تازہ ترین
خلیج کے سبزہ زار اب سرسبز نہیں
سمیرہ بی ریشی

2008 میں جب خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آگئی تو دنیا بھر میں بنک بحران کا شکار ہوئے اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں محنت کش طبقہ بھی اس اثر سے نہ بچ سکا۔ تجارت کے تنزل سے پانی کی سطح پر پیدا ہونے والی ننھی ننھی لہروں کی مانند اس کا اثر پورے خلیج میں پڑگیا اور روزگار کا مارکیٹ متاثر ہونے سے قیمتیں آسمان کو چھو گئیں۔ بہت سارے لوگ جو نمکین سمندر پار کرکے خلیج پہنچ گئے اور وہاں موجود بہتات میںوسائل سے فائدہ اٹھانا چاہا لیکن پھنس گئے اور اب یہ مواقع اور جوکھم سے بھری سرزمین ان کے رہنے کیلئے باعث کشش نہیں رہی۔ گھر وہاں ہے جہاں دل ہو اور دل وہاں ہے جہاں آپ کی بنیادی ضرورتیں مطمئن کرتی ہوں۔ موجودہ منظرنامہ میں کام کرنے والے افراد گھر اور بیرون ملک کے درمیان سینڈ وچ کی مانند محسوس کرتے ہیں۔ کام کرنے والے افراد کیلئے ملک نے ٹیکس سے مستشنیٰ تنخواہ، روزگار کے وسیع مواقع اور زندگی بسرکرنے کیلئے اعلیٰ معیار مہیا رکھا تھا لیکن ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) متعارف کرنے سے محنت کشوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور VAT سے جائیداد سیکٹر میں غیر یقینی کا ماحول پیدا ہوگیا اور بروکر جے جے ایل مینا کے مطابق 2018میں اس میں کمی آنے کی امید ہے۔ عربین بزنس ڈاٹ کام کی گہرائی سے کی گئی تحقیق کے مطابق خلیج میں زیادہ آزاد خیال اور اعلیٰ معیار کی زندگی بسر کرنے والے متحدہ عرب امارات میں محنت کش طبقہ یا تو اپنی مرضی سے یا پھر دیگر وجوہات یا معیشت میں غیر یقینی کے سبب ملک چھوڑ رہے ہیں۔ زندگی گزارنے کیلئے آسمان کو چھوتی قیمتیں، افرادی قوت کو قومیانے اور لگاتار تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کام کرنے والے افراد وہاں سے نکل رہے ہیں۔
دراصل پورا خطہ گھبراہٹ میں غوطہ زن ہے اور محنت کش طبقہ متحدہ عرب امارات اس وجہ سے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہاں قیام پذیر رہنا کافی مہنگا ہوگیا ہے اور ملازمت کا عدم تحفظ ہے۔ حالات اس قدر ہیں کہ کام دینے والی کمپنیاں کم تنخواہوں پر ملازمین کو بھرتی کررہی ہیں اور وہ دن کب کے گزر گئے جب بھاری تنخواہیں دی جاتی تھیں جبکہ زیادہ تر کمپنیاں سمٹ رہی ہیں۔
بزنس عرب ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے ملک کی شرح کی ترقی کی گراوٹ 2015 میں 3.9سے 2016میں 2.4 ہونے کی بات کہی ۔ حالانکہ یو اے ای کی ترقی کی شرح دیگر خلیجی ممالک سے زیادہ ہے جس کاانحصارتیل پر ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کا جی ڈی پی 2016میں 0.8فیصد کی امید تھی۔خطہ میں اقتصادی مندی کا اثر پورے خلیج میں دیکھا جاسکتا ہے اور یو اے ای اس سے کیسے مستشنیٰ رہتا۔ ہنر مند محنت کش طبقہ نےتیل اورگیس، بینکنگ یا مالیاتی سیکٹر میںکام کیا ہے، اب روزگار کے بازار کی حالت ڈھانوا ڈھول ہے، ایک دفعہ جب نوکری چلی گئی تو چشم زدن میں نئی نوکری ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ قریب 40لاکھ بیرون ملک کے لوگ 260,000 نجی کمپنیوںمیں کام کررہے ہیں۔
