Connect with us

مکالمہ

کیا واقعی حکومت دل اور دلّی کی دوری ختم کرنا چاہتی ہے؟… سہیل انجم

Published

on

کشمیر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو کام ملے اور انھیں ایک باعزت زندگی گزارنے کے مواقع ملیں۔ جب تک یہ سب نہیں ہوگا دل اور دلّی کی دوری دور نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم نریندر مودی قافیہ بندی کرکے عوام کو بیوقوف بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ جب سے وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے ہیں یہ کام بہت اہتمام کے ساتھ کر رہے ہیں۔ حالیہ مثال اگر دینی ہو تو جب تک دوائی نہیں تب تک ڈھلائی نہیں، دوائی بھی اور کڑائی بھی اور جہاں بیمار وہیں اُپچار وغیرہ کی مثال دی جا سکتی ہے۔ وہ جب بھی قوم سے خطاب کرتے ہیں تو پہلے سے ہی کوئی نہ کوئی جملہ سوچ کے رکھتے ہیں۔ ان کی اس قافیہ بندی یا جملہ سازی سے عوام تو سحرزدہ ہوتے ہی ہیں سیاست داں اور تعلیم یافتہ افراد بھی اسی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ اس کا ذکر بھی خوب ہوتا ہے اور گودی میڈیا اس کو اپنا موضوع بھی بنا لیتی ہے۔ ان کی تازہ جملہ سازی کشمیری رہنماوں کے ساتھ ملاقات کے دوران اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے کہا کہ وہ دل کی اور دلّی کی دوری ختم کرنا چاہتے ہیں۔ میٹنگ سے باہر آنے والے رہنماوں نے باربار اس جملے کو دوہرایا۔ ایسا لگا کہ جیسے وہ بھی وزیر اعظم کی قافیہ بندی یا جملہ سازی کے سحر میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے بھی اس جملے کو کافی اہمیت دی۔

لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی وزیر اعظم دل کی اور دلّی کی دوری کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم کشمیری عوام کے ردعمل اور رہنماوں کے بیانات کا جائزہ لیں تو ایسا نہیں لگتا کہ وہ اس جملے پر یقین کرنے کو تیار ہیں۔ جب وزیر اعظم کی جانب سے کشمیری لیڈروں کو میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی تو کہا گیا کہ اس کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ کشمیری رہنماوں نے اس کا یہ مطلب نکالا کہ جب ایجنڈہ نہیں ہے تو وہ ہر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کا معاملہ بھی اٹھا سکتے ہیں اور حکومت سے ریاست کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔ پی ڈی پی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس معاملے کو اٹھایا بھی اور کہا کہ دفعہ 370 کا خاتمہ غیر جمہوری و غیر آئینی تھا۔ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔ لیکن دیگر رہنماوں نے اسے یہ کہتے ہوئے اٹھانے سے گریز کیا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس لیے اس پر گفتگو نہیں کی جا سکتی۔

کشمیری رہنما تو اپنے دل میں بہت کچھ ارمان لے کر گئے تھے۔ لیکن میٹنگ میں یہ اندازہ ہوا کہ یہ بات درست نہیں تھی کہ میٹنگ کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میٹنگ کا ایجنڈہ تھا اور وہ تھا ڈی لمیٹیشن یعنی حد بندی کا معاملہ۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے حد بندی کا کام مکمل ہو جائے اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے اور پھر ریاستی حیثیت کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ حالانکہ کشمیری رہنماوں نے کہا کہ پہلے ریاستی حیثیت کی بحالی ہو اس کے بعد انتخابات ہوں اور پھر حد بندی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ملک کے بقیہ حصے میں ابھی حد بندی نہیں ہو رہی ہے وہاں 2026 میں ہوگی اور پھر آسام میں بھی کشمیر کے ساتھ حدبندی کی بات کہی گئی تھی لیکن وہاں پہلے الیکشن کرایا گیا اور حد بندی کو ملتوی کر دیا گیا تو پھر کشمیر میں پہلے حدبندی پر کیوں زور دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کو ملک سے جوڑنا اور ملک کے ساتھ ملانا ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ دوسری ریاستوں سے الگ معاملہ کیا جا رہا ہے۔ بعض لیڈروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ جموں و کشمیر اسمبلی کے لیے سات نشستیں بڑھائی گئی ہیں ا س لیے پہلے حد بندی کرائی جا رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ سات نشستوں کے اضافے یا حدبندی پر زور کیوں دیا جا رہا ہے اس سلسلے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت ریاست کی سیاست پر کشمیر کی بالادستی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ کشمیر میں نشستوں کی تعداد زیادہ ہے اور جموں وغیرہ میں کم ہے۔ جس کے منتخب ارکانِ اسمبلی کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہ وہیں کا وزیر اعلیٰ ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر میں آبادی زیادہ ہے مگر رقبہ جموں وغیرہ کا بڑا ہے۔ اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ کم از کم دونوں خطوں کی حیثیت برابر کر دی جائے تاکہ بی جے پی کو وہاں کے اقتدار پر گرفت کا موقع مل سکے۔ لیکن بعض دیگر ماہرین کی رائے ہے کہ حکومت اس سلسلے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔

