تازہ ترین
شہنشاہ زمستان“ یعنی ”چلہ کلان“ ایک بار پھر جلوہ افروز
سردی کی شدید لہر سے عوام کا جینا دشوار
آنے والے دنوں میں راتیں مزید سرد رہنے کا امکان
خبراردو
سرینگر:شدید سردی اور خشک موسم کے بیچ وادی میں سرد ترین موسم کا بادشاہ ”چلہ کلان“ 20دسمبر کی درمیانی شب جلوہ افروزہوگیاجس کے ساتھ ہی شبانہ درجہ حرارت میں مزیدنمایاں کمی واقع ہو نے ہوئی ہے۔
”شہنشاہِ زمستان“ یعنی چلہ کلان کے نام سے مشہور سرد ترین موسم کاآغاز اآج سے ہورہا ہے تاہم چلہ کلان سے قبل سے وادی میں سردی کی شدید لہر نے عام لوگوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔
اس دوران لوگوں نے شہنشاہ چلہ کلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے لوگوں نے خشک سبزیوں،دالوں، اشیائے خوردنی کے علاوہ راشن، رسوائی گیس اور تیل خاکی کو بھی ذخیرہ کیا۔ادھر محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں وادی کشمیر میں راتیں مزیدسرد ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہن اتھا کہ گزشتہ رات کے دوان وادی بھر میں شبانہ درجہ حرارت میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق 21دسمبر سے شروع ہونے والے 70دنوں پر محیط شدید ترین سردی کا آج سے آغاز ہونے جارہا ہے جس میں چلہ کلان، چلہ خرد اور چلہ بچہ کے ایام شامل ہیں۔
70دنوں پر مشتمل ایام میں سے 40چلہ کلان، 20چلہ خرد اور 10روز چلہ بچہ کے ہوتے ہیں جس دوران وادی سردی انتہائی سردی کی لپیٹ میں آتی ہے۔وادی میں 40دن کے سرد ترین موسم ”چلہ کلان“ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو دستک دی تاہم گزشتہ برسوں کے برعکس اس بار ”چلہ کلان“ کا استقبال بارشوں اور برفباری کے بجائے خشک موسم اور کھلی دھوپ نے کیا تاہم وادی میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری سردی کی شدید لہر نے آج رات بھیانک رخ اختیار کیا اور درجہ حرارت معمول کے کئی ڈگری نیچے گرگیا۔
واضح رہے ”چلہ کلان“ کی وادی میں صدیوں سے ایک انفرادی اہمیت ہے اور اس موسم کی آمد سے ہی کئی دہائی قبل کی یادیں بزرگوں کے دل و دماغ میں تازہ ہوجاتی ہیں جب اس موسم میں پوری وادی برف کی لپیٹ میں آچکی ہوتی تھی اور چاروں طرف سفید برف کی چادریں لپٹی ہوئی نظر آرہی تھیں جبکہ گھروں اور دوسری عمارتوں کی چھتوں سے ٹپکتا پانی منفی درجہ حرارت کی وجہ سے جم جاتا تھا جسکے نتیجے میں ہوا میں ہی پانی جم کر معلق ہوجاتا تھا اور کشمیری میں اس کو ”ششر گانٹھ“ کہتے تھے جبکہ اس موسم میں کئی دیہات ہفتوں تک قصبہ جات اور شہروں سے کٹ کے رہ جاتے تھے البتہ دیہات میں پوری طرح سے ان ایام کی تیاریاں ہوتی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں خشک سبزیاں اور دالیں ذخیرہ کرنے کے علاوہ بھیڑ اور پولٹری پرندے پالتے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کا استعمال کیا جا سکے۔تاہم اب گذشتہ کئی برسوں سے موسم سرما کی اس روایت میں کافی تبدیلی آگئی ہے اور برف میں کمی کے باعث لوگوں کی طرز زندگی میں بھی بدلاؤ آگیا ہے۔
چلہ کلان کو اگر چہ وادی میں خیالی تصور میں ایک بزرگ کا درجہ دیا جاتا ہے تاہم اس موقسم کے دوران وہ بچوں کی طرح نٹ کھٹ حرکات بھی کرتا ہے اور اگر حشم ناک ہو تو پھر کوئی خیر نہیں۔افسانوی تصور میں چلہ کلان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کا کہنا ہے کہ اگر میں بزرگ نہیں ہوتا اتنی برف باری کرتا کہ لوگوں کو درختوں کے اْپر سے راستہ بنانا پڑتا۔
چلہ کلان کو وادی میں سرد ترین موسم کا بادشاہ کہا جاتا ہے جو اپنا وجود بکھیر کر پہاڑوں سے لیکر میدانی علاقوں تک ہڈیوں کو پگلا دینے والی سردی بکھیر دیتا ہے۔چلہ کلان کے جلوہ افروز ہونے کے ساتھ ہی وادی کے شمال وجنوب میں سرد ترین سردی کی لہر بھی چلتی ہے جبکہ برف باری بھی اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔
