تازہ ترین
مشرق وسطی تنازعہ:شام کا راز بے نقاب
مونس شاہ
مشرقی غوطہ جو ملک کے دارالحکومت دمشق کی طرف ہے اور جو 2102 سے متعدد دہشت پھیلانے والے گروپوں کے گھیرے میں ہے ، اس وقت ذرائع ابلاغ میں چھایا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ کے معاملہ پر بین الاقوامی براداری کا گہری نیند سے جاگنا اچھا ہے، اگرچہ کافی دیر سے ہی سہی۔ ایسا ہی وہ اُس وقت بھی کرسکتے تھے جب غیر ممالک کی پشت پناہی کے100اقوام کے دہشت گردوں نے 2012میں مشرقی غوطہ کو قبضہ میں لے لیا۔ قلیل تعداد میں لوگوں کومشرقی غوطہ میںان برسوں کے دوران عام شہریوں کی پُر آشوب صورتحال پر تشویش تھی جب دہشت گردوں نے ظلم و جبر کے تمام ریکارڈ مات کئے۔ مشرقی غوطہ کے حالات پر سینہ پیٹنے والے اُس وقت کہاں تھے جب دہشت گرد لوگوں کے سرقلم کرتے، عصمت دری کرتے اورمعصوموں کو خون میں نہلاتے اور اب یہ اچانک مشرقی غوطہ کے عوام کے خیرخواہ بن گئے ہیں۔ مشرقی غوطہ میں جب عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے، انہوں نے ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لایا ۔
انہوں نے کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا جب دمشق میں عام شہریوں کی ہلاکت کیلئے دہشت گرد مارٹل شل، میزائل اور دیگر ہتھیار استعمال کررہے تھے۔
انہوں نے اس وقت آواز اٹھائی جب شامی عربی فوج اور دیگر اتحادیوں نے مشرقی غوطہ کو انتہا پسندوں سے آزاد کرانے کیلئے حملے شروع کئے۔ فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے ساتھ ہی مغربی میڈیا نے پروپگنڈہ مہم شروع کی کہ یہ مشرقی غوطہ میں شہریوں کیخلاف حملہ ہے۔ انہوں نے شہ سرخیاں جیسے ” محاصرہ میں پھنسا مشرقی غوطہ پر حملہ“ بنانی شروع کیں حتی کہ یہ جانے بغیر کہ دہشت گردوں نے پچھلے 6 برسوں سے علاقہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ نے وہی رویہ اپنا یاجو انہوں نے الیپو کو دسمبر 2016 میں آزاد کرانے کیلئے اپنایا تھا۔ وہ وہی پروپگنڈا دہرا رہے ہیں کہ شامی فوج اور اتحادی بچوں، خواتین کو قتل کررہی ہیں اور کیمیائی حملہ کررہی ہے۔ مشرقی غوطہ میں قتل عام ہونے کی بہت ساری تصاویر مختلف ذرائع ابلاغ میں تقسیم کی گئیں اور یہ تصاویر جنگ سے تباہ یمن، غزا ، عراق ، مصر، روہنگیا، منگولیا کی تھی جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تاکہ شامی حکومت کیخلاف بیرونی فوجی مداخلت کی جائے۔
امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام عائد کرتے ہوئے شامی افواج پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں کیخلاف کیوں کیمیائی حملہ کرے گی جب انہوں نے انکی حمایت کی اور لوگوں نے دہشت گردوں کیخلاف نفرت کااظہار کیا جنہیں مشرقی غوطہ میں ایک لمبے عرصہ سے یرغمال بنایا گیا ہے۔
شامی افواج نے مشرقی غوطہ کا 70فیصد حصہ غیر ملکوں کے پشت پناہی والے تخریب کاروں سے دوبارہ حاصل کیا ہے ، وہ جیتنے کی حالت میں ہے اور وہ کیوں اس جیت کو ختم کرسکتے ہیں؟ دہشت گرد عام شہریوں کو وہاں سے جانے نہیں دیتے اور محفوظ راہداری پر گولہ باری کرتے ہیں جو شامی اور اتحادی افواج نے بنا ئی ہے لیکن نام نہاد انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے دہشت گردوں کی بربریت اور انسانیت سوز عوامل کو دیکھ نہیں پاتے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کو 2ذرائع سے ،ایک وائٹ ہیلمٹس(White Helmets)، جو اپنے آپ کو شام کا سول ڈیفنس اور دوسرا انسانی حقوق پر نظرگزر رکھنے والی نام نہاد تنظیم Syrian Observatory for Human Rights (SOHR) سے شام کے حالات و اقعات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ وائٹ ہیلمٹس کو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے اتحادیوں سے فنڈ ملتے ہیں ۔ پروپگنڈا مواد حاصل کرنے کیلئے وہ دہشت گردوں کے زیر اثر علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں اور وہ دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں اور انہیں شامی افواج کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائسٹس (Syrian Observatory for Human Rights) کلی طور پر ایک ہی آدمی آرام دہ کمرے میںبرطانیہ میں چلا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شام کی تارہ ترین صورتحال سے اسے کارکن آگاہ کرتے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ نام نہاد کارکن بیرون ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی بربریت اور قتل عام کی تازہ صورتحال کے بارے میں معلومات نہیں پہنچاتے۔
وہ دہشت گردوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے من گھڑت کہانیاں بناتے ہیں تاکہ شامی افواج کے آپریشن کیخلاف دنیا سے حمایت حاصل کرسکے اور اس طرح ان دہشت گردوں کو بچایاجائے۔ آلہ کاروں کی بدولت شام میں دہشت گرد اعلیٰ تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ ان کی خاطر پروپگنڈا چلائے، کارپوریٹ میڈیا کا تعلق صرف روپے سے ہے۔ جب آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کارپوریٹ میڈیا کومطیع بنا کر انہیں وائٹ ہیلمٹ اور نام نہاد سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی دھنوں پر نچا سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے راکٹ سائنس نہیں ہے جو ہالی وڈ فلموں میں ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ جیسے وہ حقیقی زندگی میں سچ ہو۔ 2016میں الیپو کو آزاد کرنے کے دوران مصر میں ایسا ہی سٹیڈیو بے نقاب کیا گیا جہاں ایسے مناظر بنائے جاتے تھے کہ الیپو میں خونریز ی ہورہی ہو اور جس کا مقصد اس علاقہ کو آزاد کرانے میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
یہ بالکل بدقسمتی ہے کہ مغربی میڈیا ان علاقوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتیں جو دہشت گردوں سے آزاد کئے گئے ہوں جیسا کہ الیپو۔ الیپو کو آزاد کرنے کی مہم کے دوران کسی بھی مغربی میڈیا نے الیپو کے لڑکے امران دقنیش سے انٹرویو نہیں کیا ، جسے وائٹ ہیلمٹ نے جھوٹے طریقہ سے پروپگنڈا مواد کیلئے استعمال کیا تھا ۔
اس کے والد محمد دقنیش نے ظاہر کیا کہ اس کے بیٹے کو زبردستی نارنگی رنگ کی ایمبولنس میں ڈالا گیا تاکہ اسے شامی ہوائی حملہ میں زخمی کے طورپر دکھایا جائے جو کہ مکمل طور پر جھوٹ ہے ۔دہشت گردوں کے قبضہ سے حال ہی میں آزاد کئے گئے الیپو میں مغربی میڈیا کیوں نہیں جاتا اور لوگوں کی حالت زار کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے؟ انہوں نے الیپو کو بھول کر اب مشرقہ غوطہ کا ڈرامہ شروع کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے چیخنے اورچلانے پر یقین کرنے کی وجوہات یہ ہے کہ انہیں شام میں لوگوں کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کی فکر ہے جن پر انہوں نے کروڑوں پیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ میں اس حقیقت کا اقرار کرتا ہوں کہ شام میں بے گناہ عام شہری مارے جاتے ہیں، جب کہیں پر تنازعہ ہوتا ہے تو دونوں طرف کے نقصان کوٹالا نہیں جاسکتا ہے۔ جب امریکی ، اسرائیلی اور ناٹو کے ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد آپ کے ملک کی سالمیت پر حملہ کرتے ہیں تو آپ کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور اس دوران کچھ شہری بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ میں بھرپور طریقے سے کہتا ہوں کہ تمام تکنیکوں کو بروئے کار لاکر کسی بھی قیمت پر عام شہریوں کو بچایا جائے۔