غیر ملکی کام کرنے والوں کی بھاری تعداد کی آمد سے اقتصادی ترقی میں اضافہ 70کے اوائل کی دہائی میں تیل کی آمدن کے ساتھ منسوب کی جاسکتی ہے۔ تیل کی دریافت کے بعد مقامی مزدوروں سے ضرورت پوری نہیں ہوسکتی تھی اس لئے غیر ملکی مزدوروں کی ضرورت پڑ گئی۔ برسوں سے اقتصادی ترقی کا دارومدار بغیر تیل کے سیکٹر اورکم اجرتوں کے غیر ملکی مزدوروں پر ہے جن کی کم تنخواہیں ہیں جو ایشیائی ممالک سے تعلق رکھتے ہیںجہاں مزدوروں کی بہتات ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے متحدہ عرب امارات اعلیٰ معیار حیات اور نوکریاں ڈھونڈنے کیلئے عارضی مزدوروں کی پسندیدہ جگہ بن گئی ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق 2013میں یو اے ای میں دنیا کا پانچواں بین الاقوامی مہاجر محنت کش طبقہ جوکُل آبادی 9.2ملین میں 7.8ملین تھا اور اس اعداد و شمار کے مطابق امارتیوں کی تعداد11فیصدتھی۔ اکثر ان مہاجر مزدوروں کا تعلق بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، فلپائن، سری لنکا اور نیپال سے ہے اور یہ تعداد یو اے ای کے نجی افرادی قوت کا90فیصد ہے۔ سیاسی استحکام، جدید بنیاڈی ڈھانچہ اوور اقتصادی ترقی کے سبب متحدہ عرب امارات اب اعلیٰ اور ادنی ہنرمندمہاجر محنت کشوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کیلئے پوری طرح سے غیر ملکی محنت کشوں پر منحصر ہے اور کام کرنے والے افراد ماضی میں اونچی تنخواہوں اور اعلیٰ معیار زندگی کی خاطر کھیچے چلے آتے تھے۔ 70کی دہائی کے اوائل میں جب پیٹرولیم کا بازار پھل پھول رہا تھا اور پیٹرو ڈالر کی بازاروں پر حکمرانی تھی، یو اے ای حکومت نے عارضی کام کرنے کا پروگرام متعارف کرایا جسے ’کفالہ سپانسرشپ نظام‘ کہا گیا اوراس نظام کے تحت نجی کمپنیاں غیر ملکی محنت کشوں کی خدمات حاصل کرتے تھے۔ کفالہ ’سپانسرشپ‘ نظام کے تحت بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عربیہ اور متحدہ عرب امارات (متحدہ طور پر ’دی گلف کوآپریشن کونسل یا (GCC)کام کرنے والے افراد مالکوں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے، وہ نوکریوں کو چھوڑ نہیں سکتے یا کچھ معاملات میں وہ مالکوں کی اجازت کے بغیر ملک بھی نہیں چھوڑ سکتے جبکہ کئی محنت کشوں کے پاسپورٹ بھی وہ اپنے قبضے میں رکھتے ، حالانکہ یہ غیر قانونی ہے۔
روزگار کا بازار ا لڑکھڑانے کے باوجود بھی متعدد لوگ یو اے ای میں اپنی قسمت آزمانے کیلئے جاتے ہیں،کثیر عوام کیلئے من پسند منزل ۔ ۔۔ خلیج فارس اب چمک دھمک کھو بیٹھا ہے۔ وقت اب بدل چکا ہے، کمپنیاں اب ان لوگوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں جو کم تنخواہ مانگے اور زیادہ کام کریں، اگر آپ نہیں تو اور لوگوں کو اونے پونے داموں کے عوض نوکریاں دی جائینگی۔محنت کشوں (ہنرمند یا غیر ہنرمند) کیلئے خوابوں کی منزل یو اے ای اب آنے والوں کیلئے دعوت دینے والا نہیں رہا جبکہ اس کی اب اتنی چمک دھمک نہیں رہی۔ اپنے گھروں کوچھوڑ کربہتر زندگی کی تلاش میں دور خلیج فارس میں وہ مکمل طور پر ناامید محسوس کررہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے سبب محنت کش طبقہ اپنی ضروریات پوری نہیں کرپاتا ہے اور وہ خوابوں کی منزل کو چھوڑ رہے ہیں۔ محنت کشوں کے آنے اور جانے کے سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں تاہم ایک امیگریشن سروس فرم ’فریگامون‘ کے مطابق 2015اور 2016کے درمیان ریذڈنسی ویزا منسوخ کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔ فرم کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2015میں 31فیصدجبکہ 2016میں48فیصد ویزا منسوخ کئے گئے۔
