جموں و کشمیر
جموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
جموں، جموں-سری نگر ریلوے روٹ کو جلد ہی تیسری وندے بھارت ٹرین ملنے والی ہے، جس کا ادھم پور ضلع میں بھی اسٹاپ ہوگا۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ’’ادھم پور کے لیے اچھی خبر ہے! مقامی لوگوں کے دیرینہ مطالبے اور ہماری جانب سے کی گئی پُرخلوص درخواست کے جواب میں ریلوے وزارت نے جموں اور سری نگر کے درمیان چلنے والی تیسری اور نئی وندے بھارت ایکسپریس کے لیے ادھم پور کو اسٹاپ کے طور پر شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اس خطے کے عوام کی امنگوں کے تئیں حساسیت کا اظہار ہے۔‘‘ انہوں نے اس مثبت اور فوری اقدام کے لیے ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
واضح رہے کہ فی الحال جموں اور سری نگر کے درمیان دو وندے بھارت ٹرینیں چار سروسز کے ساتھ چل رہی ہیں۔
کشمیر وادی کے لیے دونوں وندے بھارت ٹرینوں کا افتتاح 6 جون 2025 کو کیا گیا تھا اور ابتدا میں یہ شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اور سری نگر کے درمیان چلائی گئی تھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج کہا کہ سرحدی گاؤں ہندستان کے آخری گاؤں نہیں بلکہ پہلے گاؤں ہیں، جو ملک کی شناخت اور ترقی کی اگلی صف میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑکوں سے جڑ چکے ہیں اور یہاں مکمل بجلی کاری بھی ہو چکی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے وی وی پی-2 کے تحت آنے والے چھ اہم سرحدی گاؤں کے باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں تک ’’سرحد‘‘ کا لفظ دوری کا احساس دلاتا تھا اور یہ گاؤں حکومتی ترجیحات سے دور رہے۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرحدی گاؤں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔
مسٹر سنہا نے کٹھوعہ ضلع کے سرحدی گاؤں کرول کرشنا کا دورہ کیا۔ کرول کرشنا کے علاوہ رتھوا، گجر چک، گجنال، بوبیا اور کڈیالا گاؤں بھی وائبرنٹ ولیج پروگرام-فیز 2 (وی وی پی-2) کے تحت آتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی خاندانوں کو مختلف سرکاری اسکیموں کے فوائد اور نوجوانوں کو تقرری کے خطوط بھی حوالے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہندستان کی ترقی کی داستان لکھی جائے گی تو اس کا پہلا باب کرول کرشنا، رتھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالا اور گجر چک جیسے گاؤں سے شروع ہونا چاہیے، جہاں ہندستان کی سرحد سانس لیتی ہے اور ترنگا لہراتا ہے۔‘‘
2019 کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کٹھوعہ ضلع کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑکوں سے جڑ چکے ہیں اور مکمل بجلی کاری حاصل کی جا چکی ہے۔ ٹیلی مواصلات اور ٹیلی ویژن کی سہولت، جو پہلے محدود تھی، اب ہر گھر تک پہنچ چکی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہ اعداد و شمار صرف اعداد اور رپورٹیں نہیں ہیں بلکہ یہ آپ کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غربت کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے، شہروں کی جانب نقل مکانی نصف رہ گئی ہے اور دیہی آمدنی میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے اور بے روزگاری پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ سرحدی خاندانوں کی حفاظت کے لیے 2,000 سے زیادہ انفرادی اور اجتماعی بنکر تعمیر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پوری آبادی خطِ غربت سے اوپر آ جائے۔‘‘ لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی معیشتوں کو تبدیل کرنے میں ناری شکتی کے کردار کی بھی تعریف کی۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن کے تحت 1,300 سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں، جن سے 12,000 سے زیادہ خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ خواتین سلائی، کڑھائی، دست کاری اور چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہیں، جس سے گھریلو اور گاؤں کی معیشت دونوں مضبوط ہو رہی ہیں۔
