تازہ ترین
مشرق وسطی تنازعہ:شام کا راز بے نقاب
مونس شاہ
مشرقی غوطہ جو ملک کے دارالحکومت دمشق کی طرف ہے اور جو 2102 سے متعدد دہشت پھیلانے والے گروپوں کے گھیرے میں ہے ، اس وقت ذرائع ابلاغ میں چھایا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ کے معاملہ پر بین الاقوامی براداری کا گہری نیند سے جاگنا اچھا ہے، اگرچہ کافی دیر سے ہی سہی۔ ایسا ہی وہ اُس وقت بھی کرسکتے تھے جب غیر ممالک کی پشت پناہی کے100اقوام کے دہشت گردوں نے 2012میں مشرقی غوطہ کو قبضہ میں لے لیا۔ قلیل تعداد میں لوگوں کومشرقی غوطہ میںان برسوں کے دوران عام شہریوں کی پُر آشوب صورتحال پر تشویش تھی جب دہشت گردوں نے ظلم و جبر کے تمام ریکارڈ مات کئے۔ مشرقی غوطہ کے حالات پر سینہ پیٹنے والے اُس وقت کہاں تھے جب دہشت گرد لوگوں کے سرقلم کرتے، عصمت دری کرتے اورمعصوموں کو خون میں نہلاتے اور اب یہ اچانک مشرقی غوطہ کے عوام کے خیرخواہ بن گئے ہیں۔ مشرقی غوطہ میں جب عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے، انہوں نے ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لایا ۔
انہوں نے کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا جب دمشق میں عام شہریوں کی ہلاکت کیلئے دہشت گرد مارٹل شل، میزائل اور دیگر ہتھیار استعمال کررہے تھے۔
انہوں نے اس وقت آواز اٹھائی جب شامی عربی فوج اور دیگر اتحادیوں نے مشرقی غوطہ کو انتہا پسندوں سے آزاد کرانے کیلئے حملے شروع کئے۔ فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے ساتھ ہی مغربی میڈیا نے پروپگنڈہ مہم شروع کی کہ یہ مشرقی غوطہ میں شہریوں کیخلاف حملہ ہے۔ انہوں نے شہ سرخیاں جیسے ” محاصرہ میں پھنسا مشرقی غوطہ پر حملہ“ بنانی شروع کیں حتی کہ یہ جانے بغیر کہ دہشت گردوں نے پچھلے 6 برسوں سے علاقہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ نے وہی رویہ اپنا یاجو انہوں نے الیپو کو دسمبر 2016 میں آزاد کرانے کیلئے اپنایا تھا۔ وہ وہی پروپگنڈا دہرا رہے ہیں کہ شامی فوج اور اتحادی بچوں، خواتین کو قتل کررہی ہیں اور کیمیائی حملہ کررہی ہے۔ مشرقی غوطہ میں قتل عام ہونے کی بہت ساری تصاویر مختلف ذرائع ابلاغ میں تقسیم کی گئیں اور یہ تصاویر جنگ سے تباہ یمن، غزا ، عراق ، مصر، روہنگیا، منگولیا کی تھی جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تاکہ شامی حکومت کیخلاف بیرونی فوجی مداخلت کی جائے۔
امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام عائد کرتے ہوئے شامی افواج پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں کیخلاف کیوں کیمیائی حملہ کرے گی جب انہوں نے انکی حمایت کی اور لوگوں نے دہشت گردوں کیخلاف نفرت کااظہار کیا جنہیں مشرقی غوطہ میں ایک لمبے عرصہ سے یرغمال بنایا گیا ہے۔
شامی افواج نے مشرقی غوطہ کا 70فیصد حصہ غیر ملکوں کے پشت پناہی والے تخریب کاروں سے دوبارہ حاصل کیا ہے ، وہ جیتنے کی حالت میں ہے اور وہ کیوں اس جیت کو ختم کرسکتے ہیں؟ دہشت گرد عام شہریوں کو وہاں سے جانے نہیں دیتے اور محفوظ راہداری پر گولہ باری کرتے ہیں جو شامی اور اتحادی افواج نے بنا ئی ہے لیکن نام نہاد انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے دہشت گردوں کی بربریت اور انسانیت سوز عوامل کو دیکھ نہیں پاتے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کو 2ذرائع سے ،ایک وائٹ ہیلمٹس(White Helmets)، جو اپنے آپ کو شام کا سول ڈیفنس اور دوسرا انسانی حقوق پر نظرگزر رکھنے والی نام نہاد تنظیم Syrian Observatory for Human Rights (SOHR) سے شام کے حالات و اقعات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ وائٹ ہیلمٹس کو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے اتحادیوں سے فنڈ ملتے ہیں ۔ پروپگنڈا مواد حاصل کرنے کیلئے وہ دہشت گردوں کے زیر اثر علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں اور وہ دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں اور انہیں شامی افواج کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائسٹس (Syrian Observatory for Human Rights) کلی طور پر ایک ہی آدمی آرام دہ کمرے میںبرطانیہ میں چلا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شام کی تارہ ترین صورتحال سے اسے کارکن آگاہ کرتے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ نام نہاد کارکن بیرون ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی بربریت اور قتل عام کی تازہ صورتحال کے بارے میں معلومات نہیں پہنچاتے۔