بہرحال حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ پہلے حدبندی ہوگی۔ اس کے بعد انتخابات ہوں گے اور پھر ریاست کی حیثیت کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔ لیکن کشمیری رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ پہلے انتخابات ہوں اور ریاست کی حیثیت بحال کی جائے اور پھر حدبندی ہو۔ لیکن اس کا امکان بہت کم ہے کہ ایسا ہوگا۔ وہی ہوگا جو حکومت چاہتی ہے۔ وزیر اعظم نے شرکائے میٹنگ پر اسی سلسلے میں زور دیا ہے۔ یہ دراصل بی جے پی کا اپنا ایجنڈہ ہے اور وہ اس سے ہٹنے والی نہیں ہے۔

جہاں تک دفعہ 370 کی واپسی کا معاملہ ہے تو یہ بھی بعید از امکان ہے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا کہنا ہے کہ اس حکومت سے یہ توقع کرنا کہ وہ دفعہ 370 کو بحال کر دے گی احمقانہ بات ہوگی۔ یہ تو ان لوگوں کا پرانا ایجنڈہ رہا ہے اور اب ستر برسوں میں انھیں یہ موقع ملا کہ اس ایجنڈے پر عمل کریں۔ لہٰذا اس حکومت میں اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں ہے۔ البتہ ہم اس کی قانونی لڑائی لڑیں گے اور اس کی بحالی کے لئے اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ جبکہ پی ڈی پی کی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک دفعہ 370 کی بحالی نہیں ہو جاتی وہ انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کے خاتمے کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں داخل ہیں۔ لیکن نہ تو سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس سلسلے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہ سابق چیف جسٹس ایس آر بوبڈے نے اور نہ ہی موجودہ چیف جسٹس ایس وی رمنا نے اب تک کوئی دلچسپی دکھائی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ چھوٹے چھوٹے معاملات پر فوراً سماعت کرتی ہے لیکن اتنے بڑے معاملے پر سماعت نہیں کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حکومت میں اس کی امید کم ہے کہ اس بارے میں کوئی پیش رفت ہوگی۔

بعض مبصرین کے مطابق حکومت نے جن کشمیری لیڈروں کو نظربند کیا یا جیلوں میں ڈالا اب انھیں کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لیے مجبور ہوئی اور اسے انھیں سیاست دانوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ لیکن بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے حکومت کی پسپائی نہیں بلکہ حکمت عملی سمجھنا چاہیے۔ دوسری طرف وہی کشمیری سیاست داں جن کی حکومت نے بری طرح تضحیک و تذلیل کی وزیر اعظم کی دعوت پر بھاگے چلے آئے۔ دراصل صورت حال یہ ہے کہ یہ دونوں کی مجبوری ہے۔ جہاں حکومت کو دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ وہ کشمیر میں سیاسی تعطل دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہیں کشمیری رہنماوں کو اپنے عوام کو جواب دینا ہے۔ لہٰذا یہ نہ تو کسی کی پسپائی ہے اور نہ ہی کسی کی جیت ہے۔

