ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا22 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان23 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
