایک ہے، جس میں بے پناہ مصائب، لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی، اور ملک کے فخر کو گہرے زخم لگے ہیں۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، وزیر داخلہ امت شاہ نے لکھاکہ تقسیم کی ہولناکی یادگاری دن ان لوگوں کے درد کو یاد کرنے اور اپنی تعزیت کا اظہار کرنے کا دن ہے۔
انہوںنے کہاکہ اس دن، کانگریس نے ملک کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا، اور مادر ہند کے فخر کو ٹھیس پہنچائی۔امت شاہ نے مزیدلکھاکہ تقسیم نے تشدد، استحصال اور مظالم کو جنم دیا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ میں ان تمام لوگوں کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ملک تقسیم کی اس تاریخ اور درد کو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
پوسٹ میں امت شاہ نے مزید لکھا کہ میں ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے تقسیم کے اس ہولناک سانحے میں اپنی جانیں گنوائیں۔اس دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے 1947 میں تقسیم ہند کے بعد خوفناک نتائج جھیلے۔ جیسے ہی ہندوستان تقسیم کے ہولناکی یادگاری دن منا رہا ہے، راج ناتھ سنگھ نے نفرت اور تشدد کو یاد کیا اور تقسیم کو ایک تکلیف دہ باب قرار دیا۔ ایک ایکس پوسٹ شیئر کرتے ہوئے مرکزی وزیردفاع نے لکھا کہس1947 کے باب میں، میں ان تمام بھائیوں اور بہنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے تقسیم ہند کے بعد نفرت اور تشدد کے ہولناک نتائج کو جھیلنا پڑا اور جان و مال کا نقصان دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔راجناتھ سنگھ نے لکھاکہ آج بھی، ہر ہندوستانی ان متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی محسوس کرتا ہے۔انھوں نے لکھاکہ ہم ملک میں سماجی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔اس دوران جموں وکشمیرکے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے تقسیم ملک کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا،اور معاشرے سے اتحاد کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ایکس پرایک پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو تقسیم کے متاثرین کو دلی خراج عقیدت پیش کیا، ان کی ہمت اور لچک کو یاد کرتے ہوئے، اور معاشرے سے اتحاد، ہم آہنگی اور ہمدردی کی اقدار کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔منوج سنہا نے پوسٹ میں لکھا، تقسیم کے ہولناکیوں کے یادگاری دن پر، ان تمام لوگوں کو میرا خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے تقسیم کے دوران اپنی جانیں قربان کیں، اپنے پیاروں کو کھویا اور بے گھر ہونے کا درد سہا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا13 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر9 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا13 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان11 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
