دنیا
ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ کیا محفوظ طریقے سے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
تہران، ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں یہ معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کو افزودہ یورینیئم اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ یورینیئم حاصل کریں گے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں لیکن ایران کو رکھنے نہیں دیں گے، ممکنہ طور پر اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکم دیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کسی صورت ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ ذخیرہ قومی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی اہلکار نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ رہبرِ اعلیٰ نے یورینیئم ملک میں رکھنے سے متعلق ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 440 کلو گرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد سطح سے کم ہے، تاہم اس مرحلے سے 90 فیصد تک پہنچنا نسبتاً تیز اور آسان ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق نظریاتی طور پر یہ مقدار مزید افزودگی کے بعد 10 سے زائد جوہری وار ہیڈز بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے، تاہم امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ 60 فیصد افزودگی عام سول نیوکلیئر پروگرام کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ افزودہ یورینیئم زیادہ تر یورینیئم ہیکسا فلورائیڈ گیس کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو انتہائی خطرناک اور زہریلا مادہ تصور کیا جاتا ہے، اگر یہ گیس خارج ہو جائے تو مہلک کیمیائی مرکبات پیدا کرسکتی ہے جو سانس اور جلد دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق اس مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنا ممکن ہے، اس مقصد کے لیے خصوصی مضبوط اسٹیل سلنڈر استعمال کیے جاتے ہیں جو شدید دباؤ، حرارت اور حادثات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی منتقلی کی مثالیں بھی موجود ہیں، سرد جنگ کے بعد امریکہ نے 1994ء میں قازقستان سے تقریباً 600 کلو گرام ہتھیاروں کے درجے کا یورینیئم خفیہ آپریشن پروجیکٹ سیفائر کے تحت منتقل کیا تھا۔ ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم ختم یا ملک سے باہر منتقل کیے بغیر خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یورینیئم کے ذخیرے کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا کر چکا ہے، اسی لیے اس موضوع کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ماضی میں یہ تجویز بھی دی تھی کہ 60 فیصد افزودہ یورینیئم کو دوبارہ 3.67 فیصد سطح تک کم کر دیا جائے، تاہم اس معاملے پر اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
کیف، یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف میں روسی فوج کے ایک حملے میں کم از کم 22 افراد زخمی ہوگئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملہ ملک بھر میں روسی حملوں کے نتیجے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے ایک دن سے بھی کم وقت بعد ہوا۔
خارکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بتایا کہ پیر کی صبح روسی فوج کے ایک گائیڈڈ فضائی بم نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کثیر المنزلہ عمارت کی دو منزلیں تباہ ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔
اتوار کو بھی یوکرین بھر میں روسی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
یوکرین کے وزیر داخلہ ایوان ویہیوسکی نے بتایا کہ شمالی شہر سومی میں فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں کے ایک مرکز کو نقصان پہنچا اور تین افراد، جن میں 16 سالہ لڑکی بھی شامل ہے، ہلاک ہوگئے۔
ادھر اوڈیسا کے علاقے کے حکام نے بتایا کہ بحیرہ اسود کے جنوبی علاقے میں ایک ’’بڑے پیمانے کے حملے‘‘ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ حملے میں رہائشی عمارتوں، ایک دکان، ایک ہوٹل، ایک طبی عمارت اور اناج کے گودام کو نقصان پہنچا۔
دارالحکومت کیف میں میئر وٹالی کلِچکو نے بتایا کہ ایک خاتون اور دو 16 سالہ نوجوان زخمی ہوگئے، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
شہر کی انتظامیہ نے کہا، ’’دشمن حملہ آور ڈرونز کے ذریعے کیف کے علاقے پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔‘‘
انتظامیہ کے مطابق حملوں میں 16 مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں 12 مکانات، ایک گودام اور ایک پیداواری مرکز شامل ہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ جنوبی علاقے زاپوریژیا میں روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کیف میں روسی ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا۔
زیلنسکی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ روس نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین کے خلاف 2,200 سے زیادہ حملہ آور ڈرون، 1,630 فضائی بم اور مختلف نوعیت کے 38 میزائل داغے۔