لیکن سوال پھر وہی اٹھتا ہے کہ کیا حکومت نے جو ٹائم لائن بنائی ہے اس سے دل کی اور دلّی کی دوری دور ہوگی۔ غیر جانبدار تجزیہ کار اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق دفعہ 370 کی منسوخی سے کشمیری عوام جذباتی طور پر ٹوٹ گئے ہیں۔ ان کے دل زخم خوردہ ہیں۔ ان پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب پہلے اسٹیٹ ہڈ بحال کی جائے یعنی جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے بجائے ایک ریاست کا درجہ دیا جائے اور پھر انتخابات کرائے جائیں۔ کشمیر میں بحالی اعتماد کے اقدامات کیے جائیں۔ یہ تاثر ختم کیا جائے کہ اب کشمیر کے باہر کے لوگ بھی وہاں زمین خرید سکیں گے اور کشمیر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو کام ملے اور انھیں ایک باعزت زندگی گزارنے کے مواقع ملیں۔ جب تک یہ سب نہیں ہوگا دل اور دلّی کی دوری دور نہیں ہوگی۔

Continue Reading

تازہ ترین

کانگریس سے علیحدگی زندگی کا کٹھن فیصلہ تھا ،دو دن سو نہیں پایا۔ بھاجپا میں شمولیت خارج از امکان: غلام نبی آزاد

Published

on

سری نگر، 28اگست(یو این آئی)غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ کانگریس سے علیحدگی اُن کی زندگی کا سب سے کٹھن فیصلہ تھا کیونکہ پچاس سال تک اس پارٹی کے لئے دن رات ایک کئے ۔

انہوں نے بتایا کہ دو دن نیند نہیں آئی اور کئی بار خط کو بھی پھاڑ ڈالا ۔اُن کے مطابق اگر مجھے کانگریس سے کچھ ملا تو میں نے بھی کانگریس کو بہت کچھ دیا ہے۔

بھاجپا میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ میرا دماغ خراب ہے ۔ جو لوگ ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ خیالوں کی دن میں رہ رہے ہیں۔

ان باتوں کا اظہار موصوف نے ایک قومی نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو کے دوران کیا۔

غلام نبی آزاد نے کہاکہ مستعفی ہونے سےایک ماہ قبل پارٹی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھا لیکن اُس کو کوئی جواب نہیں ملا۔انہوں نے بتایا کہ کانگریس سے مستعفی ہونے کا فیصلہ اُن کی زندگی کا کٹھن فیصلہ تھا۔

کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ اس وقت کانگریس میں نویں فیصد ایسے لوگ ہیں جو کانگریسی ہی نہیں، کسی کو یونیورسٹی اور کسی کو دفتر سے اُٹھاکر لیڈر بنایا گیا. انہوں نے بتایا کہ میں نے آنجہانی اندراگاندھ، سنجے گاندھی او ر راجیو گاندھی سے سیکھا ہے ، وہ لوگ مجھے کیا سکھائیں گے جنہیں سیاست کی کوئی سمجھ ہی نہیں ۔

مسٹر آزاد نے کہا : ’ایک ماہ قبل کانگریس صدر کو خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔لیکن صدر موصوف نے اُس پر کوئی کارروائی نہیں دی‘۔

راہول گاندھی کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے ’چوکیدار چور ہے‘ نہیں بولا ۔

غلام نبی آزاد نے کہاکہ یہ ان لوگوں کی بھاشا ہو سکتی ہے لیکن میں نے اندراگاندھی، راجیو گاندھی سے لیڈران کی عزت کرنا سیکھا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ آنجہانی اندرا گاندھی مجھے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنے کے بارے میں ہمیشہ بولتی رہتی تھیں ۔

غلام نبی آزاد نے مزید کہاکہ راہول گاندھی نے پارٹی کا بیڑا غرق کیا اور یہاں تک کہ میڈیم سونیا گاندھی کا بھی اسٹائل خراب کیا۔

کمزور وقت میں کانگریس کو خیر باد کہنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں غلام نبی آزاد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا میں مزید پچاس سالوں تک انتظار کرتا رہتا۔؟