اس دوران چلہ کلان کا استقبال کرنے کیلئے شہر وگام لوگوں نے پیشگی تیاریاں بھی شروع کی ہے جبکہ خشک سبزیوں،دالوں،ضروری غذائی اجناس کے علاوہ رسوائی گیس،تیل خاکی،بالن،گرم ملبوسات سمیت دیگر چیزوں کی بھی ذخیرہ اندوزی کی گئی ہے۔ چلہ کلان میں جموں سرینگر شاہرہ بند ہونے کی وجہ سے ضروری سپلائی بھی وادی آنے سے رہ جاتی ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی لوگ پہلے ہی تیاریاں بھی کرتی ہے۔
ادھر سرکاری سطح پر بھی چلہ کلان کی آمد سے قبل ہی اس کے بزرگانہ نخروں سے نپٹنے کیلئے تمام تیاریوں میں جٹ جاتی ہے اور جس مدت کے دوران چلہ کلان وادی میں اپنا ڈھیرہ ڈالتا ہے،کیلئے ضروری اسٹاک کی وافر مقداری کو مہیا رکھنے کیلئے ان چیزوں کو زخیرہ کیا جاتا ہے۔ اس دوران چلہ کلان کی آمد کے ساتھ ہی وادی میں سرد ترین سردی کی لہر بھی چلی ہے جس کے دوران شبانہ درجہ حرارت میں بھی کمی آئی ہیں۔
ادھر بلائی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے سردی میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کے معمولات بھی اثر انداز ہوئے ہیں۔رواں سال کے نومبر سے ہی وادی سردی کی سخت لپیٹ میں آگئی ہے جبکہ اس وقفے کے دوران شمال و جنوب میں پہاڑی علاقوں میں کئی مرتبہ برف باری ہونے کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے قبل از وقت موسم میں آئی تبدیلی سے روز مرہ کے معمولات پر حددرجہ اثر پڑا۔۔ ادھر وادی کشمیر میں رات کے درجہ حرارت میں بھی چلہ کلان کے پیش نظر نمایاں گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے جس دوران غروب آفتاب سے قبل ہی لوگ گھروں کی راہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری سردی کی شدید لہر کے نتیجے میں سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ میں بھی ہڈیوں کو شل کردینے والی سردی جاری ہے جس دوران سیاحتی مقامات پر منفی درجہ حرارت کا پارہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔21دسمبر سے 30جنوری تک جاری رہے والے سرد ترین موسم چلہ کلان کے دوران عام سرد موسمی حالات کے مقابلے میں سردی کی لہر میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔
ادھر محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں وادی کشمیر میں راتیں مزیدسرد ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات کے دوان وادی بھر میں شبانہ درجہ حرارت میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی گئی جس دوران لیہہ،وادی کشمیر،اوردارس میں منفی درجہ حرات ریکارڑ کیا گیا ہے۔میں منفی جبکہ خطہ چناب کے بھدرواہ میں رات کے درجہ حرارت میں مزید گراوٹ آئی ہے۔
دنیا
جنوبی ہسپانیہ زلزلے سے لرز اٹھا، عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
میڈرڈ، جمعہ کی دیر شب جنوبی ہسپانوی شہر غرناطہ میں 5 کی شدت کا زلزلہ آیا، اور علاقائی حکومت نے بتایا کہ گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا مگر کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ زلزلہ الہندین کے میٹروپولیٹن علاقے میں آیا ۔
ہسپانوی ٹیلی ویژن چینل ٹی وی ای نے سڑکوں پر ملبہ بکھرنے اور اس مقبول سیاحتی شہر میں کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے مناظر نشر کیے۔
اندلس کے ہنگامی خدمات ادارے نے نقصان زدہ عمارتوں سے متعدد افراد کو نکالا۔
اندلسی صوبائی حکومت کے نائب صدر انتونیو سانز کابییلو نے ہفتے کو ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ حکام نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ”اگر آپ غرناطہ میں ہیں، آپ نے زلزلہ محسوس کیا ہے، آپ خیریت سے ہیں اور آپ کے گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو پرسکون رہیں اور غیر ضروری طور پر عمارتوں میں داخل یا باہر نہ ہوں۔”
کہا گیا ہے کہ سڑک پر عمارتوں کے سامنے والے حصوں، سجاوٹی کناروں، بالکونیوں، دیواروں اور دیگر ایسے حصوں سے دور رہیں جن کے گرنے کا امکان ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے: ٹرمپ
