ہندوستان
گوئل نے برکس ممالک کے درمیان مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر زور دیا
نئی دہلی، تجارت و صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے جمعہ کو برکس ممالک کے درمیان مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ ڈگریوں کو تسلیم کرنے کی اپیل کی۔
گوئل نے یہاں بھارت منڈپم میں برکس بزنس فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت میں برکس ممالک کی مجموعی حصہ داری تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ انہوں نے اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مارکیٹ تک زیادہ رسائی، سپلائی چین میں تنوع اور قواعد و ضوابط کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس سے روس کے اقتصادی ترقی کے وزیر میکسم ریشیتنکوف، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، تجارت و صنعت کے وزیر مملکت جتن پرساد اور تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے بھی خطاب کیا۔
گوئل نے کہا کہ باہمی تجارت میں ہندوستان برکس ممالک کے لیے ایک ناگزیر ستون ہے۔ انہوں نے انجینئرنگ مصنوعات، الیکٹرانکس اور فارما شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ان سمیت دیگر مصنوعات کے لیے برکس کو ایک اہم مارکیٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک سے ایک دوسرے کی مصنوعات، بشمول خام مال اور اہم معدنیات، کے لیے اپنی مارکیٹیں کھولنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ سپلائی چین اسی وقت مضبوط ہوں گی جب وہ دو طرفہ ہوں گی۔ مارکیٹ تک آسان رسائی کی وکالت کرتے ہوئے گوئل نے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک سے اپنی مارکیٹیں کھولنے اور ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنانے کی اپیل کی۔
تجارت و صنعت کے وزیر نے برکس ممالک سے زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے، ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے، خدمات کے شعبے کو ایک دوسرے کے لیے کھولنے، سرحد پار پیشہ ور افراد کی آمدورفت آسان بنانے اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ ڈگریوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بزنس فورم سے برکس کے اندر تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعمیری تجاویز سامنے آئیں گی۔
ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سال برکس کے ادارہ جاتی تعاون کے 20 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس دوران برکس کی رکنیت، ایجنڈے اور تعاون کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی اور ترقی ہوئی ہے۔
سربراہی اجلاس کے موضوع ’لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ترجیحات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ عدم استحکام، غیر یقینی اور پیچیدگی اس کی نمایاں خصوصیات بن گئی ہیں، جبکہ جغرافیائی سیاسی تنازعات، وبائی امراض، موسمیاتی مسائل، ڈیجیٹلائزیشن اور تکنیکی ترقی اقتصادی منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں۔
جتن پرساد نے اس بات کو اجاگر کیا کہ برکس بزنس فورم رکن ممالک کی طاقت کو ٹھوس کاروباری نتائج میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر ڈیجیٹل خدمات، بالخصوص مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر زور دیا۔ انہوں نے اے آئی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے زیادہ تبادلے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مکمل سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔
تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ برکس ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا بازار ہے۔ رکن ممالک کے درمیان تجارت 2003 میں 84 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 1.2 کھرب ڈالر ہوگئی ہے۔
انہوں نے کثیر سطحی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے سستے ورکنگ کیپیٹل کے ذریعے چھوٹی ، انتہائی چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی مدد کرنے کی بات کہی۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
مودی۔پیزشکیان کی مغربی ایشیا پر بات چیت، ہندوستان کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور
نئی دہلی، مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔
برکس چوٹی کانفرنس سے الگ ہوئی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر مودی نے دہرایا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے 31 اگست کو بشکیک میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس سے الگ دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود برکس سے متعلق اجلاسوں میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان استحکام، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو مضبوط بنانے میں برکس اہل ہے۔ وزیر اعظم نے بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیزشکیان کی شرکت کے لیے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر اعظم نے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے برکس سمیت کثیر فریقی تنظیموں میں مشترکہ مفادات کے امور پر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعاون کی بھی تعریف کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، جہاز رانوں کا تحفظ ضروری: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ تجارت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان معاشی رابطے کے پل بنانے میں مصروف ہے۔
نریندر مودی نے یہاں برکس سربراہ اجلاس کے آغازسے قبل آج منعقدہ برکس بزنس فورم سے خطاب کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک مل کر کام کریں گے تو دنیا بھر کے لیے مسائل اور ضروریات کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے نریندر مودی اور ولادیمیر پوتن نے ہندوستان-روس تجارتی نمائش ‘انوپروم’ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا، “دنیا میں تجارت آگے تبھی بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور جہاز راں محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور جہاز رانوں کے تحفظ کا پرزور حامی ہے۔”
نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں آج جب تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان (مختلف مارکیٹوں کے ساتھ) معاشی رابطے کا پل تعمیر کر رہا ہے۔” انہوں نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت امریکہ-ایران جنگ کے باعث رک سی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک دوسرے ممالک کے خلاف تجارت میں اونچے ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے اقدامات کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعظم نے کہا کہ “عالمی تشویشات کے درمیان بھی ہندوستان آج معاشی نمو اور استحکام کا بھروسہ دے رہا ہے۔” انہوں نے عالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان میں جدت طرازی اور ایجادات کے لیے آنے اور یہاں سے دنیا کی مارکیٹوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے برکس گروپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے دنیا کے لیے تمام تر حل پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گروپ سے اپیل کی کہ، “برکس آگے بڑھے، اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔”
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
برکس بزنس فورم میں پوتن کا مغربی ممالک پر تجارتی ناانصافی کا الزام
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ مسابقت میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں کھلے عام غیر منصفانہ طریقے اختیار کررہے ہیں۔
18ویں برکس سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل منعقدہ بزنس فورم میں مسٹر پوتن نے کہا کہ دنیا میں اس وقت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور 21ویں صدی میں ترقی کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد رہا ہے، جبکہ جی7 ممالک کا حصہ 29 فیصد ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی میں برکس ممالک کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ جی7 کا حصہ 18 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی 50 فیصد آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ پوتن نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’انہیں جی7 کہا جاتا ہے، معلوم نہیں انہیں گریٹ کیوں کہا جاتا ہے۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ مغربی حریف اپنی سابقہ پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں اور بعض اوقات غیر منصفانہ طریقے بھی اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر سرکاری سطح پر بھی ایسے اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں، جن میں پائپ لائنوں کو تباہ کرنا، بین الاقوامی نقل و حمل اور کوریڈور بند کرنا، تجارتی جہاز ضبط کرنا اور غیر قانونی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔
روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان اور بعض دیگر ممالک پر عائد پابندیوں کے تناظر میں مسٹر پوتن نے کہا کہ جو ممالک مغربی ملکوں کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان پر بالواسطہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد مجموعی پابندیوں سے تقریباً دوگنی ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا کہ ان مشکل حالات کے باوجود روس نے برکس اور دیگر ممالک میں نئے شراکت دار بنائے ہیں۔ گزشتہ چار برس میں روس کی غیر ملکی تجارت میں جغرافیائی اور اسٹریٹجک تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس تیزی سے ترقی کررہا ہے اور گزشتہ تین برس میں اس کی جی ڈی پی کی شرح نمو عالمی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق روس نے بلند اہداف مقرر کیے اور انہیں حاصل بھی کیا، جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک بلند بجٹ خسارے، عوامی قرضوں اور صنعتی زوال کا سامنا کررہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
