ہندوستان
ہندوستان ہائی الرٹ پر: وزیر دفاع کی قیادت میں مغربی ایشیا کی کشیدگی کے تعلق سے ہنگامی جائزہ
پروندر سندھو
نئی دہلی، مغربی ایشیا کا تنازع چوتھے ہفتے میں داخل ہونے اور کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہ آنے کے باعث، مرکزی حکومت نے بحران کی نگرانی کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے منگل کے روز اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تاکہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت کے ہائی الرٹ ہونے کا اشارہ ہے۔
اس میٹنگ میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان: جنرل اوپیندر دویدی، ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی، ایئر مارشل اے پی سنگھ کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان، ڈی آر ڈی او کے سربراہ ڈاکٹر سمیر وی کامت اور ڈیفنس سکریٹری راجیش کمار سنگھ نے شرکت کی۔
یہ میٹنگ وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کے ایک دن بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازع کو “تشویشناک” قرار دیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ طویل مدتی عداوت ہندوستان کے لیے سنگین معاشی، سکیورٹی اور انسانی چیلنجز پیدا کر رہی ہے، جبکہ حکومت بیرون ملک مقیم شہریوں اور سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
پیر کے روز لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تین ہفتوں سے زائد عرصے پر محیط یہ بحران پہلے ہی “عالمی معیشت اور لوگوں کی زندگیوں پر انتہائی منفی اثرات” مرتب کر رہا ہے، جبکہ ہندوستان کے لیے ” غیرمعمولی چیلنجز” پیدا ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ایوان زیریں کو بتایا، “مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے۔ یہ بحران اب تین ہفتوں سے زیادہ طویل ہو چکا ہے اور پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔”
دریں اثنا، آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی آمد و رفت میں شدید خلل کے بعد، ہندوستانی بحریہ نے بھی سمندری سکیورٹی آپریشنز تیز کر دیے ہیں تاکہ ہندوستان آنے والے جہازوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے، جن میں ایل پی جی اور خام تیل کے ٹینکرز بھی شامل ہیں جو کئی دنوں سے اس اہم مقام پر پھنسے ہوئے تھے۔
رپورٹوں کے مطابق، ‘آپریشن سنکلپ’ کے تحت تعینات متعدد ہندوستانی بحری بیڑے آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح کے خطرناک پانیوں سے نکلنے والے تجارتی جہازوں کو حفاظتی اسکارٹ اور نگرانی فراہم کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے جھنڈے والے دو ایل پی جی ٹینکرز، ‘شوالک’ اور ‘نندا دیوی’، اور ایک خام تیل لے جانے والا جہاز ‘جگ لاڈکی’، حالیہ دنوں میں خلیج عمان اور شمالی بحیرہ عرب میں موجود ہندوستانی جنگی جہازوں کی مدد سے کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ ان جہازوں کو حساس علاقوں سے گزرتے وقت “قریبی نگرانی، مواصلاتی مدد اور تزویراتی تحفظ” فراہم کیا گیا۔ واضح رہے کہ ہندوستانی بحریہ نے خلیج کے خطے میں ہندوستانی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے 2019 میں ‘آپریشن سنکلپ’ شروع کیا تھا۔
دریں اثنا، امریکی انڈر سکریٹری آف وار برائے پالیسی ایلبرج کولبی بھی ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ جنگ کے ایک بیان کے مطابق، کولبی نئی دہلی میں سینئر حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ اہم امریکہ-ہند تعلقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کولبی کے دورے کی توجہ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے فروری 2025 کے مشترکہ بیان میں طے شدہ اہداف کو آگے بڑھانے اور ہندوستان-امریکہ میجر ڈیفنس پارٹنرشپ فریم ورک پر عمل درآمد پر ہوگی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