مسٹرسنہا نے سرحدی گاؤں کی نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ میٹرو شہروں کے نوجوانوں کی طرح بڑے خواب دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اب بہتر سہولیات، ڈیجیٹل کلاس روم، پیشہ ورانہ تربیت اور مکمل تعلیمی سیشن دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ نسل در نسل ہونے والی تبدیلی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی گاؤں کی ترقی اور خود کفالت کے لیے چار اہم عزم کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کو صرف سڑکوں سے نہیں بلکہ منڈیوں سے بھی جوڑ کر باغبانی اور ڈیری کوآپریٹیو کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے زراعت، سیاحت، دفاعی معاون خدمات اور دست کاری کے شعبوں میں مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے طبی خدمات اور ٹیلی میڈیسن رابطے کو مضبوط کیا جائے گا، جبکہ چوتھا عزم شہری انتظامیہ اور مسلح افواج کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعے مضبوط حفاظتی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ترقی اور سلامتی الگ الگ مقاصد نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے دو ستون ہیں۔ صرف محفوظ گاؤں ہی خوشحال گاؤں بن سکتا ہے اور صرف خوشحال گاؤں ہی خود کفیل اور ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر کر سکتے ہیں۔‘‘ لیفٹیننٹ گورنر نے کرول کرشنا اور آس پاس کے گاؤں کے نوجوانوں اور خاندانوں سے اپنے مستقبل کی تشکیل کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ’’میں کرول کرشنا، رتھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالا اور گجر چک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک آپ کے آباؤ اجداد نے مشکلات کے باوجود اس سرزمین کو سنبھالے رکھا۔ اب اسے آگے لے جانے کی ذمہ داری آپ کی ہے۔ آج وسائل آپ کے ہاتھ میں ہیں اور اگر کہیں بھی کوئی کمی رہ گئی تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے فوری طور پر دور کیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’آج بڑا سوال یہ ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ اپنے گاؤں کو کہاں تک لے جائیں گے؟ کیا کرول کرشنا صرف ایک سرحدی گاؤں کے طور پر جانا جائے گا یا ایسے سرحدی گاؤں کے طور پر جس سے ملک کے بہترین نوجوان پیدا ہوں؟ اس کا فیصلہ اب نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘ سنہا نے کہا، ’’میں سرحدی گاؤں کے تمام خاندانوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ترقی کی روشنی ہر گھر تک پہنچے۔ وائبرنٹ ولیجز پروگرام ایک قومی عزم ہے اور اب ہم سرحدی گاؤں کو پیچھے نہیں رہنے دیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’آپ ہندستان کا ’پہلا نام‘ ہیں۔ آپ ملک کا حاشیہ نہیں بلکہ اگلی صف ہیں۔ آپ وہ جگہ ہیں جہاں سے ہندستان دکھائی دیتا ہے۔ جب تک ہمارا سپاہی سرحد پر کھڑا ہے اور اس کے پیچھے سرحدی گاؤں مضبوطی سے کھڑے ہیں، ہندستان مضبوط ہے۔ ہندستان ناقابلِ شکست ہے، ہندستان لازوال ہے۔‘‘ علاقے کے لوگوں کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر لیفٹیننٹ گورنر نے کٹھوعہ کے باشندوں کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے فوری کارروائی کی جائے گی۔
کرول کرشنا بارڈر آؤٹ پوسٹ (بی او پی) کے دورے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے جوانوں سے ملاقات کی اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ان کے مستقل عزم اور آپریشن سندور کے دوران ان کی غیر معمولی خدمات کی تعریف کی۔
انہوں نے دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحانہ کوشش کو ناکام بنانے اور اسے بے اثر کرنے کے لیے مسلسل چوکسی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
کرّا نے امریکی سفیر کے بیان پر سوال اٹھایا، کہا جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے
سری نگر، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق کرّا نے جمعرات کو ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کے اس بیان پر سوال اٹھایا جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کو ’’ہندوستان کا ایک اہم حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔ کرّا نے کہا کہ یہ خطہ ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہا ہے۔
گور کے جموں و کشمیر کے پہلے دورے کے دوران دیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرّا نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ اٹوٹ حصہ رہے گا۔ ہمیں پہلی مرتبہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم اہم ہیں۔‘‘
ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بدھ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے اپنے پہلے دورے کے دوران اسے ’’ہندوستان کا ایک اہم حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ امریکہ اس خطے کے لیے اپنی سفری ہدایات پر نظرثانی کرے گا۔