بعد میں اپنے ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا، ’’اگر روس واقعی کشیدگی میں کمی کی جانب کسی حقیقی قدم کی تیاری کر رہا ہوتا، جیسا کہ وہ امریکی مذاکرات کاروں سے دعویٰ کرتا ہے، تو شہید ڈرونز کے ذریعے دہشت کی یہ لہر جاری نہ ہوتی۔‘‘
انہوں نے ان ڈرونز کا حوالہ دیا جنہیں روس یوکرین کے خلاف استعمال کرتا ہے اور جو ایران میں تیار کیے گئے ہیں۔
ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے کیف میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’کیئف اسٹار‘ کے ایک ڈیٹا سینٹر اور ’اومیگا ٹیلی کام‘ کے ایک اور ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں یوکرینی فوج کو خدمات فراہم کر رہی تھیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ہفتے کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اپنی فوجی مہم ’’آخر تک‘‘ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ادھر مقامی اطلاعات کے مطابق پیر کو یوکرینی ڈرونز نے روس کے کراسنودار خطے میں ایک تیل کے ڈپو کو نشانہ بنایا۔
یوکرینی ٹیلی گرام چینل ’ایگزیلینووا پلس‘ نے ایک بڑے پیمانے پر لگی آگ کی ویڈیو جاری کی اور اس مقام کی شناخت پاولوسکایا آئل ڈپو کے طور پر کی۔اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
یوکرین نے حالیہ ہفتوں کے دوران روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کسی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکے ہیں۔ یہ جنگ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ نے جنگ کے نتیجے میں شہریوں پر پڑنے والے بڑھتے ہوئے اثرات اور جانی نقصان پر تشویش ظاہر کی ہے۔
دونوں فریق شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
ویانا، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی تجویز پر اختلافات نے تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر ایک فیصد سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگی تنازعے کے حل اورآبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی امن تجویز مسترد کر دی۔
عالمی معیار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً ایک سو پانچ ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل، جسے ‘ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ’ کہا جاتا ہے، ترانوے ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
کیپلر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران اس امن اقدام کا اعلان کیا تھااور تصدیق کی تھی کہ یہ قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا کہ انہوں نے اس روڈ میپ کو مسترد کر دیا، اگرچہ انہوں نے اتوار کو ایک فون انٹرویو میں خبر رساں ادارے ‘ایکسیوس’ کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے مزید بات چیت کریں گے۔
ہفتے کے اوائل میں یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے تصدیق کی کہ اس نے حوثیوں کی طرف سے مملکت کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو روک لیا تھا۔
امریکی انتظامیہ کے ریکارڈ ملکی ایندھن قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ڈیزل برآمدات پر پابندی عائد کر سکنے کے احتمال کے پیش نظر برینٹ کی قیمتیں پچھلے ہفتے 0.4 فیصد بڑھیں، جبکہ WTI 7.9 فیصد گر ا۔
دریں اثنا، کلیدی مشرقِ وسطیٰ کے پیداواری ممالک کی خام تیل کی برآمدات ستمبر میں دوبارہ بڑھ کر یومیہ 12.8 ملین بیرل تک پہنچ گئیں، جو فروری میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ریکارڈ شدہ سب سے زیادہ مقدار ہے، یہ اعداد و شمار پیر کو Kpler کے ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے اعلان کے بعد آئے ، جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ترسیلات میں اضافہ کیا۔
یہ تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب سعودی عرب نے ریڈ سی کے بندرگاہ ینبع سے اپنی برآمدات کو ہٹاتے ہوئے مشرقی ٹرمینل راس تنورہ کی طرف منتقل کر دیا، اس کے بعد کہ عسکری حملوں نے اس کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچایا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی حکام نے چین کو ہتھیار فروخت کرنے کے منصوبے کی تردید کی: وال اسٹریٹ جرنل
نیویارک، امریکی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ واشنگٹن نے بیجنگ کو امریکی ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش کی ہو سکتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے یہ اطلاع دی ہے۔
اتوار کو چین میں امریکی سفیر ٹیری برانسٹڈ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر چینی صدر شی جن پنگ کو امریکی ہتھیار خریدنے کی تجویز دی تھی۔ برانسٹڈ نے یہ نہیں بتایا کہ شی جن پنگ نے اس پر کیا جواب دیا تھا۔
اخبار نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا چین کو ہتھیار فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ایک دوسرے عہدیدار نے اخبار سے بات کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ چین کو ہتھیاروں کی فروخت قانون کے تحت ممنوع ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے بیجنگ کو ایسی کوئی پیشکش نہیں کی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
