تازہ ترین
پارٹی اسمبلی الیکشن کیلئے تیار،تمام نشستوں پر اُمیدوار کھڑا کریگی: رام مادھو
خبراردو: بی جے پی جنرل سیکرٹری رام مادھو نے موجودہ صورتحال کیلئے علاقائی سیاسی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے جب کرپٹ سیاستدانوں کیخلاف کارروائی کا آغاز کیا تو یہاں کی مقامی پارٹیوں نے دفعہ 35Aسے متعلق شوچے چھوڑنے شروع کئے۔
بی جے پی جنرل سیکرٹری اور کشمیر اُمور کے انچارج رام مادھو نے بدھ کو سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں ذرائع ابلا غ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 35Aپر جو ہنگامہ اس وقت کشمیر میں چل رہا ہے اس کیلئے علاقائی سیاسی پارٹیاں ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب مرکزی و ریاستی حکومتوں نے کرپٹ سیاستدانوں کیخلاف کارروائی شروع کرنے چاہی تب یہاں کی علاقائی سیاسی پارٹیوں نے دفعہ 35Aسے متعلق عوام کو گمراہ کرنے کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ رام مادھو کے بقول کرپٹ عناصر کیخلاف مرکزی وریاستی حکومتوں نے جو مہم شروع کی ہے، بی جے پی اس کی بھر پور طریقے سے حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن میں چاہے کوئی بھی اعلیٰ سرکاری افسر یا سیاست دان شامل کیوں نہ ہو، اُسکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اُسے کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائیگا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کو کتنا ہی بڑا لیڈر کیوں نہ ملوث ہو، اُسکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔رام مادھو نے بتایا کہ جس طرح مرکزی سرکار نے دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کیلئے دندان شکن مہم شروع کی ہے، اُسی طرح رشوت خوروں کے خلاف بھی مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ نیشنل کانفرنس صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رام مادھو نے بتایا کہ آج اگر چندی گڑھ میں کسی کی پوچھ تاچھ عمل میں لائی جارہی ہے تو عین ممکن ہے کہ کل کسی کا سرینگر میں محاسبہ کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی مرکزی و ریاستی حکومتیں کرپٹ سیاست دانوں کے پیچھے لگیں، تو انہوں نے گولہ بارود کی باتیں کرنی شروع کردی۔ یہاں کی علاقائی سیاسی پارٹیوں کو اب پھر سے گولہ بارود یاد آگیا۔ انہیں پھر سے 35Aکوخطرہ محسوس ہونے لگا، اسی لیے انہوں نے لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کا کام شروع کردیا۔ رام مادھو کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جو کام ریاست جموں وکشمیر کے مفاد میں ہوگا، مرکزی سرکار وہ کام کرکے ہی دم لے گی۔ جو کچھ بھی کیا جائیگا، وہ ریاست اور یہاں کے عوام کیلئے کیا جائیگا۔ آج علاقائی سیاسی جماعتیں ہمیں گولہ بارود سے ڈرارہی ہے لیکن میں انہیں بتادینا چاہتا ہوں کہ وہ دن گئے جب بی جے پی گولہ بارود سے ڈرتی تھی۔ہم انتظامیہ کیساتھ رابطے میں ہیں تاکہ کرپٹ عناصر کیخلاف سخت اور ٹھوس کارروائی کی جائے۔جموں وکشمیر میں مجوزہ اسمبلی الیکشن کے حوالے سے رام مادھو کا کہنا تھا کہ ہم مانگ کررہے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر میں جلد از جلد اسمبلی الیکشن منعقد کئے جائیں۔
بی جے پی اسمبلی انتخابات لڑنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے۔ ہم نے جموں، لداخ اور کشمیر میں انتخابی عمل سے متعلق تمام تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اسمبلی الیکشن میں گڑ جوڑ سے متعلق رام مادھو کا کہنا تھا کہ بی جے پی اپنے دم پر جموں کشمیر کی تمام نشستوں سے اسمبلی الیکشن لڑیگی۔ پارٹی تمام 87نشستوں پر اُمیدوار کھڑا کریگی۔ اس موقعے پر انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ جس طرح پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے دوران نوجوانوں نے اہم رول ادا کیا اور نئی قیادت کو سامنے لایا، اُمید ہے کہ اسمبلی الیکشن کے دوران بھی نوجوان بنا کسی ڈر کے سامنے الیکشن میں حصہ لیگی۔انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص امن، تعمیر و ترقی اور کرپٹ سے پاک معاشرے کا خواہاں ہیں، اُسے چاہیے کہ وہ بی جے پی کا ساتھ دے، پارٹی ایسے لوگوں کا خیر مقدم کریگی۔انہوں نے کہا کہ نوجوان قیادت اُبھر نے اور سامنے آنے کے نتیجے میں ہی یہاں کی علاقائی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں ڈری ہوئی ہیں۔
وہ آج اپنے لیے زمین تنگ ہوتے ہوئے دیکھ رہیں ہیں جس کے نتیجے میں وہ مختلف حیلوں اور بہانوں کی آڑ میں لوگوں کو خوف زدہ کررہی ہیں۔رام مادھو نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی آج انتہائی ڈری ہوئی ہیں ا سی لیے لوگوں میں بارود سے متعلق باتیں کرکے خوف و ڈر کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے بتایا کہ مودی سرکار بلا لحاظ رنگ و نسل اور مذہب کے لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں سہ طلاق بل کو متفقہ طور پر پاس کیا گیا کیوں کہ مسلم خواتین کو معاشرے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ رام مادھو کے بقول ہم نے سہ طلاق بل کو مذہب کے نام پر نہیں بلکہ مسلم خواتین کو راحت پہنچانے کے نام پر ایڈرس کیا۔ ہم نے اس سے قبل ہندوؤں کے مذہبی معاملات میں پائی گئی خامیوں کو بھی ایڈرس کیا لہٰذا یہاں پر مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