کرّا نے کہا کہ جموں و کشمیر اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور متعدد ممالک، بشمول ’’دو انتہائی مخالف پڑوسی ممالک‘‘ سے قربت کی وجہ سے اسٹریٹجک اعتبار سے اہم ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں تیسرے فریق کی مداخلت میں اضافہ ہوا ہے، حالانکہ شملہ معاہدہ ایسی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔
کرّا نے کہاکہ ’’اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ وہ مختلف بہانوں سے ہماری آڑ میں اپنی بندوقیں نصب کرے گا تو یہ ہمیں ہرگز قبول نہیں ہے۔‘‘
پاکستان کی جانب سے گور کے بیان کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرانے کے بارے میں پوچھے جانے پر کرّا نے کہاکہ ’’انہیں اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں تھا۔‘‘
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ کانگریس جموں و کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ مانتی ہے اور یہ خطہ ’’ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہے گا۔‘‘
یواین آئی۔ طا
جموں و کشمیر
لداخ میں آب پاشی اور آبی تحفظ کے لیے روزانہ 9 کروڑ لیٹر برفانی پانی استعمال کیا جانے لگا
سری نگر، آبی اور زرعی تحفظ کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لداخ اپنے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے پانی کو کھیتوں کے لیے زندگی کی لکیر میں تبدیل کر رہا ہے۔
روزانہ تقریباً 9 کروڑ لیٹر گلیشیائی پانی، جو پہلے بغیر استعمال کے دریائے سندھ میں بہہ جاتا تھا، اب ہزاروں ایکڑ اراضی کی آب پاشی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
یہ پہل لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ کی قیادت میں شروع کی گئی ہے۔ اس کے تحت لیہہ کے اسٹوگ گاؤں نالہ سے آنے والے گلیشیائی پگھلے پانی کو ایگو-پھے آب پاشی نہر میں منتقل کیا جارہا ہے۔ اس منصوبے سے تقریباً 12 گاؤں مستفید ہوں گے اور ایک ہزار ایکڑ سے زائد ایسی اراضی کو آب پاشی کی سہولت ملے گی جو پانی کی کمی کے باعث پہلے بنجر اور خشک پڑی رہتی تھی۔
حکام کے مطابق اس اہم منصوبے میں سادہ زمینی کام کے ذریعے گلیشیائی پانی کے بہاؤ کو موڑ کر استعمال میں لایا جارہا ہے اور اس پر کسی بڑے سرمایہ جاتی اخراجات کی ضرورت نہیں پڑی۔ اسے لداخ کو سرسبز، آبی طور پر محفوظ اور خود کفیل خطے میں تبدیل کرنے کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا جارہا ہے۔
اگرچہ لداخ گلیشیئرز اور برف پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن اس کی بڑی قابلِ کاشت اراضی کو تاریخی طور پر آب پاشی کے شدید بحران کا سامنا رہا ہے۔ بڑی مقدار میں دستیاب لیکن غیر استعمال شدہ پانی اور خشک زرعی زمینوں کے درمیان یہ عدم توازن طویل عرصے سے دیہی معیشت اور روزگار کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔
اس اہم مسئلے کو محسوس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے مختلف دیہات کے دوروں کے دوران ایسے مقامات کی نشاندہی کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کی جہاں گلیشیئر کا بڑی مقدار میں پانی دریائے سندھ کی طرف بہہ جاتا ہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گلیشیئر اور برف پگھلنے سے حاصل ہونے والا پانی ضائع ہونے کے بجائے مفید کام میں آئے، لیفٹیننٹ گورنر نے سب سے پہلے اسٹوگ گاؤں نالہ کی نشاندہی کی، جہاں سے پانی کو موجودہ نہر میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔ اسٹوگ نالہ لیہہ کے قریب اسٹوگ کانگری گلیشیئر سے پانی حاصل کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر محکمہ آب پاشی و سیلاب کنٹرول نے 14 اگست کو نالے کے مرکزی آبی راستے سے اضافی گلیشیائی پانی کو ایگو-پھے نہر میں منتقل کرنے کے لیے جے سی بی مشین کی مدد سے دو خندقیں بنا کر کامیابی سے پانی کا رخ موڑ دیا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظا
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان1 week agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
دنیا6 days agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
ہندوستان1 week agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoکولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