بھاجپا کی بولی بولنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ جو نئے لیڈران پارٹی میں ہیں اُنہیں میری باتیں پسند نہیں ۔

اُن کے مطابق میں دن میں بیس گھنٹے پارٹی کے لئے کام کر تا تھا جس وجہ سے پارٹی نے متعدد ریاستوں میں جیت حاصل کی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہا میرا دماغ خراب ہے ۔

انہوں نے کہاکہ جو لوگ ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں دراصل اُن کا دماغ خراب ہے ۔ میں نے واضح کیا ہے کہ اپنی پارٹی تشکیل دوں گا لہذا جو یہ کہہ رہے ہیں کہ بھاجپا میں شمولیت اختیار کریں گے اُن کا دماغ کام نہیں کررہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں نرم گوشہ رکھنے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ میرے حوالے سے تین باتیں پھیلائی جارہی ہیں ایک تو مودی جی نے آپ کے لئے کیوں آنسوں بہائے ، دوسرا گھر ملا اور تیسرا زڈ پلس سیکورٹی ۔

انہوں نے بتایا کہ زڈ پلس سیکورٹی دراصل مجھے اس لئے فراہم کی گئی کیونکہ مجھ پر آج تک 26 مرتبہ حملے ہوئے اور سری نگر میں ایک دفعہ مجھ پر راکٹ لانچر سے بھی حملہ کیا گیا لیکن میں اُس وقت بال بال بچ گیا۔اُن کے مطابق اگر میرے پاس مکان ہے تو میں اُس کی کرایہ بھی دیتا ہوں۔

Continue Reading

اہم خبریں

کیا کویڈ صرف اسکولوں میں ے؟آخر کب تک بچوں کا مستقبل داو پر لگا رہے گا۔

Published

on

Continue Reading

اہم خبریں

ئیق رضوی، کربلائی ادب اور دریافت کے نئے دریچے… معین شاداب

Published

on

نوحے اور مرثیے پر تحقیقی اور تنقیدی کام کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی ادبی نقد و تحقیق کی روایت لیکن لئیق رضوی کی تصنیف ’عوامی مرثیے کی روایت‘ اس اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی تحقیقی کاوش ہے کہ انہوں نے رثائی ادب کے ڈانڈے اردو کے وجود میں آنے سے قبل کی ہندوستانی بولیوں سے جوڑے ہیں۔ آثار وقرائن اس بات کی طرح اشارہ کرتے رہے ہیں کہ اردو مرثیے کی بنیادیں ہندوستانی مٹّی میں ہی پیوست ہیں۔ محققین عام طور پر ہندوستان میں مرثیے کا نکتہ آغاز ملّا وجہی اور قلی قطب شاہ وغیرہ کے یہاں تلاش کرتے ہیں لیکن یہ بنیادیں ذرا اور گہری ہیں۔ لئیق رضوی نے ہندوستان میں مرثیے کی جڑوں کو دریافت کیا ہے۔

ہندوستان میں مرثیے کا آغاز اردو زبان سے نہیں ہوتا بلکہ اردو کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کی مختلف زبانوں میں مرثیہ لوک گیتوں کی شکل میں موجود تھا۔ محققین کو اس کا اندازہ تھا لیکن اسے نہ جانے کیوں نظر انداز کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو عربی اور فارسی کا زور رہا، دوسرے اردو ادب کی نستعلیق تہذیب نے اس لوک ورثے کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔ اس طرح یہ قدیم رثائی سرمایہ سمٹتا چلا گیا۔

