ہندوستان
مسافر گاڑیوں کی فروخت دسمبر میں 27 فیصد بڑھی، سالانہ فروخت نے بھی ریکارڈ بنایا
نئی دہلی، ملک میں مسافر گاڑیوں کی تھوک فروخت دسمبر میں 26.8 فیصد بڑھ کر 3,99,216 یونٹ تک پہنچ گئی۔ مسافر گاڑیوں میں کاریں، یوٹیلیٹی وہیکلز اور وین شامل ہیں مال و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں نئی نسل کی اصلاحات اور ریزرو بینک کی جانب سے ریپو ریٹ میں کمی کے باعث قرض پر سود کم ہونے سے اکتوبر-دسمبر کی پوری سہ ماہی میں مانگ مضبوط رہی، جس کے نتیجے میں سہ ماہی اور سالانہ فروخت کا بھی نیا ریکارڈ قائم ہوا۔
گاڑی ساز کمپنیوں کی تنظیم سیام نے منگل کو جاری اعداد و شمار میں بتایا کہ دسمبر 2025 میں دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت 39.4 فیصد بڑھ کر 15,41,036 یونٹ درج کی گئی۔ تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت 61,924 یونٹ رہی جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 17.4 فیصد زیادہ ہے۔
اکتوبر-دسمبر سہ ماہی میں مسافر گاڑیوں کی فروخت 20.6 فیصد بڑھ کر 12,76,073 یونٹ رہی، جن میں 8,52,498 یوٹیلیٹی وہیکلز شامل ہیں۔ کاروں کی فروخت 20.5 فیصد، یوٹیلیٹی وہیکلز کی 20.9 فیصد اور وین کی 16.4 فیصد بڑھی۔
سال 2025 کی آخری سہ ماہی میں دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت 16.9 فیصد بڑھ کر 56,96,238 یونٹ تک پہنچ گئی۔ تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت 2,15,211 یونٹ رہی جو سالانہ بنیاد پر 14 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں 21.5 فیصد اضافہ درج کیا گیا اور یہ 2,90,085 یونٹ تک پہنچ گئی۔
پورے سال کے دوران جنوری سے دسمبر تک مسافر گاڑیوں کی کل فروخت پانچ فیصد بڑھ کر 44,89,717 یونٹ تک پہنچ گئی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2,05,00,639 یونٹ تک پہنچ گئی۔ تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت 8.2 فیصد بڑھ کر 7,88,429 یونٹ رہی۔ کمرشل گاڑیوں کی فروخت 7.7 فیصد اضافے کے ساتھ 10,27,877 یونٹ رہی۔
سیام کے صدر شیلش چندر نے اعداد و شمار پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2025 گاڑیوں کی صنعت کے لیے سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ سال کی پہلی ششماہی میں فروخت میں سستی رہی اور صنعت کو سپلائی سے متعلق رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پالیسی سے متعلق ڈھانچہ جاتی اصلاحات نے مانگ میں تیزی کی بنیاد رکھی۔ ان اصلاحات میں انکم ٹیکس میں رعایت، ریپو ریٹ میں مسلسل کمی اور جی ایس ٹی 2.0 شامل ہیں۔ جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کے باعث گاڑیوں کی لاگت کم ہوگئی جس سے صنعت کو رفتار ملی۔
انہوں نے بتایا کہ پورے سال کے دوران مسافر گاڑیوں، کمرشل گاڑیوں اور تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ سطح پر رہی۔ دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت بھی دوسرے بلند ترین سطح پر رہی۔
مسٹر چندر نے سال 2026 میں بھی مانگ میں اضافہ جاری رہنے کی امید ظاہر کی۔
سیام کے ڈائریکٹر جنرل راجیش مینن نے کہا کہ اکتوبر-دسمبر میں مسافر گاڑیوں، دو پہیہ، تین پہیہ اور کمرشل گاڑیوں کی سہ ماہی فروخت کا نیا ریکارڈ بنایا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا12 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
