ہندوستان
دہلی میں فضائی آلودگی تشویش کا باعث
نئی دہلی، قومی دارالحکومت میں فضائی آلودگی منگل کو بھی تشویش کا باعث بنی رہی، کیونکہ فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) ‘انتہائی خراب’ زمرے میں رہا اور صبح کے وقت 394 تک پہنچ گیامسلسل آلودگی کے باوجود موسم میں معمولی بہتری دیکھنے کو ملی، دہلی والے دھوپ بھری صبح کے ساتھ جاگے اور کم سے کم درجہ حرارت میں ہلکا اضافہ ہوا جو 7.7 ڈگری سیلسیس پر ریکارڈ کیا گیا۔
شہر کے کئی مانیٹرنگ مراکز نے شدید فضائی آلودگی درج کی، جن میں وزیرپور اور آنند وہار سب سے زیادہ 444 اے کیو آئی کے ساتھ سرفہرست رہے۔ جہانگیرپوری اور اشوک وہار بھی قریب ہی رہے، جہاں صبح 9 بجے تک اے کیو آئی بالترتیب 442 اور 441 ریکارڈ کیا گیا۔
کمیشن آف ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے دہلی-این سی آر میں جی آر اے پی-IV کے ضوابط نافذ کیے کیونکہ دو دن قبل اے کیو آئی شدید سطح پر پہنچ گیا تھا اور صورتحال میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔ ہفتہ کو سی اے کیو ایم نے جی آر اے پی-IV دوبارہ نافذ کیا جب خطے کی ہوا کا معیار ‘شدید’ زمرے میں چلی گئی، ایک دن بعد جی آر اے پی-3 اقدامات واپس لے لیے گئے تھے۔
دریں اثنا، محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے کہا کہ شمالی پنجاب اور اس کے پڑوس میں سائیکلونک گردش کی شکل میں مغربی خلل شمال مغربی ہندوستان کے موسم پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ نظام سطح سمندر سے تقریباً 3.1 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہے، جس کے ساتھ وسطی اور بالائی ٹراپوسفیرک مغربی ہواؤں میں 5.8 کلومیٹر تک ایک پٹی بھی موجود ہے۔
آئی ایم ڈی نے مزید کہا کہ شمال مشرقی راجستھان اور ملحقہ علاقوں میں سطح سمندر سے 1.5 کلومیٹر کی بلندی تک پھیلا ہوا ایک اور سائیکلونک گردش بھی قائم ہے۔ ایک اور مغربی خلل، جو وسطی ٹراپوسفیرک مغربی ہواؤں میں ایک پٹی کی صورت میں 65ڈگری مشرق طول البلد اور 32 ڈگری شمال عرض البلد کے شمال میں 5.8 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہے، جو خطے کو متاثر کر رہا ہے۔
مزید برآں، ایک شدید مغربی خلل 21 جنوری کی رات سے شمال مغربی ہندوستان کو تیزی سے متاثر کرنے کا امکان ہے۔ سب ٹراپیکل ویسٹرلی جیٹ اسٹریم، جس کی مرکزی ہوائیں سطح سمندر سے 12.6 کلومیٹر کی بلندی پر تقریباً 130 ناٹ کی رفتار سے چل رہی ہیں، اس وقت شمال مغربی ہندوستان پر موجود ہیں، جو آئندہ دنوں میں فعال موسمی حالات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پیش گوئی کے مطابق آئندہ دو دنوں میں کم سے کم درجہ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوگی، اس کے بعد 23 جنوری کو 2–3 ڈگری سیلسیس کا اضافہ اور بعد میں اتنا ہی کمی متوقع ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت زیادہ تر دنوں میں معمول کے قریب رہے گا، جبکہ 23 جنوری کو معمول سے زیادہ ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت آئندہ تین دنوں تک نمایاں طور پر معمول سے زیادہ رہے گا اور بعد میں معمول پر واپس آجائے گا۔
آئی ایم ڈی نے 23 جنوری کو ہلکی بارش یا بوندا باندی کے ساتھ 20–30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز سطحی ہواؤں کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ آئندہ 24 گھنٹوں تک آسمان زیادہ تر صاف رہے گا، اس کے بعد اگلے دو دنوں تک جزوی طور پر ابر آلود اور پھر عمومی طور پر ابر آلود ہوگا۔ 20 جنوری کی رات کو ہلکی دھند جبکہ آئندہ سات دنوں تک صبح کے وقت ہلکی سے درمیانی دھند متوقع ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر9 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا13 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا13 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا12 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
