تازہ ترین
آہ!!! روشن چراغوں کے بجھنے کا سلسلہ جاری ہے! (مقامِ افسوس )
تحریر: جاوید اختر بھارتی
کل نفسٍ ذائقۃالموت ہر ذی روح کو موت کا سامنا کرنا ہے، ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، جو اس دنیا میں آیا اسے ایک دن جاناہی جانا ہے کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے جس کا جب وقت پورا ہوگیا تو اب موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص بہت جلدی چلا گیا جیسے لگتا ہے کہ انہیں جانے والے شخص کی زندگی کے ایام کا پتہ تھا کہ کہہ رہا ہے کہ بڑی جلدی چلا گیا،، اسی طرح بعض لوگ کہدیتے ہیں کہ فلاں شخص وقت سے پہلے ہی چلا گیا حالانکہ اس طرح کے جملے کا استعمال قطعی طور پر نہیں کرنا چاہیے،، کوئی بھی شخص وقت سے پہلے نہیں جاتا جتنی سانسیں، جتنا کھانا پینا، جتنا جس سے ملنا جلنا، جتنی گفت و شنید کرنا، جتنا سونا جاگنا، جتنا چلناپھرنا اس کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے اور جن جن مراحل سے گزرنا بھی لکھا ہوتا ہے ان ساری منزلوں سے موت کی آخری ہچکی سے قبل گذر لیتا ہے-
ہاں اب وقت پورا ہوگیا پیر سے جان کا نکلنا شروع ہوگیا تو اب زندگی میں اضافے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بڑے سے بڑا ڈاکٹر، سرجن، طبیب چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کا ہو وہ موت سے نہ کسی کو بچا سکتا ہے اور نہ ہی خود بچ سکتا ہے یہاں تک کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ماں حضرت مریم کی روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل علیہ السلام جب آئے تو حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل میں پھل لینے کے لئے گئے ہوئے تھے اس لیے کہ انکی والدہ حضرت مریم روزے سے تھیں حضرت مریم نے کہا کہ اے عزرائیل تھوڑا ٹھہر جاؤ میرا بیٹا جنگل میں میرے افطار کے لئے پھل لینے گیا ہوا ہے وہ جب واپس آجائے تو روح قبض کرنا تو عزرائیل نے کہا کہ اے مریم تیرا بیٹا جنگل سے آئے کہ نہ آئے مجھے اس سے مطلب نہیں مجھے تو بس وقت کا انتظار ہے جتنا وقت باقی ہے اتنے میں تم مجھ سے بات کررہی ہو اور میں تم سے بات کررہا ہوں جیسے ہی وقت پورا ہوگا یعنی وقت مقررہ پر میں روح قبض کرلونگا میں تمہارے بیٹے کی واپسی کا انتظار نہیں کروں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل سے اپنی والدہ مریم کے روزہ افطار کیلئے پھل لیکر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ماں کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی ہے حضرت مریم کا انتقال ہو چکا ہے –
حضرت مریم نیک اور صالح مقدس ترین عورت تھیں، ایک نبی کی ماں تھیں انکو ملک الموت سے کچھ بات کرنے کا موقع بھی مل گیا اور یہ اعزاز بالخصوص انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ رب العالمین کی عطا سے حاصل تھا کہ انکے اور ملک الموت کے مابین گفتگو بھی ہوجاتی تھی ہمیں تو وہ بھی اختیار نہیں پھر بھی نہ جانے کیوں موت سے غافل ہیں کم از کم 2020 کے حالات پر غور کرتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، موت کو یاد کرنے کی ضرورت ہے، موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے، کسی کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیتے ہوئے یہ تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے تو نہلا دیا گیا، کفنا دیا گیا، دفنا دیا گیا کیا معلوم ہمیں نہلانے، کفن پہنانے اور دفنانے والا کوئی ہوگا بھی کہ نہیں،، نہ جانے کہاں کب اور کس حال میں موت ہوگی یہ صرف اور صرف اللہ ہی کو معلوم ہے-
پوری دنیا میں کرونا وائرس جیسی خطرناک بیماری پھیلی ہوئی ہے مساجد کے دروازے بھی عام طور پر بند ہیں، بیچ بیچ میں حرم شریف کے دروازے بھی بند ہوجارہے ہیں یہ ایک مسلمان کے لئے بد قسمتی کی بات نہیں تو اور کیا ہے،، اس بیماری کو کبھی مذہبی رنگ دیا جاتا ہے تو کبھی علاقائیت کا رنگ دیا جاتا ہے کبھی کبھی سیاسی رنگ بھی دیا جاتا ہے،، رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ گذر گیا، عید الفطر یوم الجزا جیسا خوشی کا تہوار بھی گذر گیا اور اب سنت ابراہیمی کی ادائیگی عید الاضحٰی کا تہوار بھی گذرگیا اسی طرح آج ایک انسان بند مٹھی لئے پیدا ہوا کل کھلا ہاتھ لئے دنیا سے گذر جائے گا،، آج کے حالات کہہ رہے ہیں کہ موبائلوں میں گیم کھیلنے کا وقت نہیں ہے، ایک دوسرے کے ساتھ حقتلفی کرنے کا وقت نہیں ہے، لعن و طعن کرنے کا وقت نہیں ہے، غرباء اور فقراء و مساکین کا مذاق اڑانے کا وقت نہیں ہے، غیروں کے طور طریقے دیکھ کر خوش ہونے اور غیروں کا طریقہ اپنانے کا وقت نہیں ہے بلکہ ہر سال حرم میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی خوشحالی، کامیابی و ترقی اور جان و مال کے تحفظ کی دعا ہوتی ہے پھر بھی پوری دنیا میں مسلمان ذلیل و خوار کیوں ہورہا ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، ہر سال فلسطین کے حق میں دعا ہوتی ہے پھر بھی موجودہ وقت میں گوگل سے فلسطین کا نام غائب کیوں کردیا گیا؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، جس ملک میں ہم ہزار سال کے قریب حکمراں رہے اس ملک میں ہماری شناخت مٹتی جارہی ہے سیاسی طور پر ہماری کیوں کوئی پہچان نہیں ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، مذہبی معاملات میں کل تک ہمیں صرف اسلام کی گائیڈ لائن نظر آتی تھی اور اسی کے مطابق ہم اپنے مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتے تھے اور آج ہم مختلف تہواروں کے موقع پرحکومت سے گائیڈ لائن جاری کرنے کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں؟ یہ سوچنے کا وقت ہے-
اور مزید یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کہیں ہمارا رب ہم سے ناراض تو نہیں ہے اس لئے کہ جہاں 2020 میں پوری دنیا مختلف مراحل سے گزر رہی ہے وہیں دنیا سے روشن چراغ بجھتے جارے ہیں، آسمانِ خطابت کے بدر منیر گذرتے جارے ہیں، فصاحت و بلاغت کے ماہ مستنیر داعی اجل کو لبیک کہتے جارہے ہیں، بڑے بڑے محدثین، مفکرین، مبصرین، مقررین سفرِ آخرت پر روانہ ہوتے جا رہے ہیں، خانقاہوں اور درسگاہوں سے بھی معتبر قسم کے پیر و بزرگ اللہ کو پیارے ہوتے جا رہے ہیں-
خود ہمارے ہندوستان کی بڑی بڑی درسگاہوں کی مسند پر جلوہ افروز ہونے والے بڑے بڑے علماء کرام و مفتیانِ عظام کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کا سلسلہ جاری ہے تین مہینے کے اندر اندر بہت ہی عظیم عظیم ہستیاں اس دنیا سے گذر گئیں اور یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے ایک عالم دین کا انتقال ہوتا ہے ابھی اس کی نسبت سے تعزیتی پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے، تعزیتی بیانات و پیغامات کا سلسلہ رکتا بھی نہیں ہے کہ پھر کسی بڑے بزرگ اور زبردست عالم دین کی رحلت کی خبر اجاتی ہے ان علماء کرام کے انتقال سے آبادیوں کی رونقیں ختم ہو رہی ہیں درس و تدریس کے میدان میں خلا پیدا ہورہا ہے، ملت اسلامیہ کا نا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے اور ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہورہاہے جو مستقبل قریب میں پر ہونا ناممکن سا محسوس ہورہا ہے یعنی 2020 عام الحزن غم کا سال ثابت ہورہا ہے –
کچھ ایسے عالم دین اس دار فانی سے کوچ کرتے جا رہے ہیں کہ یہ کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ اب عالم اسلام کی بہتر رہنمائی کیسے ہوگی، اصلاح معاشرہ کی تحریک کیسے چلے گی اس لئے کہ وہ عالم جو ریڈیمیڈ طریقہ اپنائے ہوئے ہیں جو تقریر و تحریر کو صرف ایک فن سمجھ کر مبالغہ آرائی کی پیچ پر دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف دولت کمانا مقصد سمجھتے ہیں، جو اختلافات کی رسیوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی مہم چلاتے ہیں، کھچڑی میں انگلیاں ڈال کر جنت کی شہد اور دودھ کی نہروں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن کھچڑی کا سارا گھی اپنے حصے میں کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ایسے لوگوں سے تو دین کا بھلا ہونے والا نہیں ہے –
ہاں افسوس اس بات کا ہے کہ جن علماء کرام کے مواعظِ حسنہ سے لوگوں کے قلوب منور ہوتے ہیں ، جن سے درسگاہوں کا اور درس و تدریس کا معیار بلند ہوتا ہے، جن کا احترام لوگ کبھی کبھی مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کرتے ہیں ایسے باوقار اور قابل احترام علماء کرام کی مسلسل اموات کی خبر سننا یہ سوچنے کیلئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ اب دنیا اچھے لوگوں سے خالی ہورہی ہے آنے والا وقت مزید خراب ہوسکتا ہے سماج معاشرہ، سوسائٹی میں نیک نیتی کے ساتھ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے، اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ جگمگاتے ہوئے روشن ستارے یوں ہی دنیا سے جاتے رہے اور ہم اس سے سبق حاصل نہ کرسکے تو کل ہمیں سبق دینے والا کوئی نہیں ہوگا آج ضرورت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ یوں تو سب کو موت کا مزا چکھنا ہی چکھنا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے معتقدین بڑھتے جاتے ہیں ہم زندہ ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ کوئی دو قدم چلنے کو تیار نہیں اور وہ قبر میں ہیں پھر بھی عقیدت کا احترام و محبت کا مرکز بنے ہوئے ہیں اسی کو کہا جاتا ہے کہ فنا ہونا اور بات ہے فنا فی اللہ ہونا اور بات ہے –
مصنف:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو یو پی
برائے رابطہ 8299579972 ، javedbharti508@gmail.com
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
