دنیا
ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان سائٹ پر موجود ہے: رافائل گروسی
نیویارک، اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی کے سربراہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم غالباً اب بھی اس کے اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں موجود ہے۔
آئی اے ای اے چیف رافائل گروسی نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے پاس سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں جو ایران کے خلاف حالیہ امریکہ اسرائیل فضائی حملوں کے اثرات دکھاتی ہیں، اس سلسلے میں ہمیں مسلسل معلومات مل رہی ہیں۔
گزشتہ سال اصفہان سائٹ پر فضائی حملے کیے گئے تھے اور اس سال بھی امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران اسے نسبتاً کم شدت کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اصفہان میں آئی اے ای اے کے معائنے اس وقت ختم ہو گئے تھے جب اسرائیل نے گزشتہ جون میں 12 روزہ جنگ شروع کی اور اس دوران امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری کی۔
گروسی کے مطابق اقوامِ متحدہ کا جوہری نگران ادارہ سمجھتا ہے کہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کا ایک بڑا حصہ جون 2025 میں وہاں ذخیرہ تھا جب 12 روزہ جنگ شروع ہوئی اور تب سے یہ وہیں موجود ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم ابھی تک یہ معائنہ نہیں کر سکے اور نہ ہی مواد وہاں موجود ہونے کی تردید کر سکے ہیں، اور آئی اے ای اے کی مہریں بھی برقرار ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان کے جوہری کمپلیکس پر موجود ہے۔ گروسی نے کہا ایئربس کے ایک سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ 9 جون 2025 کو، گزشتہ سال کی جنگ شروع ہونے سے کچھ پہلے، 18 نیلے کنٹینروں سے بھرا ایک ٹرک اصفہان نیو کلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں ایک سرنگ میں داخل ہو رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان کنٹینروں میں اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم موجود تھا اور غالباً اب بھی وہیں ہے۔ 12 روزہ جنگ کے بعد سے جوہری تنصیبات کا معائنہ معطل ہے، اصفہان نیو کلیئر کمپلیکس میں یورینیم کی موجودگی کی ابھی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی، صورت حال کا حتمی جائزہ معائنے کی بحالی سے مشروط ہے۔
گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کے تمام جوہری مقامات کا معائنہ ضروری ہے۔ آئی اے ای اے نطنز اور فردو میں موجود ایران کی جوہری تنصیبات کا بھی معائنہ کرنا چاہتی ہے، جہاں کچھ جوہری مواد بھی موجود ہے۔ گروسی کے مطابق ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا فریق ہے، جس کا پانچ سالہ جائزہ اس وقت اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاری ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران پر لازم ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کو آئی اے ای اے کے معائنے کے لیے کھولے۔
یو این لایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 440.9 کلوگرام (972 پاؤنڈ) یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک ہے، جو تکنیکی طور پر 90 فیصد اسلحہ جاتی سطح سے صرف ایک چھوٹا سا قدم دور ہے۔ گروسی کے مطابق آئی اے ای اے کا خیال ہے کہ تقریباً 200 کلوگرام (تقریباً 440 پاؤنڈ) یورینیم اصفہان کے مقام پر سرنگوں میں ذخیرہ ہے۔
گروسی نے گزشتہ سال اے پی کو بتایا تھا کہ اگر ایران اپنے پروگرام کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرے تو یہ ذخیرہ ملک کو تقریباً 10 جوہری بم بنانے کے قابل بنا سکتا ہے۔ تہران طویل عرصے سے اصرار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے جنگ میں جانے کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم کرنا تھا، حالانکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ موسمِ گرما کے حملوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا۔
