دنیا
غزہ میں اسرائیلی بربریت، کمسن بچے سمیت 10 افراد شہید
غزہ، غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک تین سالہ بچے سمیت کم از کم 10 افراد شہید ہوگئے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ غزہ سٹی میں ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں چار افراد شہید ہوئے، جن میں تین سالہ بچہ بھی شامل ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ غزہ کے الشفا اسپتال نے شہادتوں کی تصدیق کرتے ہوئے لاشیں موصول ہونے کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی فوج نے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے۔ غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے شہر کے مرکز میں پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ بیت لاحیہ کے علاقے میں بھی اسرائیلی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک مسلح شخص کو نشانہ بنایا جو ان کی پوزیشن کے قریب آ رہا تھا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ دونوں واقعات ایک ہی ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک کم از کم 757 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ بھی ان اعداد و شمار کو قابل اعتبار قرار دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہیگستھ کا امریکی فوج میں تبدیلی کے لیے چھ بڑے اقدامات کا اعلان
واشنگٹن، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے چھ بڑے تزویراتی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں خودکار جنگی صلاحیتوں، فوجی تیاری، دفاعی تنصیبات، سپلائی چین اور نئی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
میرین کور بیس کوانٹیکو میں خطاب کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ محکمہ جنگ یکم اکتوبر 2027 تک چار ستارہ سطح کی ’’آٹونومس وارفیئر کمانڈ‘‘ قائم کرے گا، جو مشترکہ فوج میں خودکار جنگی نظام کی توسیع کی نگرانی کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت ’’پروجیکٹ ایجنکورٹ‘‘ اور ڈرون صلاحیتوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
’’امریکاز کور آف کیڈٹس‘‘ پروگرام کے ذریعے مزید یونیورسٹیوں میں کل وقتی کور آف کیڈٹس پروگرام شروع کرکے فوج میں نئے افسران کی بھرتی کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی، لبرٹی یونیورسٹی، ٹسکیگی یونیورسٹی، مسیسیپی اسٹیٹ یونیورسٹی اور ہلزدیل کالج نئے شراکت دار ہوں گے۔
ہیگستھ نے ’’فورٹریس امریکہ‘‘ پروگرام کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد فوجی اڈوں کو بجلی کے شہری گرڈ سے زیادہ خودمختار بنانا، نایاب معدنیات، سیمی کنڈکٹرز اور خصوصی دھاتوں کی ملکی پیداوار بڑھانا اور گولہ بارود، ایندھن، ادویات و دیگر اہم ذخائر مضبوط کرنا ہے۔ پروگرام میں سائبر حملوں، تخریب کاری اور ڈرون خطرات سے فوجی تنصیبات کے تحفظ پر بھی توجہ دی جائے گی
’’نیکسٹ گریٹ امریکن بیس‘‘ منصوبے کے تحت ایک نیا بڑا فوجی اڈہ قائم کیا جائے گا، جس میں آزاد توانائی، خودکار نظام اور جدید فضائی دفاعی صلاحیتیں شامل ہوں گی۔ ریاستی حکومتوں کو اس کی میزبانی کے لیے مسابقت میں حصہ لینے کی دعوت دی جائے گی۔
اس کے علاوہ ’’آفس آف ریلیجس افیئرز‘‘ قائم کیا جائے گا، جو فوجی اہلکاروں کے لیے مذہبی آزادی اور رضاکارانہ مذہبی معاونت سے متعلق امور دیکھے گا۔
چھٹے اقدام ’’پروجیکٹ میریڈیئن‘‘ کے تحت مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں زیر زمین کارروائیوں سے لے کر زمین اور چاند کے درمیان خلائی ماحول تک مختلف شعبے شامل ہوں گے۔ محکمہ کے مطابق ایلون مسک، پالمر لکی اور نیوٹ گنگرچ منصوبے کی مشترکہ قیادت کریں گے اور 120 دن میں سفارشات پیش کریں گے۔
ہیگستھ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ’’جنگجو جذبے‘‘ کی بحالی، امریکی فوج کی تعمیر نو اور ملک کی بازداریت مضبوط کرنا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ جنوبی کوریا امریکی توانائی اور اسٹریٹجک منصوبوں بشمول جوہری توانائی، مائع قدرتی گیس اور قدرتی گیس کے انفراسٹرکچر میں 200 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان سرمایہ کاریوں پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر نیویارک میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میانگ کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے دوران اتفاق ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاریاں، بشمول امریکہ میں آٹھ بڑے پیمانے کے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے 120 بلین ڈالر کا جوہری توانائی کا پروگرام، اس 350 بلین ڈالر کے ‘کوریا اسٹریٹجک ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ڈیل’ کے تحت آتی ہیں جو انہوں نے گزشتہ سال صدر لی کے ساتھ طے کی تھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور سیول نے 50 بلین ڈالر کے الاسکا ایل این جی منصوبے پر بھی تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور مزید کہا کہ یہ “الاسکا کے لوگوں کے لیے ایک انقلابی تبدیلی لائے گا۔”
انہوں نے بتایا کہ اس پیکیج میں ٹیکساس کے شہر اینسینل میں 22 بلین ڈالر کا 6.4 گیگا واٹ کا قدرتی گیس سے چلنے والا پاور پروجیکٹ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ سودے ہمارے تجارتی معاہدوں کے مرہونِ منت ہیں۔ ہم کوریا کے سرمایہ کاری کے وعدوں کو تعمیرات کے بڑے منصوبوں اور لاکھوں امریکی ملازمتوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، 22 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ، کابل کے مطابق 9 شہری جاں بحق
کابل، پاکستان نے افغانستان میں تازہ فضائی حملے کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت نے کہا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم نو شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے جمعرات کو کہا کہ قابل اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر ’’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 22 عسکریت پسندوں کے مارے جانے اور ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیے گئے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تباہی کی تصدیق ہوئی ہے۔
پاکستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کنڑ اور ہلمند صوبوں میں تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نو افراد جاں بحق اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔
مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہم اس کارروائی کو جارحیت اور تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے تین بجے شروع ہوئے اور لگ بھگ 30 منٹ تک جاری رہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ایک بم ایک مکان پر گرا، جس میں ایک خاندان کے کئی افراد جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے۔
پاکستان نے کہا کہ اس کا آپریشن ’’مکمل منصوبہ بندی اور محتاط انداز‘‘ میں کیا گیا اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
تازہ فضائی حملوں کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی ماہ کی نسبتاً کشیدگی کے بعد ایک بار پھر تناؤ بڑھ گیا ہے۔ اسلام آباد مسلسل افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مسلح گروپوں کو افغان سرزمین سے سرگرمیاں انجام دینے اور پاکستان کے اندر حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
تاہم افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستانی سرحدوں کے اندر بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی مکمل طور پر داخلی معاملہ ہے، جس کی وجہ ملکی سکیورٹی اور سیاسی ناکامیاں ہیں، نہ کہ سرحد پار سے کسی قسم کی سہولت کاری۔
دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات رواں سال کے آغاز میں ہلاکت خیز جھڑپوں اور سرحد پار حملوں کے بعد تیزی سے خراب ہوئے تھے۔
گزشتہ ماہ شمال مغربی پاکستان میں پولیس کی ایک تنصیب پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ پاکستان نے افغانستان سے ہونے والے حملوں کے لیے عسکریت پسند گروپوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ کابل نے اسلام آباد کے الزامات مسترد کیے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ ہفتوں کے دوران بھی افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔
یو این آئی ۔ ع ا ۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
ہندوستان1 week agoمعیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن
