جموں و کشمیر
بدعنوانی یا سنگین جرائم کے الزامات میں گرفتار وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراءکو ہٹانے کاغیر معمولی مسودہ قانون
صوتی ووٹ سے قرارداد منظور، بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بھیج دیاگیا
کمیٹی میںکل31ممبران شامل، کمیٹی کو آئندہ اجلاس کے پہلے ہفتے تک اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا حکم
سری نگر:جے کے این ایس: مرکزی وزیر امت شاہ نے بدھ کو لوک سبھا میں تین بل پیش کیے جن میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور سنگین مجرمانہ الزامات میں گرفتار وزیروں کو 30 دنوں کے لیے ہٹایا گیا، جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا کیونکہ مسودہ قانون پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق بار بار کی رکاوٹوں کے درمیان،امت شاہ نے تین بلوں کو متعارف کرایا کیونکہ ایک صوتی ووٹ سے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی تاکہ اقدامات کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے جس میں لوک سبھا کے21 اور راجیہ سبھا کے10 ممبران شامل ہیں۔پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو آئندہ اجلاس کے پہلے ہفتے کے آخری دن تک اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کا اگلا اجلاس ( سرمائی اجلاس ) نومبر کے تیسرے ہفتے میں بلائے جانے کا امکان ہے۔بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن ارکان احتجاج کرنے لگے اور نعرے لگاتے ہوئے کنویں میں گھس گئے۔ کچھ نے شاہ کے سامنے بلوں کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔اے آئی ایم آئی ایم کے اسدالدین اویسی اور کانگریس کے منیش تیواری اور کے سی وینوگوپال سمیت اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے مجوزہ قانون کو آئین اور وفاقیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے تعارف کے خلاف بات کی، جب کہ شاہ نے اس تنقید کو مسترد کردیا کہ بل جلد بازی میں لائے گئے تھے۔وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بھیجے جائیں گے جہاں دونوں ایوانوں کے ارکان بشمول اپوزیشن کے ارکان کو اپنی تجاویز دینے کا موقع ملے گا۔جب وینوگوپال نے امت شاہ کی گرفتاری کا مسئلہ اٹھایا جب وہ گجرات کے وزیر داخلہ تھے اور سیاست میں اخلاقیات کے ان کے دعوے کے بارے میں پوچھا تو بی جے پی کے سینئر لیڈر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی گرفتاری سے قبل اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دیا تھا اور عدالت سے بری ہونے کے بعد ہی حکومت میں شامل ہوئے تھے۔امت شاہ نے کہا کہ ہم اتنے بے شرم نہیں ہو سکتے کہ ہم سنگین الزامات کا سامنا کرتے ہوئے آئینی عہدوں پر قابض رہیں۔مسلسل شور مچانے والے احتجاج کے درمیان ایوان کی کارروائی شام 5 بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی کیونکہ اسپیکر اوم برلا نے بار بار اپوزیشن ارکان سے کہا کہ وہ اپنی نشستیں سنبھالیں اور ایوان کا وقار برقرار رکھیں۔پہلے دن میں، جیسے ہی احتجاج بڑھتا گیا، اپوزیشن اور حکمراں پارٹی کے ممبران اسمبلی کے درمیان بی جے پی کے اراکین، بشمول مرکزی وزراءروونیت سنگھ بٹو اور کرن رجیجو، شاہ کو بچانے کے لیے قدم بڑھاتے ہوئے ایک مختصر جھڑپ ہوئی۔تین ہاوس مارشلوں نے شاہ کے گرد ایک حفاظتی حلقہ بنایا۔
ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد بھی اپوزیشن ارکان زوردار نعرے بازی کرتے رہے۔تین بل گورنمنٹ آف یونین ٹیریٹریز (ترمیمی) بل2025 ہیں۔ آئین (ایک سو تیسویں ترمیم) بل 2025؛ اور جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2025۔بلوں میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم، مرکزی وزراءیا وزرائے اعلیٰ کو گرفتار کر کے مسلسل 30 دن تک ایسے جرائم کے لیے حراست میں رکھا جاتا ہے جن میں کم از کم پانچ سال کی قید ہو سکتی ہے تو وہ 31 ویں دن اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔تعارفی مرحلے پر بلوں کی مخالفت کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ آئین میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ حکومتوں کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔منیش تیواری نے بھی اسی طرح کے خیالات کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ ایک فرد مجرم ثابت ہونے تک بے قصور ہے ۔انہوںنے مزیدکہاکہ یہ بل فوجداری انصاف کے اصول کے خلاف ہے اور پارلیمانی جمہوریت کو مسخ کرتا ہے۔ یہ بل سیاسی غلط استعمال کا دروازہ کھولتا ہے اور تمام آئینی تحفظات کو ہوا میں پھینک دیتا ہے۔
آر ایس پی ایم پی این کے پریم چندرن نے الزام لگایا کہ بلوں کو بے جا جلد بازی میں پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بل ایوان کے طریقہ کار کے مطابق پیش نہیں کیے جا رہے ہیں، اتنے اہم بلوں کو لانے میں کیا بے جا عجلت ہے کہ انہیں ارکان تک پہنچایا بھی نہیں گیا۔بل کے مطابق، حکومت کی یونین ٹیریٹریز ایکٹ، 1963 (20آف1962) کے تحت وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کا کوئی بندوبست نہیں ہے جسے سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے گرفتار اور حراست میں رکھا گیا ہے۔اس لیے ایسے معاملات میں کسی وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی یونین ٹیریٹریز ایکٹ1963 کے سیکشن45 میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ (پی ٹی آئی)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