گروسی نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران نے گزشتہ جون میں اصفہان میں یورینیم افزودگی کی ایک نئی تنصیب کا اعلان کیا تھا اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو حملوں کے آغاز کے دن وہاں جانے کا شیڈول دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، بظاہر اس تنصیب کو نہ تو گزشتہ سال اور نہ ہی اس سال اصفہان پر ہونے والے حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
متحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
دبئی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پائلٹ پر چاقو سے حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ ’’دہشت گردانہ سرگرمی‘‘ سے منسلک تھا یا پہلے سے اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے بدھ کو فلائٹ ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ کاک پٹ میں جھگڑے کے بعد طیارے کا رخ سعودی عرب کے تبوک کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کو بتایا کہ تحقیقات میں واقعے کے حالات اور محرکات کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ آیا اس کا ’’دہشت گردانہ سرگرمی‘‘ سے کوئی تعلق تھا یا اس کے پیچھے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی یا ہدایت کارفرما تھی۔
یو اے ای نے کہا کہ طیارہ ملک میں رجسٹرڈ اور اسی کے پرچم کے تحت پرواز کرتا ہے، اس لیے اس کے عدالتی حکام کو تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق ملکی قانون کسی طیارے میں کیے گئے جرائم پر بھی لاگو ہوتا ہے، ’’خواہ وہ ملک کی سرحدی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے ہوں۔‘‘
فلائی دبئی نے کہا کہ کاک پٹ میں ’’جھگڑا‘‘ ہوا تھا، جس کے بعد طیارے کا رخ تبوک کی جانب موڑ دیا گیا جہاں اس نے بحفاظت لینڈنگ کی۔ ایئرلائن نے کہا کہ واقعے کی وجوہات ابھی معلوم نہیں اور تحقیقات جاری رہنے کے دوران ’’قبل از وقت قیاس آرائیوں‘‘ سے گریز کیا جائے۔
یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ پرواز کو ’’ایک سکیورٹی واقعے کا سامنا ہوا جس پر قابو پالیا گیا۔‘‘
اسرائیلی حکام کے مطابق دورانِ پرواز معاون پائلٹ نے ہندوستانی شہری کیپٹن سمیت مچھر پر حملہ کیا اور کاک پٹ میں انہیں چاقو مارا۔ اس کے بعد طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا، تاہم مسافروں اور عملے نے مداخلت کی۔
مسافروں اور عملے کے ارکان نے کاک پٹ میں داخل ہوکر معاون پائلٹ پر قابو پالیا، جبکہ فلائی دبئی کے دو دیگر پائلٹ، جو اسی پرواز میں مسافروں کے طور پر سفر کر رہے تھے، نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی، جس کے بعد اسے تبوک میں بحفاظت اتارا گیا۔ بعد میں مسافر متبادل فلائی دبئی طیارے کے ذریعے تل ابیب پہنچے۔ واقعے کے 10 گھنٹے سے زائد وقت بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ سکے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حملے کے پس پردہ محرکات کا پتہ لگانے کی کوشش کرے گا، جس میں یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ آیا معاون پائلٹ کے کوئی ساتھی تھے یا ایران اس میں ملوث تھا۔
نیتن یاہو نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا، ’’ہم اس حملہ آور کے معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے، یہ بھی معلوم کریں گے کہ آیا اس کے کوئی ساتھی تھے اور آیا ایران اس کے پیچھے تھا۔ میرے خیال میں ہمیں بہت جلد اس کا پتہ چل جائے گا۔‘‘
ایران کے ممکنہ ملوث ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا، ’’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔
حملہ آور پائلٹ سے اس وقت سعودی عرب میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں اسے امارات لے جایا جائے گا، جہاں سے وہ آیا ہے یا کم از کم جہاں سے اس نے پرواز کی تھی۔ ہم تحقیقات پر نظر رکھیں گے اور ممکنہ طور پر اس میں حصہ بھی لیں گے۔‘‘
ایک اسرائیلی عہدیدار نے معاون پائلٹ کی شناخت عمانی شہری کے طور پر کی ہے۔ عمان کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
نیتن یاہو نے اس واقعے کو ’’سنگین سکیورٹی واقعہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کریں گے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہیگستھ کا امریکی فوج میں تبدیلی کے لیے چھ بڑے اقدامات کا اعلان