فرم کے مطالعہ کے مطابق کچھ صنعتوں میں لوگوں کے چلے جانے سے یو اے ای بازار اب سست اور تعطل کا شکار ہوگیا ہے جبکہ نئے آنے والے ان کی جگہ لیتے ہیں۔2016کے پہلے اوائل میں بھرتی عمل 2فیصد پر اَٹک گئی اور اگر تیل کی قیمتیں فی بیرل55ڈالر تک پہنچ جاتیں تو 2017میں یہ 2سے 3فیصد بڑھنے کی امید تھی ، گیس اور تیل سیکٹروں کا خاتمہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔
گذشتہ2برسوں کے دوران تیل سے جڑے افرادی قوت میں50سے60فیصد کمی آئی ہے لیکن اس سے منسلک خدمات میں گزشتہ برس بہتری ہوئی ہے۔ اتناہی نہیں بلکہ بنکنگ میں بھی 2016میں افرادی قوت 10سے 15فیصد تک سکڑ گئی ہے اور مینوفیکچرنگ، تیل اور گیس خدمات میں بھی کام کرنے والوں کی تعداد میں2سے3فیصد کم ہوئی ہے۔ یو اے ای میں اشتہاری ایجنسی ’مرفی ایڈس‘ کے مطابق اشیائے خوردنی، کاشتکاری ، ایروناٹیکل اینڈ ٹیکنالوجی سیکٹر بہتر کام کررہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے آئیل اینڈ گیس، تعمیرات اور اس سے منسلک صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ابو دہبی کی نیشنل آئیل کمپنی (ADNOC) کو 2016کے آخر میں55ہزار عملے میں سے 5ہزار کی کمی کرنا پڑی۔ قطر میں’ قطر پیٹرولیم ‘ نے امسال 1ہزار غیر ملکی کام کرنے والوں کو نکال دیا جبکہ ٹی وی چینل الجزیرہ نے اپریل میں امریکہ میں نشر ہونے والی چنل کے500عملے کو نکال دیا جن میں سے اکثریت دوحہ میں تھی۔
یو اے ای میں بازار سکڑ اور سمٹ رہا ہے لیکن کمپنیاں بیرون ملک کے کام کرنے والوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں اور یہ رجحان متواتر جاری ہے۔ بھرتی کرنے والی ویب سائٹ Bayt.com نے کہا ہے کہ یو اے ای میں26فیصد نے کنزیومر کانفڈنس انڈکس سروے کاردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ2016میں ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے جبکہ 48فیصد کو امید ہے کہ اس میںمزید بہتری آئے گی۔ بازار کے چند ماہرین کو امید ہے کہ دوبئی ایکسپو2020وہ کنجی ہے جس میں روزگار میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔یو اے ای میں منعقد ہونے والی اس زبان زد عام تقریب سے تعمیری پروجیکٹوں کو بڑھاوا ملنے سے 277,000 نئی نوکریاں بننے میںمدد مل جائیگی۔
تاہم ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر محنت کشوں کے چلے جانے کا یقین نہیں ہے، ان میں دبئی میں ایک بانی گروپ ’رادھا سٹرلنگ ‘ ہے۔ سٹرلنگ کے مطابق ، ان کے گروپ کو ابھی تک یہ اطلاع نہیں ملی ہے کہ Expats یو اے ای چھوڑنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ لوگ متحدہ عرب امارات کو چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ گھر جاکر وہاں کی حالت اس سے بھی بدتر ہے اور کچھ حد تک سٹرلنگ کاکہنا بھی ٹھیک ہے۔ گھرجاکر وہاں نوکریاں ملنا آسان نہیں ہے لیکن کشمکش جاری رہتی ہے اور وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جن میں صلاحیت ہوتی ہے، یہ ڈارون کا اصول ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یو اے ای میں رہنے والے لوگوں کیلئے ماحول اچھا اور محفوظ ہے لیکن لوگوں اور خاص کر محنت کش طبقہ میں روزگار کی ضمانت پر موجود خدشات ان کے ذہنوں میں گھوم رہے ہیں۔ آج کا دن گزر گیا لیکن آنے والے کل کے بارے میں بے چینی ہوتی ہے۔ یو اے ای کی کمپنی میں ایک کام کرنے والے نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں یہاں بہت خوش ہوں، مجھے کمپنی کی طرف سے رہائش میسر ہے اور اچھی بچت بھی ہوتی ہے لیکن کل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، وہ کسی بھی وقت مجھے نکال کر دوسرے شخص کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں‘۔
سارا خان ہر روز گھر سے رسمی لباس ، کھلے بال اور اچھا میک اپ کرکے نکلتی ہے، جونوکری کیلئے ضروری ہے اور وہ اچھا خاصا کماتی ہے اور یو اے ای میں وہ خوش ہے۔ تاہم اسے آنے والے دنوں کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ سارا خان کی آنکھوں میں عجیب خوف ہے اور ہر ایک دن اس کیلئے نیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساڑھے 3بجے مجھے اطمینان ہوتا ہے کہ میری نوکری محفوظ ہے لیکن اگلے دن برطرفی کے ڈراونے خواب جیسے سایہ کی طرح موجود ہے، گھر کی واپسی پر وہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔
تمام غیر یقینیت اورکمزور معیشت کے باوجود بھی طبی شعبہ ترقی کررہا ہے۔ دبئی میں ڈاکٹروں کی بھرتی کرنے والی باڈی کے سی ای او کنیز نباجی کے مطابق 2014اور 2016کے درمیان اس کے کام میں50فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس اضافہ کی وجہ حکومت کا شعبہ صحت کی صنعت میں بھاری سرمایہ کاری ہے اور نئے ہسپتال اور کلنک تعمیر ہو رہے ہیں۔ انگلینڈ، امریکہ اور بھارت سے ڈاکٹروں کیلئے یو اے ای دل لبھانے والی تنخواہیں اور مراعات فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے زیادہ سے زیادہ لوگ متحدہ عرب امارات میں تجارت کرنے کے خواہاں ہیں۔ انڈین بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل (IBPC)کے صدر کلونت سنگھ کے مطابق متحدہ عرب امارات کچھ بھارتی تاجروں کیلئے آخری نقطہ ہے اور 2016میں ممبر شپ 10سے12فیصد بڑھ گئی ہے۔ عربین بزنس ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’میں جانتا ہوں کہ معیشت لڑکھڑا رہی ہے لیکن یہ دنیا بھر کا معاملہ ہے، اگر آپ کسی ملک سے نکل جائینگے تو دوسری جگہ پر آپ کی حالت اس سے بدتر ہوگی‘۔
تمام مشکلات اور پُرخطر روزگار کے بازار ، ہنرمند اور غیر ہنر مند افراد ،مواقع کی اس سرزمین یہاں پھر بھی آتے ہیں اُسی طرح جس طرح ایک پیاسا کوا پیاس بجھانے کیلئے باغ میں گیا۔ اس وقت خلیج میں حالات مختلف ہیں، تیل کی قیمتوںمیں غیر یقینی اور امارات نے روزگار میں عدم تحفظ بنایا ہے، اس سے ان کے خواب تباہ کئے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ جہاں سے وہ آئے ہیں، وہ وہی چلے جائیں۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
