تازہ ترین
میچ فکسنگ کی کہانی، مشکوک میچز کی زبانی
نوے کی دہائی کو اگر پاکستان کرکٹ کی سب سے کامیاب دہائی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ 1992 کا ورلڈ کپ ہو یا 1996 میں کھیلا گیا تین ملکی ورلڈ سیریز ٹورنامنٹ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے۔
یہی وہ وقت تھا جب میچ فکسنگ نے پاکستان کرکٹ کو دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا۔ اُس زمانے میں ایک دو نہیں بلکہ کئی میچز ایسے بھی کھیلے گئے جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی غیر معیاری سے بھی نیچے رہی۔
ان دنوں 1994 میں کھیلے گئے ایسے ہی ایک میچ کا ذکر ہو رہا ہے جس میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 28 رنز سے شکست دی تھی۔
میچ میں سعید انور اور باسط علی سمیت کئی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر لوگوں نے انگلیاں اٹھائی تھیں لیکن ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے یہ میچ ایک شکست سے زیادہ کچھ نہ رہا تھا۔
اسی دہائی کے چند مشکوک میچز پر نظر ڈالتے ہیں جس میں میچ پاکستان کبھی جیتا کبھی ہارا۔ ان میچز کے حیران کن نتائج کی وجہ سے شائقین کرکٹ کو یہ مقابلے آج بھی یاد ہیں۔
یہ وہی میچز ہیں جو ان دنوں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں اور بعض سابق کرکٹرز ان میں سے بعض میچز کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔
سنگر کپ (کولمبو، ستمبر 1994)
سنگر کپ کے دوسرے میچ میں ایک طرف اس وقت کی عالمی چیمپئن ٹیم پاکستان تھی تو دوسری جانب اسٹارز سے بھری آسٹریلوی ٹیم۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان سلیم ملک نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دی۔
وسیم اکرم اور مشتاق احمد کی تباہ کن بالنگ کے سامنے آسٹریلوی ٹیم صرف سات وکٹ کے نقصان پر 179 رنز ہی بنا سکی۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی توقعات کے برعکس رہی۔
سعید انور نے میچ میں 46 رنز تو بنائے لیکن رنر کی اجازت ہونے کے باوجود وہ ایک بار فیلڈ چھوڑ کر گئے، جس سے پاکستانی ٹیم کو شدید دھچکا لگا۔ 43 رنز کے انفرادی اسکور پر انہوں نے کریمپس کی وجہ سے باہر جانے کو ترجیح دی اور واپس آ کر اپنے اسکور میں صرف تین رنز کا اضافہ کر سکے۔
اسی طرح انضمام الحق نے 69 گیندوں پر صرف 29 رنز اور کپتان سلیم ملک نے 51 گیندوں پر صرف 22 رنز بنا کر میچ پر پاکستان کی گرفت کو مزید کمزور کیا۔ آصف مجتبیٰ انجری کی وجہ سے بیٹنگ نہ کر سکے۔
گلین میک گراتھ کی گیند پر وسیم اکرم کے بولڈ ہونے سے زیادہ باسط علی کے آؤٹ ہونے پر شائقین کو غصہ آیا۔ انہوں نے 13 گیندوں کا سامنا کیا لیکن کوئی رن نہیں بنایا اور شین وارن کے ہاتھوں انہی کی بال پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
پاکستان ٹیم 180 رنز کے تعاقب میں 9 وکٹ پر صرف 151 رنز ہی بنا سکی۔
کراچی ٹیسٹ (ستمبر-اکتوبر 1994)
سنگر کپ کے فائنل میں تو نہ پاکستان پہنچا اور نہ ہی آسٹریلیا نے جگہ بنائی۔ سیریز کے فوراً بعد آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ وہی دورہ تھا جس میں آسٹریلوی کھلاڑی شین وارن، مارک وا اور ٹم مے نے مبینہ طور پر سلیم ملک پر الزام لگایا کہ انہوں نے خراب کارکردگی دکھانے کے لیے اُنہیں مالی پیشکش کی تھی۔
لیکن پہلے میچ کے نتیجے سے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے میچ یا تو قسمت کی مہربانی سے جیتا یا این ہیلی کی نادانی سے۔ 314 رنز کے تعاقب میں میزبان ٹیم نے آخری دن کا آغاز تین وکٹ کے نقصان پر 155 رنز سے کیا۔ یکے بعد دیگرے وکٹیں گر جانے کے باعث میچ میں آسٹریلیا کی پوزیشن مضبوط ہو گئی تھی۔
