تازہ ترین
کوروناوائرس کا قہر
امریکا سمیت دنیا کے جدید ترین ممالک بھی کورونا سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہو گئے، اٹلی، اسپین، فرانس اور برطانیہ میں ایک ہی روز میں 700 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق امریکا میں بھی ایک ہی روز میں 46 اموات کے بعد مجموعی تعداد155 ہو گئی جب کہ 9ہزار سے زائد افراد بیمار ہیں جن میں دو امریکی اراکین کانگریس بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد سے ملاقات کرنے کے سبب ایک درجن سے زائد امریکی اراکین کانگریس قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔امریکی شہریوں کے لیے 100 ارب ڈالر کا ہنگامی پیکج:عالمگیر وبا کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے باعث امریکا، جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، سعودی عرب، یو اے ای،ہندوستان اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی سینیٹ کی جانب سے شہریوں کی امداد کے لیے100 ارب ڈالر کے منظور بل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دستخط کر دیئے ہیں۔امریکا کینیڈا سرحد بند:امریکا کینیڈا سرحد غیر ضروری سفرکے لیے بند کر دی گئی ہے جب کہ برطانیہ میں حفاظت کے لیے 20ہزار فوجیوں کو تیار رہنیکا حکم دے دیا گیا ہے۔لندن میں لاک ڈاؤن:ایک ہی روز میں 33 افراد کی ہلاکت کے بعد لندن کو لاک ڈاؤن کیے جانے کا امکان ہے۔برطانیہ میں اسکول آج سے بند ہیں جب کہ مساجد نے مسلمانوں سے اپیل کی ہیکہ نماز جمعہ گھر میں پڑھیں۔برطانیہ میں این ایچ ایس، پولیس اور اہم ورکرز کے علاوہ سب گھروں سیکام کریں گے۔برطانوی میڈیا کے مطابق وزارت دفاع 20 ہزار فوجیوں پر مشتمل کورونا وائرس سپورٹ فورس قائم کرے گی، فوج کو سڑکوں، اسپتالوں اور دیگر اہم مقامات پر تعینات جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 150 فوجی اسپتالوں میں آکسیجن کے ٹینکر پہنچانے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، پولیس، جیل کے عملے اور بارڈر فورس کی مدد کے لیے بھی فوجی اہلکار تیاریوں میں مصروف ہیں۔اٹلی میں ایک ہی روز میں 475 افراد ہلاک:اٹلی میں ایک ہی روز میں 475 افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں اموات کی مجموعی تعداد2978 ہو گئی ہیں جب کہ چین میں 8 مزید افراد کی اموات کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد3 ہزار 245 ہو گئی ہے۔ایران میں 1135، اسپین میں 538 اور فرانس میں 264 افراد اب تک موذی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔چین نے کورونا کیلئے بنایا گیا آخری اسپتال بند کر دیا:دنیا میں سب سے پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ملک چین نے کورونا کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر انداز میں کام کیا اور اس پر قابو پانے کے لیے متاثرہ صوبے کو دو ماہ سے قرنطینہ کر رکھا ہے۔چین نے کوورنا وائرس کی روک تھام کے لیے چند دنوں میں 1000 بستروں پر مشتمل اسپتال بھی قائم کیا تھا اور اس کے علاوہ بھی متعدد اسپتال قائم کیے تھے لیکن اب اطلاعات ہیں کہ چین نے کورونا وائرس کے لیے قائم کیا گیا آخری خصوصی اسپتال بند کر دیا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ چھوٹی عمر کے بچوں اور بڑی عمر کے افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے لیکن چین میں ایک103 سالہ خاتون نے کورونا کو شکست دیکر دنیا کو پیغام دیا کہ ہمت اور احتیاط سے کورونا کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔
لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر جرمانہ:فرانس میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر4 ہزار سے زائد افراد پر34 یورو فی کس جرمانہ کیا گیا۔یو اے ای کے وزٹ ویزے منسوخ:گلف نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تمام وزٹ ویزے منسوخ کر دیئے ہیں، متعدد سیاح وزٹ ویزوں پر دبئی پہنچے تو انہیں واپس بھیج دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 17 مارچ سے وزٹ ویزوں کے اجراء پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔نیدرلینڈ کے وزیر صحت بے ہوش:نیدرلینڈ کے وزیر صحت پارلیمنٹ میں بے ہوش ہو کر گر پڑے۔وزیر صحت کا کہنا تھا کہ کورونا وائرسں سے نمٹنے کے لیے کام کا شدید دباؤ تھا، اب بہتر محسوس کر رہا ہوں، کل سے دوبارہ کام پر جاؤں گا۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد300 سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ2 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔عالمی بینک نے امدادی پیکج بڑھا دیا:کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر عالمی بینک نے امدادی پیکج 6 ارب ڈالر سے بڑھا کر14 ارب ڈالر کر دیا ہے۔متاثرہ افراد کی تعداد 2لاکھ20 ہزار کے قریب:دنیا بھر میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد8 ہزار 967 ہو گئی ہے جب کہ173 ممالک میں متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 19 ہزار 345 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 85 ہزار سے زائد افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔
دنیا
ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل میں مصروف نہیں ہیں اور جب تک واشنگٹن انتظامیہ متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے عراقچی نے امریکہ کے ساتھ رابطوں اورآبنائے ہرمز کے حوالے سے بیان دیا۔
فریقین کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، “اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ کسی بات چیت میں نہیں ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر اسے مذاکرات کہنا درست نہیں۔”
عراقچی نے کہا کہ ثالث دوبارہ باہمی سمجھ بوجھ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے امریکہ کو متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا، “جب تک مفاہمت ِیادداشت کی خلاف ورزیاں ختم نہیں ہوتیں اور امریکہ نے متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کیا، مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ممکن نہیں۔”
ہرمز کے سلسلے میں عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے اعادہ کیا اس ملک کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔اس کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونی چاہئیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان5 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا8 minutes agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
