ہندوستان
برکس میں مودی کا خطاب : سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں میں ہو اصلاحات اور جہاز رانوں کے لیے سکیورٹی نیٹ ورک بنایا جائے
نئی دہلی، ہندوستان نے برکس ممالک سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر جلد فیصلہ کرنے سمیت عالمی اداروں کے فیصلے کے عمل میں ترقی پذیر ممالک کی مساوی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کی پرزور اپیل کرتے ہوئے سمندری راستوں پر بڑھتے خطرات کے مدنظر جہاز رانوں کی سکیورٹی کے لیے ہنگامی امدادی نیٹ ورک بنانے کا اعادہ کیا ہے۔
ہندوستان کا کہنا ہے کہ برکس سربراہ اجلاس کا پیغام واضح ہونا چاہیے کہ اگر مستقبل مشترکہ ہے تو اس کی تعمیر کا حق بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز یہاں ہندوستان کی میزبانی میں 18ویں برکس سربراہ اجلاس کی پہلی مکمل میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ عالمی تنظیموں میں فیصلے کا عمل پیرامڈ کی طرح ہے جہاں چوٹی پر بیٹھے چند ممالک ہی فیصلے میں شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس نظام کو ایسے پلیٹ فارم کی شکل دینے کی اپیل کی جہاں تمام ممالک فیصلے کے عمل میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ برکس کے 20 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اسے اب اپنی ذمہ داری کے مطابق آگے بڑھتے ہوئے عالمی حکمرانی کا ایجنڈا طے کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، “برکس کو مضبوط کرتے ہوئے، ہمیں عالمی اصلاحات کی سمت بھی طے کرنی ہوگی۔ عالمی انتظامی نظام کا موجودہ ڈھانچہ ایک پیرامڈ جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے اوپری حصے میں بااختیار اور فیصلہ کرنے والے بیٹھے ہیں اور نچلے حصے میں وہ ممالک ہیں جو ان فیصلوں سے متاثر تو ہوتے ہیں، لیکن انہیں شکل نہیں دے پاتے۔” وزیراعظم نے کہا، “ترقی پذیر ممالک آج عالمی بحرانوں کا سب سے پہلے شکار ہوتے ہیں لیکن فیصلہ کرنے کے عمل میں وہ سب سے آخری قطار میں ہیں۔ ہمیں اس ‘مراعات کے پیرامڈ’ کو ‘شمولیت کے پلیٹ فارم’ میں بدلنا ہے، جہاں ہر ملک کی آواز ہو، ہر رکن کا مفاد ہو اور ہر کوشش کے مرکز میں انسانیت کی ترقی ہو۔”
انہوں نے کہا کہ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مل کر عالمی حکمرانی کی اصلاحات کی دس تجاویز تیار کرنہ ہوں گی جنہیں ہم اگلے اجلاس تک ایک برکس اصلاحاتی روڈ میپ کی شکل دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس روڈ میپ کو بنانے میں ہمیں تین اہم پہلوؤں یعنی نمائندگی، جوابدہی اور فیصلہ کرنے کے عمل میں مساوی شراکت کا خیال رکھنا ہوگا۔ نمائندگی کے معاملے پر وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو اب اور نہ ٹالنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے اس کے لیے تحریری تجاویز پر مبنی بات چیت کو متعین وقت اور واضح نتائج سے جوڑنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے مالیاتی اداروں میں ووٹنگ کے حقوق، قيادت کے عہد اور پالیسی ترجیحات کو موجودہ اقتصادی حقائق کے مطابق کرنے کی بھی بات کہی۔
جوابدہی کے تحت انہوں نے عالمی اداروں کی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت اور اجتماعي ردِعمل کی رفتار، پیمانے نیز آخری سطح تک اثر پر توجہ دینے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے جہاز رانوں کی سکیورٹی کے لیے ہنگامی امدادی نیٹ ورک بنانے کی تجویز پیش کی، جو متعلقہ ممالک کی سمندری اتھارٹیز اور مشنز کو جوڑ سکے۔ اس سے ہنگامی پیغامات، طبی امداد، خاندانوں کو اطلاع اور انخلاء میں تعاون دیا جا سکے گا۔ قواعد و ضوابط بنانے کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ اے آئی، سائبر اسپیس، بیرونی خلا، بائیو ٹیکنالوجی اور اہم ٹیکنالوجیز مستقبل کے مواقع کے ساتھ عالمی قوانین بھی طے کر رہی ہیں۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کو قوانین پر صرف عمل کرنے والے ممالک سے قوانین بنانے میں کردار ادا کرنے والے ممالک میں بدلنے کی ضرورت بتائی۔
اس کے لیے برکس کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کے نوجوان سفارت کاروں اور پالیسی سازوں کو بات چیت کی صلاحیت، عملی تربیت اور قانونی مہارت فراہم کرنے کی تجویز رکھی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان اس سمت میں قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان میں منعقدہ برکس سربراہ اجلاس کا پیغام واضح ہونا چاہیے کہ اگر مستقبل مشترکہ ہے تو اس کی تعمیر کا حق بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے برکس کے 20 سالہ عزم کو ‘آواز سے اثر اور مراعات سے شراکت داری’ کی سمت میں آگے بڑھانے کا اعادہ کیا۔
ہندوستان کی برکس صدارت کو عوام پر مرکوز اور ‘انسانیت مقدم ‘ نقطۂ نظر پر مبنی بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مضبوط، اختراع ، تعاون اور پائیدارترقی کا قیام اس کی اہم ترجیحات رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی صدارت کے دوران 350 سے زائد میٹنگیں ہوئیں اور تقریباً 30 شہروں میں رکن ممالک کی ٹیموں کا استقبال کیا گیا۔ برکس کی 20ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تنظیم نے گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی سطح پر اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کا احترام کرتے ہوئے اتفاقِ رائے سے آگے بڑھتا ہے اور کسی کے خلاف نہیں، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی سوچ رکھتا ہے۔ اب اتحاد اور اتفاقِ رائے کو عالمی سطح پر ٹھوس نتائج میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہر سال صدارت بدلنے سے برکس کی ادارہ جاتی رفتار نہیں رکنی چاہیے۔ اس کے لیے انہوں نے برکس تسلسل اور عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے تحت ‘ٹروئیکا’ کے ذریعے تمام پہل قدمیوں اور نتائج کی نگرانی کی جا سکے گی۔ ساتھ ہی ایک محفوظ ڈیجیٹل ریپازیٹری بنانے کا مشورہ دیا گیا، جس میں ہر فیصلے کے ساتھ متعلقہ نوڈل پوائنٹ، وقت اور اس کے عمل درآمد کی صورتحال درج ہو۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
پوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتہ کے روز مغربی ممالک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، “استعماری ذہنیت” والے ممالک پر ٹیرف وار، پابندیوں، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور طاقت کے استعمال کے ذریعے کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے یہاں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقت کا توازن ‘گلوبل ساؤتھ’ اور مشرق میں ترقی کے نئے مراکز کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں اور عالمی امور میں بڑے کردار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ولادیمیر پوتن نے کہا، “بین الاقوامی تعلقات کا یک قطبی نظام، ممالک کے ایک چھوٹے سے گروہ کے مفاد میں تھا اور اب یہ ماضی کی بات ہوتی جا رہی ہے۔”
روسی سربراہ نے کہا کہ برکس کا وقار اور اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے، اور رکن ممالک سیاست و سکیورٹی، معیشت و مالیات، نیز ثقافتی و انسانی شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ بالکل فطری ہے کہ دنیا میں برکس کا وقار اور اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ ممالک کھل کر اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کی کوششوں میں حصہ لے رہے ہیں؛ انہوں نے اس رجحان کو کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھار کا حصہ بتایا۔ ولادیمیر پوتن نے کہا، “زیادہ سے زیادہ ممالک اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے اور عالمی مسائل کو حل کرنے میں حصہ لینے کی اپنی تیاری کا زور دار اور واضح طور پر اظہار کر رہے ہیں۔”
تاہم، ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ کثیر قطبی دنیا کی طرف بڑھنے کے عمل کو ان ممالک کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو طاقت کے بدلتے توازن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے ایسے ممالک پر اقتصادی دباؤ، سیاسی مداخلت اور طاقت کے استعمال کے ذریعے حریفوں کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔
ولادیمیر پوتن نے کہا، “وہ بدلتی ہوئی حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ٹیرف وار، غیر قانونی پابندیوں، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور مکمل طور پر طاقت کے استعمال سمیت مختلف طریقوں سے حریفوں کی ترقی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ایسی حرکتیں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہیں اور ممالک کے درمیان تصادم اور اختلافات کو ہوا دے کر موجودہ بین الاقوامی نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔
ولادیمیر پوتن نے کہا، “کشیدگی کے پرانے پوائنٹس کو بھڑکایا جا رہا ہے، اور زیادہ سے زیادہ نئے تصادم اور اختلافات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، بین الاقوامی تعلقات کا پورا نظام ناکام ہو رہا ہے۔”
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مودی۔پیزشکیان کی مغربی ایشیا پر بات چیت، ہندوستان کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور
نئی دہلی، مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔
برکس چوٹی کانفرنس سے الگ ہوئی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر مودی نے دہرایا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے 31 اگست کو بشکیک میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس سے الگ دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود برکس سے متعلق اجلاسوں میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان استحکام، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو مضبوط بنانے میں برکس اہل ہے۔ وزیر اعظم نے بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیزشکیان کی شرکت کے لیے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر اعظم نے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے برکس سمیت کثیر فریقی تنظیموں میں مشترکہ مفادات کے امور پر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعاون کی بھی تعریف کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، جہاز رانوں کا تحفظ ضروری: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ تجارت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان معاشی رابطے کے پل بنانے میں مصروف ہے۔
نریندر مودی نے یہاں برکس سربراہ اجلاس کے آغازسے قبل آج منعقدہ برکس بزنس فورم سے خطاب کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک مل کر کام کریں گے تو دنیا بھر کے لیے مسائل اور ضروریات کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے نریندر مودی اور ولادیمیر پوتن نے ہندوستان-روس تجارتی نمائش ‘انوپروم’ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا، “دنیا میں تجارت آگے تبھی بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور جہاز راں محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور جہاز رانوں کے تحفظ کا پرزور حامی ہے۔”
نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں آج جب تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان (مختلف مارکیٹوں کے ساتھ) معاشی رابطے کا پل تعمیر کر رہا ہے۔” انہوں نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت امریکہ-ایران جنگ کے باعث رک سی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک دوسرے ممالک کے خلاف تجارت میں اونچے ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے اقدامات کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعظم نے کہا کہ “عالمی تشویشات کے درمیان بھی ہندوستان آج معاشی نمو اور استحکام کا بھروسہ دے رہا ہے۔” انہوں نے عالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان میں جدت طرازی اور ایجادات کے لیے آنے اور یہاں سے دنیا کی مارکیٹوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے برکس گروپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے دنیا کے لیے تمام تر حل پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گروپ سے اپیل کی کہ، “برکس آگے بڑھے، اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔”
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان1 week agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا5 days agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
ہندوستان5 days agoگونڈہ میں سڑک حادثہ میں دو طلبہ کی موت