جب نمبر 11 بیٹسمین مشتاق احمد نے کریز پر انضمام الحق کو جوائن کیا تب بھی پاکستان کو جیت کے لیے مزید 57 رنز درکار تھے، ایسے میں دونوں کھلاڑیوں نے زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے شین وارن کو مزید وکٹیں نہ لینے دیں، بلکہ پاکستان کو جیت سے ہمکنار بھی کروایا۔
انضمام الحق کے 58 ناٹ آؤٹ اور مشتاق احمد کے ناقابل شکست 20 رنز نے پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ میچ کے آخری لمحات میں این ہیلی جیسے مستند وکٹ کیپر کا ایک آسان اسٹمپنگ چھوڑنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کہیں سلیم ملک کی پیشکش میں کوئی چوتھا کھلاڑی تو شامل نہیں تھا؟ اس بات کا جواب یا تو این ہیلی دے سکتے ہیں یا سلیم ملک خود۔
ہرارے ٹیسٹ (جنوری، فروری 1995)
جس زمانے میں سلیم ملک نے پاکستان ٹیم کی قیادت کی، اس دوران پاکستان ٹیم نے کئی فتوحات اپنے نام کیں۔ ان کی شکستوں کا تناسب جتنا کم تھا اتنا ہی حیران کن بھی۔
جنوری 1995 میں پاکستان ٹیم نے زمبابوے کا دورہ کیا جہاں پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سیریز کے باقی دونوں میچز جیت کر کپتان سلیم ملک نے سیریز تو اپنے نام کر لی لیکن پہلے میچ میں شکست کو شائقین کرکٹ آج تک نہیں بھلا سکے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے زمبابوے کی ٹیم نے کبھی کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا تھا اور ایک ایسی ٹیم نے پاکستان جیسی مضبوط سائیڈ کو ایک اننگز اور 64 رنز سے شکست دی۔ نہ صرف گرانٹ فلاور نے 201 ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی، بلکہ ان کے بڑے بھائی اینڈی فلاور اور گائے ویٹل نے سنچریاں بھی اسکور کیں۔
میچ میں پاکستانی بالرز صرف چار کھلاڑیوں کو ہی آؤٹ کرسکے جب کہ ایک ہی باری میں میزبان ٹیم نے 544 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کیا۔ پہلی اننگز میں گرین شرٹس نے 322 رنز بنائے جس کے بعد انہیں فالو آن کا سامنا کرنا پڑا، دوسری اننگز میں ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی اور پوری ٹیم 158 رنز ہی بنا سکی۔
پاکستان بمقابلہ بھارت (ورلڈ کپ 96)
ہم بھول گئے ہر بات، مگر یہ میچ نہیں بھولے
اگر ورلڈ کپ 1996 کے اس کوارٹر فائنل کے بارے میں شاعر شعر کہتا تو کچھ یوں ہی کہتا۔
کپتان وسیم اکرم کا اتنے اہم میچ سے قبل باہر بیٹھ جانا، جاوید میانداد کی جگہ ناتجربہ کار اور غصے کے تیز عامر سہیل سے کپتانی کرانا۔ آخری اوورز میں پاکستانی بالرز کی پٹائی اور انضمام الحق اور اعجاز احمد کی ناقص کارکردگی۔ یہ تمام باتیں آج 24 سال گزرنے کے باوجود بھی لوگوں کو یاد ہیں۔
بھارتی ٹیم نے 42ویں اوور میں 200 کا ہندسہ عبور کیا تھا۔ تب تک میچ پاکستان کی گرفت میں تھا لیکن اجے جڈیجا نے وقار یونس اور عاقب جاوید کے سامنے آخری اوورز میں ایسے بیٹنگ کی جیسے وہ گلی محلے کے بالرز ہوں۔ جواب میں پاکستان نے 288 رنز کا تعاقب بہترین انداز میں کیا۔ صرف 10 اوورز میں 84 رنز بنالیے۔
پہلے سعید انور 32 گیندوں پر 48 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اور اس کے بعد جارح مزاج کپتان کی جارح مزاجی اُنہیں لے ڈوبی۔ نہ عامر سہیل باؤنڈری مارنے کے بعد وینکٹیش پرساد کو اشارہ کرتے اور نہ ہی پرساد انہیں اگلی گیند پر واپس پویلین بھیجتے۔