شام کے صدر بشار الاسد نے 2011 میں شروع ہونے والے بحران سے قبل کچھ غلطیاں کی ہونگی لیکن یہ شام کے تنازعہ شروع ہونے کی اصل وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجوہات اور ہیں۔ انہیں اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور عرب کے کٹپتلی حکمرانوں کے منشاء کے مطابق احکامات کو نہیں مانتا تھا اور فلسطین کاز کا حامی تھا۔ ان ممالک نے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ انہیں حکومت سے گرا کر وہاں پر اپنے من پسند لیڈر کو لایا جا سکے۔ انہوں نے دہشت پھیلانے والے گروپوں کی پشت پناہی اور مالی مدد فراہم کی جنہوں نے سارے شام میں موت اور تباہی پھیلا دی۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چند شامیوں کو بشارالاسد سے نفرت ہوگی لیکن یہ ساری آبادی نہیں ہے، یہ تمام ممالک میں عام ہے۔ کسی ملک کا سربراہ تمام لوگوں کو پسند نہیں ہوتا، دنیا میں لوگوں کو اپنے لیڈروں سے اختلاف ہوتا ہے۔ مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ نے بشارالاسد کو ایک خونخوار حکمران کے طور پر پیش کیا تاکہ عالمی برادری کی حمایت سے انہیں حکومت سے بے دخل کیاجاسکے۔
اگر ہم اس دلیل سے اتفاق کرینگے کہ نام نہاد ’اعتدال پسند باغی‘ وہاں جمہوریت کا قیام عمل میں لانا چاہتے تھے لیکن شہریوں کے سروں کو قلم کرنے، عصمت دری اور عام شہریوں کو تہہ تیغ کیوں کیا گیا؟ کچھ لوگوں نے اس تنازعہ کو مسلکی رنگ دیا حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ شامی افواج میں75فیصد سنی اہلکار ہیں اور وہ اپنی زندگیوں سے بھی زیادہ بشارالاسد سے محبت کرتے ہیں۔ شام میں ایران اور روس کے ابھرنے سے امریکہ، اسرائیل اور GCC کی گھناونی سازشیں خاک میں مل گئیں اور غیر ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی طرف سے تباہی اور موت کو روکا گیا۔ شامی افواج، ایران، روس اور حزب اللہ کے مزاحمتی محور نے امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور عرب کٹپتلیوں کی بری نیتوں کوناکام بنایا۔
ایران اور حزب اللہ نے شام میں اسرائیلی حمایت یافتہ ٹیومر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے خدمات میسر کیں تاکہ ایران اور لبنان سمیت تمام خطہ کو اس آگ سے بچایا جاسکے اور انہوں نے اپنے علاقوں تک پہنچنے سے قبل ہی اس دہشت کے شگوفہ کو ہی کچل ڈالا۔ ان کی مزاحمت کے سبب فلسطین کازبرقرار رہا اور عظیم اسرائیل کامنصوبہ زمین بوس ہوگیا۔ علاوہ ازیں انہوںنے تمام مذاہب کے مقامات کو محفوظ کیا جنہیں دہشت گرد تباہ کرسکتے تھے۔
مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ کا دستاویز امریکہ اور اسرائیل لکھتا ہے، وہ اپنے مفادات کی خاطر خاص حکمرانوں کی حمایت اور مخالفت کرتے ہیں۔ جس طرح سے شام میں پیش آئے حالات کو توڑ مروڑ کر ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ،اس کا مقصد عام شہریوں کی بجائے دہشت گردوں کی مدد کرنا تھا۔ آپ ذرا غور کیجئے! کیا ان ذرائع ابلاغ کی دکانوں نے اسی طرح جوش و جذبے کے ساتھ یمن ، بحرین، فلسطین، افغانستان، پاکستان، لیبیا، روہنگیا، عراق ، نائجیریا اور دنیا کے دیگر خطوں میںکئے گئے قتل عام کی تشہیر کی؟ انہوں نے عراق اور شام میں امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو اجاگر نہیں کیا۔ کوئی جنوبی شام کے عفرین میں ترک افواج کی طرف سے مارے جانے والے لوگوں کو بچانے کیلئے ہیش ٹیگ (hashtags) نہیں پھیلا رہا ہے۔جب عام شہریوں کی زبوں حالی اور تباہی کی بات آتی ہے تو ان کے پروپگنڈہ مہم میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ جتنی جلدی ہم اس حقیقت کا ادراک کرینگے، یہ دنیا میں امن کیلئے بہتر ہوگا۔
مصنف مشرق وسطی کیلئے سیاسی تجزیہ نگار ہے اور ان سے monisshah4u@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا22 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