جن لوگوں نے لوک گیتوں پر کام کیا ہے انہوں نے لوک رثائی ادب یا عوامی مرثیے کے خال خال اشارے ضرور دیئے ہیں۔ بعض لوگوں نے محرم کے گیت وغیرہ کے ضمن میں انہیں رکھا ہے لیکن ان پر کوئی منصوبہ بند تحقیقی یا تنقیدی کام نہیں ہوا۔ مرثیے اور نوحے کے ناقدین نے عوامی مرثیے کی اہمیت کا تذکرہ تو ضرور کیا ہے اور اس پر تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے لیکن کسی کویہ توفیق نہ ہو سکی۔ اظہر علی فاروقی نے اس پر تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ جو کچھ اور کام بھی لوک گیتوں پرسامنے آئے ہیں اس میں محرم کے گیت بھی مل جاتے ہیں۔ اظہر فاروقی کا کام اس لحاظ سے بہتر ہے کہ انہوں نے اس تعلق سے کچھ چیزیں جمع کی ہیں۔ لیکن ان کا مقصد عوامی گیتوں پر کام کرنا تھا مرثیوں پر نہیں۔ کچھ برس قبل ایک اور کتاب دکنی لوک گیتوں پر آئی ہے جس میں دو دو چار چار مصرعوں کے ایک دو گیت شامل ہیں۔

تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لوک گیتوں کی ایک مضبوط روایت ہے۔ ان گیتوں میں رثائی مواد بھی موجود ہے لیکن وہ نظر انداز ہوتا رہا۔ جبکہ اسے منظر عام پر لانے کی ضرورت تھی۔ لئیق رضوی نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور سنجیدگی و تن دہی سے اس پر کام شروع کیا۔ اس تعلق سے ان کے کچھ مضمون ادھرادھر شائع ہوئے۔ سہ ماہی ’فکرو تحقیق‘ میں’دہے‘ پر ان کا تحقیقی مقالہ چھپا تھا۔ جس کا عنوان تھا ’عوامی مرثیہ دہا: روایت اور آداب‘۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے محرم نمبر میں لئیق رضوی کا ایک مضمون ’نوحہ حسین کے عوامی رنگ‘ شائع ہوا۔ اب اس اہم موضوع پر ان ایک پوی کتاب ’عوامی مرثیے کی روایت‘ شائع ہوگئی ہے۔

’عوامی مرثیے کی روایت‘ ایک پر مغز تصنیف ہے جو کربلائی ادب کے ذیل میں دریافت کے نئے دریچے بناتی ہے۔ یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے اور اس کا ہر باب اہمیت کا حامل ہے۔ پہلے باب میں ’ہندوستان میں عزاداری کی تاریخ‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ’عزاداری میں ہندوستان‘ کے مختلف رنگوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔ تیسرا باب ’غم حسین کے عوامی اظہارات‘ کا محاکمہ کرتا ہے۔ جبکہ چوتھے باب میں ’عوامی مرثیے کے ر نگ، روپ اور رویّے‘ سے بحث کی گئی ہے۔ پانچویں، چھٹے اور ساتویں باب میں بالترتیب شمالی ہند، بنگال اور دکن میں مرثیے کے آغاز اور ارتقا پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کا آٹھواں اور نواں حصہ ’دہے‘ اور ’زاری‘ پر مرکوز ہے۔ جس میں ان عوامی اصناف کے آثار ڈھونڈے گئے ہیں۔ دسویں باب میں ’اردو ررثائی شاعری پرعوامی اثرات‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ ’عوامی مرثیے‘ کا انتخاب ہے۔ انّیس صفحات پر مشتمل لوک مرثیوں کا یہ ذخیرہ اپنی مثال آپ ہے جسے لئیق رضوی نے برسوں کی تلاش و جستجوکے بعد جمع کیا ہے۔

لئیق رضوی اپنی اس کتاب میں ’ہندوستان میں عزاداری‘ کے ساتھ ساتھ’ عزاداری میں ہندوستان‘ کے پہلو کو بھی ابھارتے ہیں۔ اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کے زیر اثرمرثیے اور نوحے کے دیسی رنگوں سے بھی وہ متعارف کراتے چلتے ہیں۔ انہوں نے عربی فارسی کے قدیم عزائی متن کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بولیوں میں ترتیب دیئے جا رہے دیسی عزائی متن پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس ضمن میں دکن میں ’نوسرہار‘ (شہادت نامہ) اور شمالی ہندوستان میں فضلیؔ کی ’کربل کتھا‘ اور روشن ؔعلی کا ’عاشور نامہ‘ جیسی ابتدائی دیسی چیزوں کا بطور خاص حوالہ دیا ہے۔

ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے اور تہذیبی وثقافتی رنگا رنگی کا حامل ہے چناچہ یہاں کربلا کا غم مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں غم حسین الگ الگ شکلوں میں منایا جاتا ہے۔ غیر مسلموں میں عزاداری اور مراسم کے اپنے اطوار ہیں۔ مصنّف نے ماتمی رقص وموسیقی، سوانگ، اکھاڑے، جھنڈے، گروہ، لنگر، سینہ زنی، آگ اور زنجیری ماتم کی مختلف صورتوں کا ریاست وار تعارف کرایا ہے۔ اس باب میں ’حسینی برہمنوں‘ کا بھی خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔

لئیق رضوی نے لوک مرثیے کی صدیوں پرانی روایت کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں جائزہ لیا ہے۔ عہد بہ عہد تبدیل ہوتی اس کی مختلف صورتوں سے آشنا کرایا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ ملک محمد جائسی کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ جائسی سے قبل بھاشا کے دیگر شعرا سیّد بھیکہ، قطبین اور تاج بخش کا بھی انہوں نے حوالہ دیا ہے۔

’شمالی ہند میں عوامی مرثیہ‘ ’بنگال میں عوامی مرثیہ‘ اور ’دکن میں عوامی مرثیہ‘ یہ تینوں ابواب اس کتاب کا مغز ہیں۔ مصنف نے ان خطّوں میں عوامی رثائی متن کا تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔عوامی مرثیے کے نام پر پہلے لوگ ’دہے‘ اور ’زاری‘ کو جانتے تھے۔ مرثیے کی اس نوع کی دیگر اصناف سے لوگ کم واقف تھے یا ناواقف تھے جو ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لئیق رضوی نے ساتھ ہی یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اردو مرثیوں اور نوحوں کا موجودہ تاثر اور کیفیت دہے اور زاری ہی کا مرہونِ منّت ہے۔

ہندوستان میں قدیم لوک گیتوں کی کم وبیش ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ عام مرثیے اور نوحے کی موجودگی کے با وجود ایک عوامی دھارا ایسا تھا جو لوک گیتوں میں مرثیہ اور نوحہ کہہ رہا تھا۔ اردو کی رثائی شاعری پر اس لوک ورثے کا کتنا اثر پڑا اس کا تفصیلی جائزہ بھی مصنف نے لیا ہے۔ اس لوک ورثے میں شامل برج بھاشا، اودھی، بھوج پوری، مگہی، پنجابی، بنگلہ، تیلگو، مراٹھی، کشمیری اور دوسری کئی ہندوستانی زبانوں میں عزائی ادب کے نقوش کو ابھارا گیا ہے۔

لئیق رضوی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو مرثیے کی جڑیں عربی فارسی میں کم فوک لٹریچر میں زیادہ ہیں۔ اردو میں رثائی تخلیقات آنے سے پہلے قدیم ہندوستانی بولیوں میں کربلائی گیت بن چکے تھے اور اردو کے وجود میں آنے کے بعد وہی گیت اردو میں منتقل ہوئے۔ بعد کے شعرا نے یہ لہجہ اپنے مرثیوں کی کیفیت بڑھانے کے لیے اختیار کیا۔ خلیفہ سکندرؔ اور سوداؔ نے دیہاتی پنجابی، مارواڑی اور برج بھاشا وغیرہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے مرثیوں میں چار مصاریع اردو میں کہے اور بیت ان دیسی زبانوں کی لگائی۔ ان شعرا نے عوامی بولیوں یا زبانوں سے استفادہ کرکے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں۔ بعد کے شعرا نے بھی اپنے کلام میں زور اور نشتریت پیدا کرنے کے لیے دیہاتی زبانوں سے اجالا لیا۔ بیسویں صدی میں بھی نجمؔ آفندی اور رجاؔ رام پوری (رضا رامپوری) وغیرہ نے اس روایت کی پیروی کی ہے۔ آج بھی اگر آپ دس نوحے یا مرثیے اردو کے پڑھتے ہیں تو وہیں ایک آدھ نوحہ علاقائی زبان میں بھی کہتے ہیں تاکہ بات کو پر اثر بنایا جاسکے۔ دراصل یہ ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی شاعری ہے جو ہمیں اپنے ماضی اور عزائی ادب کی روح سے جوڑتی ہے۔