ایسے جارحانہ آغاز کے بعد اعجاز احمد اور انضمام الحق کا 23 اور 20 گیندوں پر 12، 12 رنز بنا کر آؤٹ ہونا بھی حیران کن تھا۔
کلکتہ کے ہیرو سلیم ملک اور اپنا آخری میچ کھیلنے والے جاوید میانداد نے 38، 38 رنز بناکر ٹیم کو سہارا دیا۔ لیکن جب ایک کپتان مبینہ انجری کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہو اور دوسرا اپنے غصے کی وجہ سے پویلین میں، تو اس ٹیم کا کوارٹر فائنل جیتنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔
پاکستان ٹیم 39 رنز سے شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہوئی لیکن شائقین کرکٹ آج تک اس شکست کو دل و دماغ سے نہیں نکال سکے۔
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ (ستمبر 1996)
پاکستان کرکٹ ٹیم نے 1996 میں انگلینڈ کا دورہ کیا اور ٹیسٹ سیریز میں کامیابی اپنے نام کی۔ ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچز میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی اور سیریز وائٹ واش کے لیے انہیں صرف ایک جیت درکار تھی۔
تیسرے میچ میں پاکستان نے نئے کھلاڑیوں شاہد انور اور شاہد نذیر کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔
نک نائٹ کی مسلسل دوسری سنچری کی وجہ سے انگلینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 246 رنز اسکور کیے۔ اپنا تیسرا ون ڈے کھیلنے والے نائٹ نے 125 رنز بنا کر بیٹ کیری کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ کپتان وسیم اکرم تین وکٹوں کے ساتھ سب سے نمایاں بالر رہے۔ پہلا میچ کھیلنے والے شاہد نذیر، وقار یونس اور ثقلین مشتاق نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز شاندار رہا۔ پہلی وکٹ کی شراکت میں سعید انور اور ڈیبیو کرنے والے شاہد انور نے 93 رنز جوڑے۔ سعید انور 61 اور شاہد کے 37 رنز کے بعد اعجاز احمد نے 59 رنز بنا کر ٹیم کو سہارا دیا۔
اس کے بعد عامر سہیل، شاداب کبیر، آصف مجتبی اور وسیم اکرم کے جلد آؤٹ ہوجانے کی وجہ سے ٹیم مشکلات کا شکار ہوئی۔ ایسے میں وکٹ کیپر راشد لطیف نے 28 گیندوں پر 31 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر نہ صرف پاکستان کو وائٹ واش سے بچایا بلکہ ایک یادگار جیت میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔
میچ کے بعد راشد لطیف کے تھمبز ڈاؤن اشارے پر کئی لوگوں نے تبصرہ کیا جس میں بعض کا خیال تھا کہ یہ اشارہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو تنبیہ تھی۔
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ (شارجہ کپ، دسمبر 1997)
سنہ 1997 کے اواخر میں شارجہ میں ڈے نائٹ کرکٹ کا میلہ پہلی بار سجا۔ ٹورنامنٹ میں پاکستان، ویسٹ انڈیز، بھارت اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔
انگلینڈ نے ایونٹ میں ایڈم ہولی اوک کی قیادت میں جو ٹیم بھیجی اس میں زیادہ تر آل راؤنڈرز شامل تھے۔ ڈگی براؤن، ڈین ہیڈلے، میتھیو فلیمنگ اور مارک ایلھم جیسے کرکٹرز پر مشتمل ٹیم کا سامنا جب پاکستان ٹیم کے پسندیدہ گراؤنڈ پر گرین شرٹس سے ہوا تو سب کو لگا کہ میچ پاکستان ہی جیتے گا۔
ایک نہایت ہی آسان میچ کو کپتان وسیم اکرم نے اس وقت مشکل بنادیا جب ٹیم جیت کے قریب تھی۔ 216 رنز کے تعاقب میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے چار وکٹ کے نقصان پر 99 رنز بنا لیے تھے۔ ایسے میں ان فارم بیٹسمین اظہر محمود کی جگہ کپتان نے پہلے ناتجربہ کار اختر سرفراز کو بھیجا۔