وہ دہشت گردوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے من گھڑت کہانیاں بناتے ہیں تاکہ شامی افواج کے آپریشن کیخلاف دنیا سے حمایت حاصل کرسکے اور اس طرح ان دہشت گردوں کو بچایاجائے۔ آلہ کاروں کی بدولت شام میں دہشت گرد اعلیٰ تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ ان کی خاطر پروپگنڈا چلائے، کارپوریٹ میڈیا کا تعلق صرف روپے سے ہے۔ جب آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کارپوریٹ میڈیا کومطیع بنا کر انہیں وائٹ ہیلمٹ اور نام نہاد سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی دھنوں پر نچا سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے راکٹ سائنس نہیں ہے جو ہالی وڈ فلموں میں ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ جیسے وہ حقیقی زندگی میں سچ ہو۔ 2016میں الیپو کو آزاد کرنے کے دوران مصر میں ایسا ہی سٹیڈیو بے نقاب کیا گیا جہاں ایسے مناظر بنائے جاتے تھے کہ الیپو میں خونریز ی ہورہی ہو اور جس کا مقصد اس علاقہ کو آزاد کرانے میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
یہ بالکل بدقسمتی ہے کہ مغربی میڈیا ان علاقوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتیں جو دہشت گردوں سے آزاد کئے گئے ہوں جیسا کہ الیپو۔ الیپو کو آزاد کرنے کی مہم کے دوران کسی بھی مغربی میڈیا نے الیپو کے لڑکے امران دقنیش سے انٹرویو نہیں کیا ، جسے وائٹ ہیلمٹ نے جھوٹے طریقہ سے پروپگنڈا مواد کیلئے استعمال کیا تھا ۔
اس کے والد محمد دقنیش نے ظاہر کیا کہ اس کے بیٹے کو زبردستی نارنگی رنگ کی ایمبولنس میں ڈالا گیا تاکہ اسے شامی ہوائی حملہ میں زخمی کے طورپر دکھایا جائے جو کہ مکمل طور پر جھوٹ ہے ۔دہشت گردوں کے قبضہ سے حال ہی میں آزاد کئے گئے الیپو میں مغربی میڈیا کیوں نہیں جاتا اور لوگوں کی حالت زار کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے؟ انہوں نے الیپو کو بھول کر اب مشرقہ غوطہ کا ڈرامہ شروع کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے چیخنے اورچلانے پر یقین کرنے کی وجوہات یہ ہے کہ انہیں شام میں لوگوں کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کی فکر ہے جن پر انہوں نے کروڑوں پیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ میں اس حقیقت کا اقرار کرتا ہوں کہ شام میں بے گناہ عام شہری مارے جاتے ہیں، جب کہیں پر تنازعہ ہوتا ہے تو دونوں طرف کے نقصان کوٹالا نہیں جاسکتا ہے۔ جب امریکی ، اسرائیلی اور ناٹو کے ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد آپ کے ملک کی سالمیت پر حملہ کرتے ہیں تو آپ کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور اس دوران کچھ شہری بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ میں بھرپور طریقے سے کہتا ہوں کہ تمام تکنیکوں کو بروئے کار لاکر کسی بھی قیمت پر عام شہریوں کو بچایا جائے۔
شام کے صدر بشار الاسد نے 2011 میں شروع ہونے والے بحران سے قبل کچھ غلطیاں کی ہونگی لیکن یہ شام کے تنازعہ شروع ہونے کی اصل وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجوہات اور ہیں۔ انہیں اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور عرب کے کٹپتلی حکمرانوں کے منشاء کے مطابق احکامات کو نہیں مانتا تھا اور فلسطین کاز کا حامی تھا۔ ان ممالک نے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ انہیں حکومت سے گرا کر وہاں پر اپنے من پسند لیڈر کو لایا جا سکے۔ انہوں نے دہشت پھیلانے والے گروپوں کی پشت پناہی اور مالی مدد فراہم کی جنہوں نے سارے شام میں موت اور تباہی پھیلا دی۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چند شامیوں کو بشارالاسد سے نفرت ہوگی لیکن یہ ساری آبادی نہیں ہے، یہ تمام ممالک میں عام ہے۔ کسی ملک کا سربراہ تمام لوگوں کو پسند نہیں ہوتا، دنیا میں لوگوں کو اپنے لیڈروں سے اختلاف ہوتا ہے۔ مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ نے بشارالاسد کو ایک خونخوار حکمران کے طور پر پیش کیا تاکہ عالمی برادری کی حمایت سے انہیں حکومت سے بے دخل کیاجاسکے۔
اگر ہم اس دلیل سے اتفاق کرینگے کہ نام نہاد ’اعتدال پسند باغی‘ وہاں جمہوریت کا قیام عمل میں لانا چاہتے تھے لیکن شہریوں کے سروں کو قلم کرنے، عصمت دری اور عام شہریوں کو تہہ تیغ کیوں کیا گیا؟ کچھ لوگوں نے اس تنازعہ کو مسلکی رنگ دیا حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ شامی افواج میں75فیصد سنی اہلکار ہیں اور وہ اپنی زندگیوں سے بھی زیادہ بشارالاسد سے محبت کرتے ہیں۔ شام میں ایران اور روس کے ابھرنے سے امریکہ، اسرائیل اور GCC کی گھناونی سازشیں خاک میں مل گئیں اور غیر ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی طرف سے تباہی اور موت کو روکا گیا۔ شامی افواج، ایران، روس اور حزب اللہ کے مزاحمتی محور نے امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور عرب کٹپتلیوں کی بری نیتوں کوناکام بنایا۔