نایاب اور کم یاب لوک گیتوں کا انتخاب اور یکجائی اس کتاب کا انتہائی اہم حصّہ ہے۔ قدیم دیسی زبانوں میں مختلف صورتوں میں موجود عوامی مرثیوں اور نوحوں کو محفوظ کرنے کی خاطر لئیق رضوی نے دیدہ ریزی کی ہے۔ ان میں بیشتر لوک گیت ایسے ہیں جو تحریری شکل میں دستیاب نہیں تھے لیکن سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہے تھے اور ان میں سے کچھ جدید تکنیکی عہد میں ریکارڈنگ کے ضبط میں آگیے تھے۔ انہیں قلم بند کرنے کے لیے لئیق رضوی نے جاںفشانی کی ہے اور اس طرح یہ قدیم اہم سرمایہ پہلی بار تحریر کے ضابطے میں آگیا ہے اور یہ انمول بول محفوظ ہو گیے ہیں۔

یہ کتاب مصنف کی ربع صدی کی جانفشانی اور عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ان چیزوں کی تحقیق اور بازیافت کے ساتھ ان کی قدرو قیمت کے تعیّن کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ کتاب مرثیے کی تاریخ اوراس کی تحقیق کے شعبے میں ایک اضافہ ہے۔

Continue Reading
Advertisement
دنیا2 hours ago

کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی

جموں و کشمیر3 hours ago

کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ

جموں و کشمیر3 hours ago

7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی

دنیا4 hours ago

آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ

دنیا4 hours ago

تجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر

دنیا5 hours ago

ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ

دنیا10 hours ago

سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک

ہندوستان10 hours ago

طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی

دنیا12 hours ago

ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ

دنیا2 weeks ago

ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ

ہندوستان2 weeks ago

راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام

دنیا2 weeks ago

مسلم ممالک اسرائیل کی سازشوں سے ہوشیار رہیں: عباس عراقچی

دنیا2 weeks ago

ترکیہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا: اردوغان

دنیا2 weeks ago

وینس اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتے اختلافات پر بند کمرے میں کھل کر گفتگو

دنیا2 weeks ago

امریکہ کو ایرانی عوام کا خون بہانے کی قیمت چکانا ہوگی: قالیباف

دنیا2 weeks ago

ٹرمپ کا غزہ میں حماس کی غیر مسلحی سے متعلق معاہدے کا دعویٰ،غزہ نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد ہوگا

دنیا2 weeks ago

ایران کا کویت میں امریکی اڈے پر جوابی حملے کا دعویٰ

دنیا2 weeks ago

نیپال میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد دو ہو گئی، کئی علاقوں میں کرفیو اور امتناعی احکامات نافذ

دنیا2 weeks ago

اللّٰہ کی مدد سے آج جارح کو سزا دی جائے گی: پاسدارانِ انقلاب

جموں و کشمیر2 weeks ago

پی ڈی پی نے امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کی، پیپلز کانفرنس کی قیادت پر سیاسی مخالفین کو دھمکانے کا الزام

جموں و کشمیر2 weeks ago

ایک احتجاج سے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا: عمر عبداللہ

جموں و کشمیر2 weeks ago

کشمیر اے این ٹی ایف نے پنجاب کے منشیات فروش کو گرفتار کر کے 100 گرام ہیروئن برآمد کر لی

جموں و کشمیر2 weeks ago

ڈپٹی کمشنر جموں نے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی، نقد انعامات سے نوازا

جموں و کشمیر2 weeks ago

محبوبہ مفتی کا پاکستان سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ

جموں و کشمیر2 weeks ago

15 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی: ای او ڈبلیو کشمیر نے چار افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی

دنیا2 weeks ago

اگر مجھےبیرون ملک گرفتارکیا گیا تو میرے لیے ‘خصوصی دستے’ تیار ہیں، نیتن یاہوکا دعویٰ