اس کے بعد منظور اختر بیٹنگ کے لیے آئے۔ دونوں نوجوانوں نے 20 اور 44 رنز بناکر ٹیم کو سہارا تو دیا لیکن کافی گیندیں ضائع کردیں۔ ان کی جگہ اظہر محمود کو بھیج دیا جاتا تو بہتر ہوتا کیونکہ کچھ ماہ قبل ہی انہوں نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں تین سنچریاں اسکور کی تھیں جس میں سینچری آن ڈیبیو بھی شامل تھی۔
ان دونوں نوجوان کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد وکٹ کیپر معین خان اور کپتان وسیم اکرم نے نہایت سلو بیٹنگ کی اور میچ کو پاکستان کی گرفت سے دور کر دیا۔
معین خان نے 19 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 10 جب کہ وسیم اکرم نے اتنی ہی گیندیں کھیل کر صرف چار رنز اسکور کیے۔ اظہر محمود نے آخری اوورز میں نو گیندوں پر 12 رنز بنا کر ٹیم کو میچ میں واپس لانے کی کوشش تو کی، لیکن پوری ٹیم 49ویں اوور میں 207 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی۔
انگلینڈ نے یہ میچ باآسانی آٹھ رنز سے جیت لیا۔ 19 گیندوں پر چار رنز بنانے پر وسیم اکرم کے فینز نے اُنہیں آج تک معاف نہیں کیا۔
پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا (ورلڈ کپ 1999، فائنل)
پاکستان کرکٹ ٹیم نے 90 کی دہائی کا پہلا ورلڈ کپ جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا لیکن گرین شرٹس اس صدی کا اختتام کامیابی سے نہ کر سکے۔
میگا ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ میں پے درپے اپ سیٹ شکستوں کے بعد جب سیمی فائنل میں پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھائی تو سب لوگ بھول گئے کہ یہی ٹیم بنگلہ دیش اور بھارت سے شکست کھا چکی ہے۔
فائنل میں شرمناک شکست کے بعد شائقین کرکٹ نے تینوں میچز پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں اور آج بھی 1999 کے ورلڈ کپ میں جن میچوں میں پاکستان کو شکست ہوئی ان پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔
فائنل میچ کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا جس میں کپتان کا ٹاس جیت کر اوور کاسٹ کنڈیشنز میں پہلے بیٹنگ کرنا۔ ان فارم یوسف یوحنا کو نہ کھلانا، میچ کے دوران سعید انور کا بیٹ کی گرپ بدلنا اور اس کے چند لمحوں بعد آؤٹ ہوجانا، قابل ذکر ہیں۔
اسی ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں یوسف یوحنا نے صرف 16 گیندوں پر 29 رنز اسکور کیے تھے اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف 81 رنز کی ناقابل شکست اننگز بھی کھیل چکے تھے۔ انہیں فائنل میں نہ کھلانا زیادتی تھی خاص طور پر اس وقت جب فائنل الیون میں موجود بلے بازوں نے آہستہ بیٹنگ کی۔
اعجاز احمد نے 46 گیندوں پر 22 رنز اسکور کیے تھے۔ انضمام الحق نے 33 گیندوں پر 15 رنز بنائے جس کے بعد انہیں امپائر ڈیوڈ شیپرڈ نے غلط آؤٹ دیا۔ نوجوان آل راؤنڈر عبدالرزاق جنہیں کپتان نے نمبر تین پر بھیجا تھا 51 گیندوں پر صرف 17 رنز اسکور کر سکے۔
پوری پاکستانی ٹیم کا صرف 132 پر آؤٹ ہونا اور پھر مخالف ٹیم کا 21ویں اوور میں دو وکٹ کے نقصان ہر ٹارگٹ حاصل کرلینا، اس میچ کو نوے کی دہائی کا سب سے مشکوک میچ بناتا ہے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا18 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر18 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا23 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا22 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان20 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا18 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