واشنگٹن، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے چھ بڑے تزویراتی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں خودکار جنگی صلاحیتوں، فوجی تیاری، دفاعی تنصیبات، سپلائی چین اور نئی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
میرین کور بیس کوانٹیکو میں خطاب کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ محکمہ جنگ یکم اکتوبر 2027 تک چار ستارہ سطح کی ’’آٹونومس وارفیئر کمانڈ‘‘ قائم کرے گا، جو مشترکہ فوج میں خودکار جنگی نظام کی توسیع کی نگرانی کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت ’’پروجیکٹ ایجنکورٹ‘‘ اور ڈرون صلاحیتوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
’’امریکاز کور آف کیڈٹس‘‘ پروگرام کے ذریعے مزید یونیورسٹیوں میں کل وقتی کور آف کیڈٹس پروگرام شروع کرکے فوج میں نئے افسران کی بھرتی کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی، لبرٹی یونیورسٹی، ٹسکیگی یونیورسٹی، مسیسیپی اسٹیٹ یونیورسٹی اور ہلزدیل کالج نئے شراکت دار ہوں گے۔
ہیگستھ نے ’’فورٹریس امریکہ‘‘ پروگرام کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد فوجی اڈوں کو بجلی کے شہری گرڈ سے زیادہ خودمختار بنانا، نایاب معدنیات، سیمی کنڈکٹرز اور خصوصی دھاتوں کی ملکی پیداوار بڑھانا اور گولہ بارود، ایندھن، ادویات و دیگر اہم ذخائر مضبوط کرنا ہے۔ پروگرام میں سائبر حملوں، تخریب کاری اور ڈرون خطرات سے فوجی تنصیبات کے تحفظ پر بھی توجہ دی جائے گی
’’نیکسٹ گریٹ امریکن بیس‘‘ منصوبے کے تحت ایک نیا بڑا فوجی اڈہ قائم کیا جائے گا، جس میں آزاد توانائی، خودکار نظام اور جدید فضائی دفاعی صلاحیتیں شامل ہوں گی۔ ریاستی حکومتوں کو اس کی میزبانی کے لیے مسابقت میں حصہ لینے کی دعوت دی جائے گی۔
اس کے علاوہ ’’آفس آف ریلیجس افیئرز‘‘ قائم کیا جائے گا، جو فوجی اہلکاروں کے لیے مذہبی آزادی اور رضاکارانہ مذہبی معاونت سے متعلق امور دیکھے گا۔
چھٹے اقدام ’’پروجیکٹ میریڈیئن‘‘ کے تحت مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں زیر زمین کارروائیوں سے لے کر زمین اور چاند کے درمیان خلائی ماحول تک مختلف شعبے شامل ہوں گے۔ محکمہ کے مطابق ایلون مسک، پالمر لکی اور نیوٹ گنگرچ منصوبے کی مشترکہ قیادت کریں گے اور 120 دن میں سفارشات پیش کریں گے۔
ہیگستھ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ’’جنگجو جذبے‘‘ کی بحالی، امریکی فوج کی تعمیر نو اور ملک کی بازداریت مضبوط کرنا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ جنوبی کوریا امریکی توانائی اور اسٹریٹجک منصوبوں بشمول جوہری توانائی، مائع قدرتی گیس اور قدرتی گیس کے انفراسٹرکچر میں 200 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان سرمایہ کاریوں پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر نیویارک میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میانگ کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے دوران اتفاق ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاریاں، بشمول امریکہ میں آٹھ بڑے پیمانے کے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے 120 بلین ڈالر کا جوہری توانائی کا پروگرام، اس 350 بلین ڈالر کے ‘کوریا اسٹریٹجک ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ڈیل’ کے تحت آتی ہیں جو انہوں نے گزشتہ سال صدر لی کے ساتھ طے کی تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور سیول نے 50 بلین ڈالر کے الاسکا ایل این جی منصوبے پر بھی تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور مزید کہا کہ یہ “الاسکا کے لوگوں کے لیے ایک انقلابی تبدیلی لائے گا۔”
انہوں نے بتایا کہ اس پیکیج میں ٹیکساس کے شہر اینسینل میں 22 بلین ڈالر کا 6.4 گیگا واٹ کا قدرتی گیس سے چلنے والا پاور پروجیکٹ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ سودے ہمارے تجارتی معاہدوں کے مرہونِ منت ہیں۔ ہم کوریا کے سرمایہ کاری کے وعدوں کو تعمیرات کے بڑے منصوبوں اور لاکھوں امریکی ملازمتوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoمعیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن
-
دنیا6 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