دنیا2 weeks ago

امریکی دھمکیاں اور خطے میں مداخلت جاری رہی تو آبنائے ہرمز بند رہے گی: آئی آر جی سی

جموں و کشمیر2 weeks ago

پاکستان سے دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والے پانچ دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

ہندوستان2 weeks ago

حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس

ہندوستان2 weeks ago

بی جے پی – آر ایس ایس کی نیت جان چکا ہے ملک کا نوجوان : پرینکا

دنیا2 weeks ago

اسلامک ریپبلک کی منظوری کے بغیر ہرمز سے کوئی بھی جہاز نہیں گزرے گا: ایرانی فوج کے سربراہ

دنیا2 weeks ago

امریکی۔سعودی حملوں کے بعد عراق جامع دفاعی منصوبہ تیار کرے گا

دنیا2 weeks ago

امریکی فوجیوں پر حملے کی کوشش کے بعد امریکہ کے ایران پر شدید فضائی حملے

تازہ ترین2 weeks ago

نیتن یاہو کے نئے معاہدے کے تحت امریکی فوجی امداد 16 ارب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز

دنیا2 weeks ago

حوثی گروپ سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی کے بعد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور کر رہا ہے

دنیا2 weeks ago

حکومتی اختلافات باہر لانےوالے وزیر یا اہلکار کو برطرف کر دیا جائے گا:رضا عارف

ہندوستان2 weeks ago

شاہ کو عہدے سے ہٹانا ہوگا، گولی چلانے کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو جانچ : راہل

جموں و کشمیر2 weeks ago

مظاہروں سے نہیں، بات چیت سے ہی جموں و کشمیر کے حقوق بحال ہوں گے: الطاف بخاری

دنیا2 weeks ago

ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز خارج کردی

دنیا2 weeks ago

ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ملاقات انتہائی اچھی، اسرائیلی وزیرِ اعظم نے مذاکرات کامیاب قرار دیدیے

دنیا2 weeks ago

سینٹکام کی سعودی افواج کے ساتھ ملکر ایران نواز گروہوں پر حملوں کی تصدیق، حشد الشعبی کے 20 اہلکار ہلاک

دنیا2 weeks ago

ایرانی پاسداران نے آبنائے ہرمز میں 3 آئل ٹینکروں کو روک لیا

جموں و کشمیر2 weeks ago

پی او کے میں بدامنی پر فاروق عبداللہ کا سوال، پی ایم مودی اور جے شنکر کی خاموشی پر تنقید

دنیا2 weeks ago

نیتن یاہو مجھے ایران جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتا ہے:ٹرمپ

جموں و کشمیر2 weeks ago

محبوبہ مفتی نے وادی کے پھل ملک بھر تک پہنچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا

دنیا2 weeks ago

امریکہ اور سعودی عرب کے عراق میں ایرانی پراکسیز کے ٹھکانوں پر حملے

دنیا2 weeks ago

امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے قریب پہنچ گئے، فاکس نیوز

دنیا2 weeks ago

عباس عراقچی کا یوکرینی ہم منصب سے بات چیت کے بعد اہم بیان

جموں و کشمیر2 weeks ago

کشمیر میں جعلی 10 2 سند کی بنیاد پر سپاہی بننے والا شخص مجرم قرار

دنیا2 weeks ago

جاپان میں طاقتور زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوئی: وزیراعظم

جموں و کشمیر6 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان4 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر5 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین5 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

ہندوستان3 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر4 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین6 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین6 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں6 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین6 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تجزیہ8 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

دنیا5 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

کھیل6 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین6 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین6 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

تازہ ترین6 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

اہم خبریں6 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

ہندوستان6 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

دنیا6 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

کھیل4 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

تازہ ترین6 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

پاکستان3 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تجزیہ9 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین6 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

کھیل5 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر6 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین9 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تازہ ترین7 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

جموں و کشمیر6 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

دنیا5 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

دنیا5 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

جموں و کشمیر6 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین6 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر5 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر5 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین6 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین6 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر6 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں6 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں6 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین6 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر10 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending