جموں و کشمیر
کٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج کہا کہ سرحدی گاؤں ہندستان کے آخری گاؤں نہیں بلکہ پہلے گاؤں ہیں، جو ملک کی شناخت اور ترقی کی اگلی صف میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑکوں سے جڑ چکے ہیں اور یہاں مکمل بجلی کاری بھی ہو چکی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے وی وی پی-2 کے تحت آنے والے چھ اہم سرحدی گاؤں کے باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں تک ’’سرحد‘‘ کا لفظ دوری کا احساس دلاتا تھا اور یہ گاؤں حکومتی ترجیحات سے دور رہے۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرحدی گاؤں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔
مسٹر سنہا نے کٹھوعہ ضلع کے سرحدی گاؤں کرول کرشنا کا دورہ کیا۔ کرول کرشنا کے علاوہ رتھوا، گجر چک، گجنال، بوبیا اور کڈیالا گاؤں بھی وائبرنٹ ولیج پروگرام-فیز 2 (وی وی پی-2) کے تحت آتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی خاندانوں کو مختلف سرکاری اسکیموں کے فوائد اور نوجوانوں کو تقرری کے خطوط بھی حوالے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہندستان کی ترقی کی داستان لکھی جائے گی تو اس کا پہلا باب کرول کرشنا، رتھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالا اور گجر چک جیسے گاؤں سے شروع ہونا چاہیے، جہاں ہندستان کی سرحد سانس لیتی ہے اور ترنگا لہراتا ہے۔‘‘
2019 کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کٹھوعہ ضلع کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑکوں سے جڑ چکے ہیں اور مکمل بجلی کاری حاصل کی جا چکی ہے۔ ٹیلی مواصلات اور ٹیلی ویژن کی سہولت، جو پہلے محدود تھی، اب ہر گھر تک پہنچ چکی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہ اعداد و شمار صرف اعداد اور رپورٹیں نہیں ہیں بلکہ یہ آپ کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غربت کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے، شہروں کی جانب نقل مکانی نصف رہ گئی ہے اور دیہی آمدنی میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے اور بے روزگاری پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ سرحدی خاندانوں کی حفاظت کے لیے 2,000 سے زیادہ انفرادی اور اجتماعی بنکر تعمیر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پوری آبادی خطِ غربت سے اوپر آ جائے۔‘‘ لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی معیشتوں کو تبدیل کرنے میں ناری شکتی کے کردار کی بھی تعریف کی۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن کے تحت 1,300 سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں، جن سے 12,000 سے زیادہ خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ خواتین سلائی، کڑھائی، دست کاری اور چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہیں، جس سے گھریلو اور گاؤں کی معیشت دونوں مضبوط ہو رہی ہیں۔
مسٹرسنہا نے سرحدی گاؤں کی نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ میٹرو شہروں کے نوجوانوں کی طرح بڑے خواب دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اب بہتر سہولیات، ڈیجیٹل کلاس روم، پیشہ ورانہ تربیت اور مکمل تعلیمی سیشن دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ نسل در نسل ہونے والی تبدیلی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی گاؤں کی ترقی اور خود کفالت کے لیے چار اہم عزم کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کو صرف سڑکوں سے نہیں بلکہ منڈیوں سے بھی جوڑ کر باغبانی اور ڈیری کوآپریٹیو کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے زراعت، سیاحت، دفاعی معاون خدمات اور دست کاری کے شعبوں میں مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے طبی خدمات اور ٹیلی میڈیسن رابطے کو مضبوط کیا جائے گا، جبکہ چوتھا عزم شہری انتظامیہ اور مسلح افواج کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعے مضبوط حفاظتی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ترقی اور سلامتی الگ الگ مقاصد نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے دو ستون ہیں۔ صرف محفوظ گاؤں ہی خوشحال گاؤں بن سکتا ہے اور صرف خوشحال گاؤں ہی خود کفیل اور ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر کر سکتے ہیں۔‘‘ لیفٹیننٹ گورنر نے کرول کرشنا اور آس پاس کے گاؤں کے نوجوانوں اور خاندانوں سے اپنے مستقبل کی تشکیل کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ’’میں کرول کرشنا، رتھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالا اور گجر چک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک آپ کے آباؤ اجداد نے مشکلات کے باوجود اس سرزمین کو سنبھالے رکھا۔ اب اسے آگے لے جانے کی ذمہ داری آپ کی ہے۔ آج وسائل آپ کے ہاتھ میں ہیں اور اگر کہیں بھی کوئی کمی رہ گئی تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے فوری طور پر دور کیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’آج بڑا سوال یہ ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ اپنے گاؤں کو کہاں تک لے جائیں گے؟ کیا کرول کرشنا صرف ایک سرحدی گاؤں کے طور پر جانا جائے گا یا ایسے سرحدی گاؤں کے طور پر جس سے ملک کے بہترین نوجوان پیدا ہوں؟ اس کا فیصلہ اب نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘ سنہا نے کہا، ’’میں سرحدی گاؤں کے تمام خاندانوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ترقی کی روشنی ہر گھر تک پہنچے۔ وائبرنٹ ولیجز پروگرام ایک قومی عزم ہے اور اب ہم سرحدی گاؤں کو پیچھے نہیں رہنے دیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’آپ ہندستان کا ’پہلا نام‘ ہیں۔ آپ ملک کا حاشیہ نہیں بلکہ اگلی صف ہیں۔ آپ وہ جگہ ہیں جہاں سے ہندستان دکھائی دیتا ہے۔ جب تک ہمارا سپاہی سرحد پر کھڑا ہے اور اس کے پیچھے سرحدی گاؤں مضبوطی سے کھڑے ہیں، ہندستان مضبوط ہے۔ ہندستان ناقابلِ شکست ہے، ہندستان لازوال ہے۔‘‘ علاقے کے لوگوں کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر لیفٹیننٹ گورنر نے کٹھوعہ کے باشندوں کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے فوری کارروائی کی جائے گی۔
کرول کرشنا بارڈر آؤٹ پوسٹ (بی او پی) کے دورے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے جوانوں سے ملاقات کی اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ان کے مستقل عزم اور آپریشن سندور کے دوران ان کی غیر معمولی خدمات کی تعریف کی۔
انہوں نے دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحانہ کوشش کو ناکام بنانے اور اسے بے اثر کرنے کے لیے مسلسل چوکسی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں ایس او جی نے ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ اور منشیات سمیت گرفتار کیا
جموں، جموں کی اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کو ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات سمیت گرفتار کرلیا۔
سرکاری بیان کے مطابق، جموں ایس او جی نے جموں اور سانبہ میں کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے تین آتشیں ہتھیار، جن میں دو پستول اور ایک دیسی ساختہ پستول (کٹا) شامل ہے، کے علاوہ ہیروئن (چِٹا) برآمد کی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت سانبہ ضلع کے باری برہمنہ کے پلی کے رہنے والے ونش شرما اور باری برہمنہ کے پالی ٹانڈہ کے رہنے والے یوگیشور سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات کے دوران ونش شرما کے مبینہ طور پر وکاس سالتھیا عرف وکی خوف اور روہت کمار عرف مکھن سے وابستہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ دونوں جموں خطے میں مبینہ طور پر اسلحہ کی سپلائی کے نیٹ ورک اور مجرمانہ سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے ونش شرما کے پنجاب میں مقیم گینگسٹرز کے ساتھ مبینہ روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے اور ان کا منصوبہ غیر قانونی ہتھیار حاصل کرنے اور پنجاب میں ایک ہدف بنا کر حملہ کرنے کا تھا۔
بیان کے مطابق، مکمل نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور دیگر ساتھیوں کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
