جموں و کشمیر
موسلا دار بارشیں ،میوہ باغات ا ورکھیت زیرآب ،تیز ہوائیں،سیلابی صورتحال،قومی شاہراہ کی مسلسل بندش
پھل تاجروں کوبھاری نقصان کاسامنا:فروٹ منڈی سوپور2دنوں کیلئے بند،شوپیان اور کولگام کی فروٹ منڈیوں میں سناٹا
ہزاروںکنال پر پھیلے کھیتوں میں تباہی ،کروڑوں روپے مالیت کی دھان کی تیارفصل ،سبزیاں اوردیگر زرعی پیداوار ملیا میٹ
سری نگر :جے کے این ایس : موسمی قہر سامانیوں کے نتیجے میں کشمیرکے دواہم شعبوں’باغبانی اور زراعت ‘کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ،جہاں جنوبی کشمیر اوروسطی کشمیرکے کچھ علاقوں میں موسلا دار بارشوں ،تیز ہواﺅں اور سیلابی پانی نے سینکڑوںکنال پر پھیلے میوہ باغات میں تباہی مچادی ہے ،اور دھان کی تیارفصل سے بھرے کھیتوںکو ملیا میٹ کردیاہے ،وہیں شمالی کشمیر کے میوہ تاجروں اور مالکان باغات کو تیار مال بروقت بیرون کشمیرکی منڈیوں تک نہ پہنچانے سے بھاری نقصان اور خسارہ برداشت کرنا پڑرہاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق میوہ تاجروں یا پھل بیوپاریوںکی مختلف تنظیموںکے مطابق صرف سری نگر جموں قومی شاہراہ بند رہنے سے کشمیر کی پھلوں کی معیشت کو 200 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہونے کااندیشہ ہے ۔ایشیاءکی دوسری سب سے بڑی میوہ منڈی (فروٹ منڈی سوپور)،شوپیان اور کولگام میں واقع فروٹ منڈیاں بھی گزشتہ کم وبیش دوہفتوںسے عملاًبند پڑی ہوئی ہیں ۔ان منڈیوںمیں کھڑی سینکڑوں بڑی گاڑیوںمیں سیب کی ہزاروں پیٹیاں اور ڈبے لدے ہوئے ہیں ،لیکن قومی شاہراہ مسلسل بند رہنے کی وجہ سے سیب سے لدے ٹرک اپنی جگہوں پر ہی کھڑے ہیں۔کشمیر میں طوفانی سیلاب نے وادی کے4 جنوبی اضلاع میں ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے دھان، خاص طور پر چاول اور سیب کو تباہ کر دیا ہے، جس سے کسانوں کو کروڑوں روپے کا مجموعی نقصان ہو رہا ہے۔جیسے ہی جہلم مسلسل بارش اور بادل پھٹنے کی وجہ سے پھول گیا، اننت ناگ اور پلوامہ اضلاع کے کئی علاقوں میں بہتے ہوئے پانی نے چاول کے کھیتوں کو بہا دیا۔اننت ناگ کے شمسی پورہ کے ایک کسان محمد یونس نے پی ٹی آئی کو بتایاکہ ہم اس مہینے کے آخر تک دھان کی کٹائی کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ فصل وافر تھی، لیکن سیلاب سے سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ کسان محمد یونس نے بتایاکہ پورے سال کی محنت ضائع ہو گئی ہے ۔یونس نے کہا کہ صورت حال اننت ناگ، پلوامہ اور کولگام ضلع کے کچھ حصوں میں ایک جیسی تھی، جو مل کر جنوبی کشمیر کے چاول پیدا کرنے والے پیالے کی تشکیل کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ جنوبی کشمیر میں زیادہ تر چاول پیالے میں پیدا ہوتے ہیں جس کا کچھ حصہ ان تینوں اضلاع میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مقامی کسان تباہ ہو گئے ہیں کیونکہ وہ اس موسم میں اپنی روزی روٹی کھو چکے ہیں،۔اننت ناگ میں تاچو، ڈورو، شمسی پورہ، منیوار، للی پورہ اور ملا پورہ اور پلوامہ کے کولگام، کاکاپورہ اور نیوا میں کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ پلوامہ سے متصل بڈگام کے کچھ علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔باغبانی کے شعبے کو بھی شدید دھچکا لگا ہے، اننت ناگ کے دچنی پورہ علاقے میں باغات بہہ گئے۔ باغبانی کے محکمے کے ایک اہلکار نے بتایاکہ ’سلر، سری گفوارہ، کلر اور لڈر ندی کے کنارے واقع دیگر دیہاتوں میں سیب کے درختوں کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ پلوامہ کے نشیبی علاقوں میں نئے باغات بھی متاثر ہوئے ہیں‘۔سرکاری عہدیدار نے مزید کہا کہ شوپیاں اور کولگام اضلاع میں بھی سیب کی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ کسانوں نے دعویٰ کیا کہ نقصان سینکڑوں کروڑ میں ہو رہا ہے، حکام نے کہا کہ درست تخمینہ لگانے میں وقت لگے گا۔اننت ناگ ضلع کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ لوگ ابھی بھی سیلاب کے اثرات سے صحت یاب ہونے کے عمل میں ہیں۔ فیلڈ عہدیداروں کو تعینات کیا گیا ہے اور وہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے کل سے ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔اگست کے آخری ہفتے میں ہونے والی شدید بارشوں نے جہلم میں پانی کی سطح کو 27 فٹ سے زیادہ دھکیل دیا جو کہ سیلاب کی سطح سے دو فٹ اوپر ہے۔ جبکہ جنوبی کشمیر کے کئی حصوں میں دریا کے پشتے بہہ گئے، بڈگام میں شگاف نے سری نگر سمیت وسطی کشمیر کا بڑا حصہ زیر آب آ گیا۔ادھرسری نگر جموں قومی شاہراہ کی مسلسل بندش کی وجہ سے سوپور میں ایشیا کی دوسری سب سے بڑی پھل منڈی 9 اور 10 ستمبر کو بند رہے گی۔ اس فیصلے کا اعلان سوپور فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد ملک نے کیا جو کاکا جی کے نام سے مشہور ہیں۔سوپور فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد ملک المعروف کاکہ جی نے کہا کہ تاجروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک عام میٹنگ کے بعد متفقہ طور پر منڈی کو دو دن کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔فیاض احمد ملک نے کہا کہ شاہراہ کی بندش کی وجہ سے پھلوں کی نقل و حمل میں رکاوٹ نے تاجروں اور کاشتکاروں کے پاس آپریشن معطل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاجروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک عام میٹنگ کے بعد، متفقہ طور پر منڈی کو2دن کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔سوپور فروٹ منڈی کشمیر کی پھلوں کی صنعت کے لیے ایک لائف لائن کا کام کرتی ہے، جو سیب کے کاشتکاروں کو ہندوستان بھر کی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ اس کے کاموں میں عارضی طور پر رکنے سے ہزاروں کاشتکاروں اور تاجروں کے متاثر ہونے کی توقع ہے، جس سے وادی کا سری نگرجموں قومی شاہراہ پر انحصار کو ہموار اقتصادی سرگرمیوں کے لیے واضح کیا جا رہا ہے۔میوہ تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طویل رکاوٹیں بھاری نقصان کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیب کی کٹائی کا موسم اپنے عروج پر ہے۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مزید معاشی دھچکا لگنے سے بچا جا سکے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز سے جموں ڈویڑن کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد سیلاب متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کرنے کو کہا ہے۔دریں اثناءسری نگرجموں قومی شاہراہ کی مسلسل بندش(9ستمبر کو مسلسل15ویںروزبھی بند) سے کشمیر کی پھلوں کی معیشت کو 200 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔پھل بیوپاریوں اور کاشتکاروںکا کہناہے کہ سری نگرجموں قومی شاہراہ تقریباً 2 ہفتے سے بند رہنے کے باعث، کشمیر کی پھلوں کی صنعت کو بڑے پیمانے پر مالی نقصانات کا سامنا ہے، جس کے ساتھ کاشتکاروں کو سینکڑوں کروڑوں کے نقصان کا انتباہ ہے کیونکہ بگوگوشا ناشپاتی اور گالا سیب کے ٹرک راستے میں سڑ جاتے ہیں۔اگرچہ پھنسے ہوئے گاڑیوں کو صاف کرنے کے لیے ہائی وے کو پیر کو جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا، لیکن وادی کے خراب ہونے والے سامان کو نقصان پہلے سے ہی وسیع ہے، جس سے کاشتکار اور تاجر سخت پریشان ہیں۔
سوپور میں ایشیا کی دوسری سب سے بڑی فروٹ منڈی مسلسل دوسری پیر کے روز تاریک نظر آئی، کیونکہ کاشتکاروں اور تاجروں نے اس بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ جب کہ منڈی کھلی رہی، تجارتی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں، معمول کے100 سے زیادہ ٹرکوں کے مقابلے میں صرف چھ ٹائر والی گاڑیاں ہی بھری ہوئی ہیں۔سوپور فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد ملک نے کہا کہ ہم ایسی صورتحال میں ہیں کہ اگر ٹرکوں کی نقل و حرکت آسانی سے نہیں چلتی ہے تو صنعت کو تقریباً 200کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال 2022 کے بحران کی عکاسی کرتی ہے، جب طویل شاہراہوں میں رکاوٹوں نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا تھا۔میوہ کاشتکاروں نے امریکی سیب کی اقسام کی مثال دیتے ہوئے گرتی ہوئی قیمتوں کی طرف بھی اشارہ کیا، جس کی قیمت پہلے 600 روپے فی ڈبہ تھی لیکن اب صرف 400سے450 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔
فکر مند کاشتکاروں کے ایک گروپ نے کہاکہ اگر15 لاکھ روپے کا ٹرک مارکیٹ میں پہنچ جاتا ہے، تو ہم بمشکل ایک یا دو لاکھ نقصان کی وجہ سے وصول کر پائیں گے۔ کشمیر ویلی فروٹ گروورز اینڈ ڈیلرز یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیر نے اعتراف کیا کہ کشمیرکی میوہ صنعت کو کافی نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے درست اعداد و شمار بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا، بگوگوشا اور گالا سیب کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔اگرچہ حکومت نے حال ہی میں6 ٹائر والے پھلوں کے ٹرکوں کو مغل روڈ کے راستے چلنے کی اجازت دی ہے، لیکن تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ناکافی ہے۔ منڈی سے وابستہ افراد نے مطالبہ کیاکہ محدود نقل و حرکت کے ساتھ مطلوبہ نقل و حمل کے پیمانے کا انتظام نہیں کیا جا سکتا۔ پھلوں کے تمام ٹرکوں کو ترجیح دی جانی چاہئے تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے،۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
