تازہ ترین
آہ!!! روشن چراغوں کے بجھنے کا سلسلہ جاری ہے! (مقامِ افسوس )
تحریر: جاوید اختر بھارتی
کل نفسٍ ذائقۃالموت ہر ذی روح کو موت کا سامنا کرنا ہے، ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، جو اس دنیا میں آیا اسے ایک دن جاناہی جانا ہے کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے جس کا جب وقت پورا ہوگیا تو اب موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص بہت جلدی چلا گیا جیسے لگتا ہے کہ انہیں جانے والے شخص کی زندگی کے ایام کا پتہ تھا کہ کہہ رہا ہے کہ بڑی جلدی چلا گیا،، اسی طرح بعض لوگ کہدیتے ہیں کہ فلاں شخص وقت سے پہلے ہی چلا گیا حالانکہ اس طرح کے جملے کا استعمال قطعی طور پر نہیں کرنا چاہیے،، کوئی بھی شخص وقت سے پہلے نہیں جاتا جتنی سانسیں، جتنا کھانا پینا، جتنا جس سے ملنا جلنا، جتنی گفت و شنید کرنا، جتنا سونا جاگنا، جتنا چلناپھرنا اس کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے اور جن جن مراحل سے گزرنا بھی لکھا ہوتا ہے ان ساری منزلوں سے موت کی آخری ہچکی سے قبل گذر لیتا ہے-
ہاں اب وقت پورا ہوگیا پیر سے جان کا نکلنا شروع ہوگیا تو اب زندگی میں اضافے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بڑے سے بڑا ڈاکٹر، سرجن، طبیب چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کا ہو وہ موت سے نہ کسی کو بچا سکتا ہے اور نہ ہی خود بچ سکتا ہے یہاں تک کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ماں حضرت مریم کی روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل علیہ السلام جب آئے تو حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل میں پھل لینے کے لئے گئے ہوئے تھے اس لیے کہ انکی والدہ حضرت مریم روزے سے تھیں حضرت مریم نے کہا کہ اے عزرائیل تھوڑا ٹھہر جاؤ میرا بیٹا جنگل میں میرے افطار کے لئے پھل لینے گیا ہوا ہے وہ جب واپس آجائے تو روح قبض کرنا تو عزرائیل نے کہا کہ اے مریم تیرا بیٹا جنگل سے آئے کہ نہ آئے مجھے اس سے مطلب نہیں مجھے تو بس وقت کا انتظار ہے جتنا وقت باقی ہے اتنے میں تم مجھ سے بات کررہی ہو اور میں تم سے بات کررہا ہوں جیسے ہی وقت پورا ہوگا یعنی وقت مقررہ پر میں روح قبض کرلونگا میں تمہارے بیٹے کی واپسی کا انتظار نہیں کروں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام جنگل سے اپنی والدہ مریم کے روزہ افطار کیلئے پھل لیکر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ماں کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی ہے حضرت مریم کا انتقال ہو چکا ہے –
حضرت مریم نیک اور صالح مقدس ترین عورت تھیں، ایک نبی کی ماں تھیں انکو ملک الموت سے کچھ بات کرنے کا موقع بھی مل گیا اور یہ اعزاز بالخصوص انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ رب العالمین کی عطا سے حاصل تھا کہ انکے اور ملک الموت کے مابین گفتگو بھی ہوجاتی تھی ہمیں تو وہ بھی اختیار نہیں پھر بھی نہ جانے کیوں موت سے غافل ہیں کم از کم 2020 کے حالات پر غور کرتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، موت کو یاد کرنے کی ضرورت ہے، موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے، کسی کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیتے ہوئے یہ تصور کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے تو نہلا دیا گیا، کفنا دیا گیا، دفنا دیا گیا کیا معلوم ہمیں نہلانے، کفن پہنانے اور دفنانے والا کوئی ہوگا بھی کہ نہیں،، نہ جانے کہاں کب اور کس حال میں موت ہوگی یہ صرف اور صرف اللہ ہی کو معلوم ہے-
پوری دنیا میں کرونا وائرس جیسی خطرناک بیماری پھیلی ہوئی ہے مساجد کے دروازے بھی عام طور پر بند ہیں، بیچ بیچ میں حرم شریف کے دروازے بھی بند ہوجارہے ہیں یہ ایک مسلمان کے لئے بد قسمتی کی بات نہیں تو اور کیا ہے،، اس بیماری کو کبھی مذہبی رنگ دیا جاتا ہے تو کبھی علاقائیت کا رنگ دیا جاتا ہے کبھی کبھی سیاسی رنگ بھی دیا جاتا ہے،، رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ گذر گیا، عید الفطر یوم الجزا جیسا خوشی کا تہوار بھی گذر گیا اور اب سنت ابراہیمی کی ادائیگی عید الاضحٰی کا تہوار بھی گذرگیا اسی طرح آج ایک انسان بند مٹھی لئے پیدا ہوا کل کھلا ہاتھ لئے دنیا سے گذر جائے گا،، آج کے حالات کہہ رہے ہیں کہ موبائلوں میں گیم کھیلنے کا وقت نہیں ہے، ایک دوسرے کے ساتھ حقتلفی کرنے کا وقت نہیں ہے، لعن و طعن کرنے کا وقت نہیں ہے، غرباء اور فقراء و مساکین کا مذاق اڑانے کا وقت نہیں ہے، غیروں کے طور طریقے دیکھ کر خوش ہونے اور غیروں کا طریقہ اپنانے کا وقت نہیں ہے بلکہ ہر سال حرم میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی خوشحالی، کامیابی و ترقی اور جان و مال کے تحفظ کی دعا ہوتی ہے پھر بھی پوری دنیا میں مسلمان ذلیل و خوار کیوں ہورہا ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، ہر سال فلسطین کے حق میں دعا ہوتی ہے پھر بھی موجودہ وقت میں گوگل سے فلسطین کا نام غائب کیوں کردیا گیا؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، جس ملک میں ہم ہزار سال کے قریب حکمراں رہے اس ملک میں ہماری شناخت مٹتی جارہی ہے سیاسی طور پر ہماری کیوں کوئی پہچان نہیں ہے؟ یہ سوچنے کا وقت ہے،، مذہبی معاملات میں کل تک ہمیں صرف اسلام کی گائیڈ لائن نظر آتی تھی اور اسی کے مطابق ہم اپنے مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتے تھے اور آج ہم مختلف تہواروں کے موقع پرحکومت سے گائیڈ لائن جاری کرنے کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں؟ یہ سوچنے کا وقت ہے-
اور مزید یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کہیں ہمارا رب ہم سے ناراض تو نہیں ہے اس لئے کہ جہاں 2020 میں پوری دنیا مختلف مراحل سے گزر رہی ہے وہیں دنیا سے روشن چراغ بجھتے جارے ہیں، آسمانِ خطابت کے بدر منیر گذرتے جارے ہیں، فصاحت و بلاغت کے ماہ مستنیر داعی اجل کو لبیک کہتے جارہے ہیں، بڑے بڑے محدثین، مفکرین، مبصرین، مقررین سفرِ آخرت پر روانہ ہوتے جا رہے ہیں، خانقاہوں اور درسگاہوں سے بھی معتبر قسم کے پیر و بزرگ اللہ کو پیارے ہوتے جا رہے ہیں-
خود ہمارے ہندوستان کی بڑی بڑی درسگاہوں کی مسند پر جلوہ افروز ہونے والے بڑے بڑے علماء کرام و مفتیانِ عظام کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کا سلسلہ جاری ہے تین مہینے کے اندر اندر بہت ہی عظیم عظیم ہستیاں اس دنیا سے گذر گئیں اور یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے ایک عالم دین کا انتقال ہوتا ہے ابھی اس کی نسبت سے تعزیتی پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے، تعزیتی بیانات و پیغامات کا سلسلہ رکتا بھی نہیں ہے کہ پھر کسی بڑے بزرگ اور زبردست عالم دین کی رحلت کی خبر اجاتی ہے ان علماء کرام کے انتقال سے آبادیوں کی رونقیں ختم ہو رہی ہیں درس و تدریس کے میدان میں خلا پیدا ہورہا ہے، ملت اسلامیہ کا نا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے اور ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہورہاہے جو مستقبل قریب میں پر ہونا ناممکن سا محسوس ہورہا ہے یعنی 2020 عام الحزن غم کا سال ثابت ہورہا ہے –
کچھ ایسے عالم دین اس دار فانی سے کوچ کرتے جا رہے ہیں کہ یہ کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ اب عالم اسلام کی بہتر رہنمائی کیسے ہوگی، اصلاح معاشرہ کی تحریک کیسے چلے گی اس لئے کہ وہ عالم جو ریڈیمیڈ طریقہ اپنائے ہوئے ہیں جو تقریر و تحریر کو صرف ایک فن سمجھ کر مبالغہ آرائی کی پیچ پر دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف دولت کمانا مقصد سمجھتے ہیں، جو اختلافات کی رسیوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی مہم چلاتے ہیں، کھچڑی میں انگلیاں ڈال کر جنت کی شہد اور دودھ کی نہروں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن کھچڑی کا سارا گھی اپنے حصے میں کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ایسے لوگوں سے تو دین کا بھلا ہونے والا نہیں ہے –
ہاں افسوس اس بات کا ہے کہ جن علماء کرام کے مواعظِ حسنہ سے لوگوں کے قلوب منور ہوتے ہیں ، جن سے درسگاہوں کا اور درس و تدریس کا معیار بلند ہوتا ہے، جن کا احترام لوگ کبھی کبھی مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کرتے ہیں ایسے باوقار اور قابل احترام علماء کرام کی مسلسل اموات کی خبر سننا یہ سوچنے کیلئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ اب دنیا اچھے لوگوں سے خالی ہورہی ہے آنے والا وقت مزید خراب ہوسکتا ہے سماج معاشرہ، سوسائٹی میں نیک نیتی کے ساتھ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے، اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ جگمگاتے ہوئے روشن ستارے یوں ہی دنیا سے جاتے رہے اور ہم اس سے سبق حاصل نہ کرسکے تو کل ہمیں سبق دینے والا کوئی نہیں ہوگا آج ضرورت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ یوں تو سب کو موت کا مزا چکھنا ہی چکھنا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے معتقدین بڑھتے جاتے ہیں ہم زندہ ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ کوئی دو قدم چلنے کو تیار نہیں اور وہ قبر میں ہیں پھر بھی عقیدت کا احترام و محبت کا مرکز بنے ہوئے ہیں اسی کو کہا جاتا ہے کہ فنا ہونا اور بات ہے فنا فی اللہ ہونا اور بات ہے –
مصنف:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو یو پی
برائے رابطہ 8299579972 ، javedbharti508@gmail.com
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
