تازہ ترین
کشمیر،سی سی اے قرار داد پر ووٹنگ اور’ای یو۔انڈیا سمٹ‘سے قبل
یور پی یو نین کے سفیروں کا دورہ کشمیر متوقع
’ہم کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے تیار،خطے کی صورتحال کا خود جائزہ لیں گے‘:سفارتکار
سرینگر : کشمیر،سی سی اے قرار داد پر ووٹنگ اور’ای یو۔انڈیا سمٹ‘سے قبل یو رپی یونین کے سفیروں کا دورہ کشمیر ایک مرتبہ پھر متوقع ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برسلز میں 13مارچ کو ’ای یو۔انڈیا سمٹ‘ طے ہے اور اس سے قبل یور پی یونین کے سفیر کشمیر کا دورہ کرسکتے ہیں،تاہم اس حوالے سے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق نریندرا مودی حکومت متوقع طور پر یور پی یونین (ای یو) ممالک کے سفیروں کا ایک اور دورہ جموں وکشمیر کراسکتی ہے۔ نیوز پوٹل’دی پرنٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ دورہ یوپی پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر اور شہریت ترمیمی قانون پر مشترکہ قرارداد پیش کرنے کے پیش نظر متوقع ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ جنوبی امریکا اور افریقہ کے بعض ممالک کے سفارتکاروں کو وادی کے دورے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ان سفارتکاروں کا17رکنی وفد کشمیر آیا تھا اور یہاں فوج کی 15ویں کور ہیڈ کواٹر پر سینئر فوجی قیادت کیساتھ ملاقات کرنے کے علاوہ کئی سیول سوسائٹی،صحافیوں اور دیگر افراد سے علیحد علیحدہ اجتماعی اور انفرادی سطح پر ملاقاتیں کی تھیں۔تاہم غیر ملکی سفیروں کو جموں وکشمیر کا دورہ کرانے پر کانگریس پارٹی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کی تنقید کی تھی۔
دی پرنٹ نے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برسلز میں 13مارچ کو ’ای یو۔انڈیا سمٹ‘ سے قبل یو ر پی یونین کے سفیر کشمیر کا دورہ کرسکتے ہیں۔تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مودی حکومت مذکورہ سفیروں کو سرکاری طور دورے سے متعلق کوئی دعوت نہیں دی ہے،تاہم یور پی یونین کے سفیروں نے کہا ہے کہ وہ اب کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے تیار ہے۔
ایک سفیر نے دی پرنٹ کو بتایا ’ہم کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے تیار ہیں،ہم خطے کی صورتحال کا خود جائزہ لینا چاہتے ہیں،بھارتی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر ہمیں کوئی دعوت نہیں ملی ہے،تاہم ہمیں امید ہے کہ یہ دورہ (ای یو۔انڈیا سمٹ) سے قبل ہوگا‘۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس دورہ کے حوالے سے ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس دورے میں یور پی یونین کے27ممبرممالک کے سفیر شامل ہوں گے یا نہیں۔ایک یو ر پی پونین کے سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتا یا ہے کہ فرانس،جرمنی اور اسپین ممالک کے سفیر دورہ کشمیر کا حصہ ہوسکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دراصل حکومت ہند نے اصولی طور یور پی یونین کے سفارتکاروں کے دورہ کشمیر کا ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے اور یہ دورہ موسم بہار کی آمد پر متوقع ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے یور پی پار لیمنٹ میں کشمیر،سی سی اے پر 6قراردادیں پیش کی گئی تھیں،جن پر بحث کے بعد ووٹنگ تھی،تاہم یورپی یونین کے پارلیمنٹ میں ’سی اے اے‘ سے متعلق قرار داد پر ہونے والی ووٹنگ مارچ تک کیلئے موخر کر دی گئی ہے۔
ووٹنگ کی تاریخ 30جنوری کو رکھی گئی تھی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی 13مارچ کو برسلز میں ہونے والے سمٹ میں شرکت کے پیش نظر یہ ووٹنگ موخر کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی نائب صدر اور امور برائے خارجہ امور و سلامتی کی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ ہیلینا ڈالی کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ آئین کے ساتھ قانون کی تعمیل کا جائزہ لینا بھارتی سپریم کورٹ کا کردار ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یقین ہے کہ ملک میں گذشتہ ہفتوں کے دوران پائے جانے والے تناو اور تشدد کو دور کرنے میں عدالتی کارروائی معاون ثابت ہوگی۔اس دوران 2بھارتی نژاد ارکان پارلیمنٹ نے بھارتی حکومت کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی سے متعلق لوگوں میں صحیح معلومات نہیں ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی نژاد ایم ای پی شفق محمد اور دیگر مثلا ایس اینڈ ڈی کے جان ہاوارتھ اور وی ای آر ٹی ایس /اے ایل ای کے اسکاٹ اینسلی نے سی اے اے کو ایک انتہائی امتیازی سلوک والا قانون بتایا ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ یورپی یونین پارلیمنٹ کے 751ممبروں میں سے 626 ممبران نے دونوں امور پر چھ قراردادیں پیش کی تھیں۔ اس قانون کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔پارلیمنٹ میں اس ہفتہ کے آغاز میں یورپین یونائیٹیڈ لیفٹ نارڈک گرین لیفٹ (جی یو ای/این جی ایل)گروپ نے قراردادیں پیش کیں۔ ہندوستان کی طرف سے اس پرکہا گیا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون مکمل طور سے ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ ہندوستان کو امید ہے کہ اس تعلق سے شہریت ترمیمی قانون پر یورپین یونین کے مسودہ کی حمایت اور اس کا جائزہ لینے کیلئے ہندوستان سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس تجویز میں اقوام متحدہ کے منشور، حقوق انسانی کی آفاقی اعلامیہ کی شق15کے علاوہ2015میں دستخط کئے گئے ہندوستان۔یوروپین یونین اسٹریٹجک پارٹنرشپ جوائنٹ ایکشن پلان اور انسانی حقوق پر یوروپین یونین۔ہندوستان موضوعاتی ڈائیلاگ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس میں ہندوستانی حکام سے اپیل کی گئی کہ وہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنیو الے لوگوں کے ساتھ’مثبت مکالمہ‘کریں اور’امتیازی سلوک والے سی اے اے‘کو منسوخ کرنے کے ان کے مطالبہ پر غور کریں۔قرارد اد میں ہندوستان کے لوگوں کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہریت ترمیمی قانون ملک میں شہریت طے کرنے کے طریقے میں خطرناک تبدیلی کریگا۔ اس میں بغیر شہریت والے لوگوں سے متعلق بڑا بحران پوری دنیا میں پیدا ہوسکتا ہے اور یہ بڑے انسانی مصائب کی وجہ بن سکتا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہندوستان میں مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت یہ ترمیمی قانون لے کر آئی ہے جس کے خلاف پورے ہندوستان میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر24 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا24 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا24 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