ایران اور حزب اللہ نے شام میں اسرائیلی حمایت یافتہ ٹیومر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے خدمات میسر کیں تاکہ ایران اور لبنان سمیت تمام خطہ کو اس آگ سے بچایا جاسکے اور انہوں نے اپنے علاقوں تک پہنچنے سے قبل ہی اس دہشت کے شگوفہ کو ہی کچل ڈالا۔ ان کی مزاحمت کے سبب فلسطین کازبرقرار رہا اور عظیم اسرائیل کامنصوبہ زمین بوس ہوگیا۔ علاوہ ازیں انہوںنے تمام مذاہب کے مقامات کو محفوظ کیا جنہیں دہشت گرد تباہ کرسکتے تھے۔
مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ کا دستاویز امریکہ اور اسرائیل لکھتا ہے، وہ اپنے مفادات کی خاطر خاص حکمرانوں کی حمایت اور مخالفت کرتے ہیں۔ جس طرح سے شام میں پیش آئے حالات کو توڑ مروڑ کر ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ،اس کا مقصد عام شہریوں کی بجائے دہشت گردوں کی مدد کرنا تھا۔ آپ ذرا غور کیجئے! کیا ان ذرائع ابلاغ کی دکانوں نے اسی طرح جوش و جذبے کے ساتھ یمن ، بحرین، فلسطین، افغانستان، پاکستان، لیبیا، روہنگیا، عراق ، نائجیریا اور دنیا کے دیگر خطوں میںکئے گئے قتل عام کی تشہیر کی؟ انہوں نے عراق اور شام میں امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو اجاگر نہیں کیا۔ کوئی جنوبی شام کے عفرین میں ترک افواج کی طرف سے مارے جانے والے لوگوں کو بچانے کیلئے ہیش ٹیگ (hashtags) نہیں پھیلا رہا ہے۔جب عام شہریوں کی زبوں حالی اور تباہی کی بات آتی ہے تو ان کے پروپگنڈہ مہم میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ جتنی جلدی ہم اس حقیقت کا ادراک کرینگے، یہ دنیا میں امن کیلئے بہتر ہوگا۔
مصنف مشرق وسطی کیلئے سیاسی تجزیہ نگار ہے اور ان سے monisshah4u@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔
دنیا
کولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
میکسیکو سٹی، کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے 10 اگست کو آئے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئینی طور پر معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کاراکول ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’میں نے اس بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارے آئین میں فراہم کردہ ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے 53,526 مکانات کو نقصان پہنچا، 140 عمارتیں منہدم ہوگئیں، جبکہ 1,819 تعلیمی ادارے، 631 کمیونٹی مراکز اور 179 طبی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ایک پیدل پل تباہ ہوگیا، جبکہ 20 شاہراہوں کے پل، سڑکوں کے 203 حصے، پانی کی فراہمی کے 44 نظام اور 5 ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، قدرتی آفات کے خطرات کے انتظام کی قومی اکائی کے سربراہ ڈیوڈ تامایو نے کہا کہ کولمبیا کو شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے خصوصی تلاش اور بچاؤ ٹیمیں موصول ہوں گی۔
میریدیانو ریجنل کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق تامایو نے کہا، ’’ہم امریکہ، ایل سلواڈور، ایکواڈور اور اسرائیل کی تلاش اور بچاؤ ٹیموں سے مدد کے لیے تعاون، درخواستوں اور اپیلوں کو باضابطہ شکل دینے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس سے کولمبیا کے ان امدادی کارکنوں کی مدد اور جزوی طور پر متبادل انتظام ممکن ہوگا، جو کئی دنوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
اس وقت کولمبیا بھر میں تلاش اور بچاؤ کی 23 منظور شدہ ٹیمیں تعینات ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ٹیمیں چوکو اور وائے کا ڈیل کاؤکا کے علاقوں کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ دیگر مقامات پر کام کر رہی ہیں۔
10 اگست کی صبح کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کا مرکز چوکو محکمہ میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے بیشتر علاقوں اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے بتایا کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 265 ہوگئی ہے، جبکہ 3,494 افراد زخمی اور 496 لاپتہ ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