واشنگٹن] صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز کو ’امریکی علاقہ‘ قرار دے سکتے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے نیو یارک کی ناساؤ کاؤنٹی میں ایک تقریب میں کہا کہ “میں نے ایران کو اچھی طرح سے شکست دینے کے بعد، میں جلد ہی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دوں گا۔”
صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے فوج کو “میرے خیال سے کچھ زیادہ” استعمال کیا ہے لیکن دلیل دی کہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو “امریکی علاقہ” قرار دینے کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ تہران اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، “آبنائے ہرمز کو ٹویٹس، طیارہ بردار جہازوں، فرمانوں یا انتخابی تقریروں سے نہیں پکڑا جا سکتا۔ ایران دھمکیوں یا طاقت کے مظاہروں سے خوفزدہ نہیں ہے۔” مسٹر غریب آبادی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو “اسٹریٹجک اور اہم شکست” ہوئی ہے اور اصرار کیا کہ “آبنائے ہرمز ایران کا ہے، ایران کا ہے اور ایران کا ہی رہے گا۔”
انہوں نے کہا کہ “یہ آبنائے صرف ایران کے حکم پر بند اور کھلے گا،” انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت تک ناکہ بندی برقرار رکھے گا جب تک امریکہ اسے “شکست کی حقیقت” کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
بیروت، جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں سات افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے رات بھر کئی قصبوں اور دیہات پر حملوں میں شدت پیدا کردی۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق ہفتے کی علی الصبح نبطیہ ضلع کے قصبے انصار کے مضافات میں ایک مکان کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
اسلامک میسج اسکاؤٹ ایسوسی ایشن، اسلامک ہیلتھ اتھارٹی اور لبنان کی سول ڈیفنس کی ہنگامی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور جاں بحق و زخمی افراد کو نبطیہ کے اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف رہیں۔
یہ جون میں ہونے والے معاہدوں کے بعد لبنان میں اسرائیل کا سب سے ہلاکت خیز رپورٹ شدہ حملہ ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی آئی تھی۔
این این اے کے مطابق ہفتے کی علی الصبح اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی اور نبطیہ الفوقا کے قریب علی الطاہر پہاڑی سلسلے پر متعدد فضائی حملے کیے گئے۔
دو دیگر حملوں میں نبطیہ الفوقا میں اساتذہ کے تربیتی مرکز اور حسینی کلب کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ انصار اور زَراریہ کے درمیان واقع وادی پر بھی حملہ کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ دو ماہ قبل جنگ بندی کے بعد جنوبی لبنان میں اس قدر اندر تک کیا جانے والا پہلا حملہ تھا۔
این این اے نے بتایا کہ سرحد کے قریب بنت جبیل میں اسرائیلی فوج نے کئی مکانات تباہ کردیے اور کونین-صف الہوا سڑک کے ساتھ واقع گھروں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
اسرائیلی فضائی حملے میں نصف شب سے کچھ دیر قبل المنصوری کے علاقے المشاعہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت اور اس کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی سرپرستی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور مکانات کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔
اس فریم ورک کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے فریم ورک پر عمل درآمد کے حوالے سے لبنانی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ جب اسرائیلی حملے جاری ہیں، اس کے باوجود حکام لبنانی فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “آپ لبنانی فوج کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسے مسلسل ذلت کا شکار کیسے ہونے دے سکتے ہیں اور اسے اسرائیلی بمباری اور دباؤ کے سامنے کیسے لا سکتے ہیں”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
