جموں و کشمیر
رجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے خود کو ’دماغی نکسل‘ قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ تبصرہ انہوں نے پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو کے اس بیان کے بعد کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آرٹیکل 370 کی حمایت کرنے والے لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم آزادی کی تقریر میں استعمال کیے گئے لفظ کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
محترمہ محبوبہ کا یہ تبصرہ کرن رجیجو کی اس وضاحت کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن رہنماؤں کو ’دماغی نکسل‘ نہیں کہا تھا۔ مسٹر رجیجو نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جو آئین ہند کو مسترد کرتے ہوئے ماؤ نوازوں کی حمایت کرتے ہیں، علیحدگی پسندوں اور آرٹیکل 370 کی حمایت کرتے ہیں یا شمال مشرقی خطے کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔
مسٹر رجیجو نے لکھا کہ “پی ایم نریندر مودی جی نے اپوزیشن رہنماؤں کو دماغی نکسل نہیں کہا۔” وزیر کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محترمہ محبوبہ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ “میں آرٹیکل 370 کی حمایت کرتی ہوں۔ میں ایک دماغی نکسل ہوں۔”
واضح رہے کہ آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کی ریاست کو خصوصی درجہ دیتا تھا۔ جسے بی جے پی حکومت نے 5 اگست 2019 کو ختم کردیا تھا۔ اس اقدام سے خطے کی خصوصی آئینی دفعات ختم ہوگئیں اور ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا۔
وزیر اعظم مودی نے لال قلعے سے اپنے یوم آزادی کے خطاب میں ’دماغی نکسل‘ سے پیدا ہونے والے نئے خطرے کے بارے میں خبردار کیا تھا، جس سے سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی
سری نگر، جموں و کشمیر میں مالی سال 2025-26 کے دوران غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی میں 9417 گاڑیاں اور مشینیں ضبط کی گئی ہیں۔ اس مدت کے دوران 20.009 کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا اور 285 ایف آئی آر درج کی گئیں۔
ان اعداد و شمار نے نفاذ کی کارروائی اور فوجداری مقدمات کے درمیان واضح فرق پر تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ کئی اضلاع میں ضبطی کے سیکڑوں واقعات کے باوجود ایف آئی آر بہت کم درج کی گئیں۔
کٹھوعہ ضلع میں سب سے زیادہ 1019 ضبطی کے واقعات درج کیے گئے، لیکن ضلع میں صرف ایک ایف آئی آر درج ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کپواڑہ میں 972 ضبطیاں اور 48 ایف آئی آر درج ہوئیں، جبکہ بارہمولہ میں 845 ضبطیاں اور 41 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ سانبہ میں ضبطی کے 800 واقعات ہوئے، لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
اعداد و شمار سے اضلاع کے درمیان نفاذ کے طریقوں میں کافی فرق کا پتہ چلا۔ فوجداری مقدمات کے معاملے میں جموں و کشمیر میں بڈگام سب سے آگے رہا، جہاں غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کے خلاف 671 ضبطیوں کے باوجود 62 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس کے بعد کپواڑہ (48 ایف آئی آر)، بارہمولہ (41)، گاندربل (30) اور سری نگر (29) کا مقام رہا۔
جرمانہ وصولی کے معاملے میں بھی کٹھوعہ فہرست میں سب سے اوپر رہا، جہاں انتظامیہ نے 3.308 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد جموں (2.248 کروڑ روپے)، پلوامہ (2.008 کروڑ روپے)، بارہمولہ (1.618 کروڑ روپے) اور کپواڑہ (1.499 کروڑ روپے) کا مقام رہا۔ دیگر اضلاع میں اننت ناگ میں ضبطی کے 530 واقعات ہوئے، جس سے 1.01 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، جبکہ کولگام میں 391 ضبطیاں اور 0.949 کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔
جموں ڈویژن میں جموں ضلع میں 679 ضبطیاں اور 15 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 2.248 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
ریاسی میں ضبطی کے 356 معاملات درج کیے گئے، جبکہ راجوری اور ادھم پور میں بالترتیب 317 اور 277 معاملات سامنے آئے۔
مسٹرایم وائی تاریگامی کی صدارت میں ماحولیات کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں غیر قانونی کان کنی سے متعلق ضبطگیوں اور ایف آئی آر کے اعداد و شمار میں فرق کا جائزہ لیا گیا۔ اس فرق پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کمیٹی کے ارکان نے کان کنی محکمے سے تفصیلی وضاحت طلب کی۔
مسٹر تاریگامی نے میٹنگ کے دوران محکمے کو ہدایت دی کہ وہ گاڑیوں، مشینری یا معدنیات کی ضبطی سے پہلے خلاف ورزی کرنے والوں پر عائد پہلے اور دوسرے جرمانے کی مکمل تفصیلات فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نفاذ کے نظام کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے یہ معلومات ضروری ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
شری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو سالانہ روحانی یاترا کا آغاز کرتے ہوئے یہاں بھگوتی نگر یاتری نواس سے مقدس شری بوڈھا امرناتھ یاترا کے لیے عقیدت مندوں کے پہلے جتھے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے تمام یاتریوں کو ان کے محفوظ اور روحانی طور پر اطمینان بخش یاترا کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یاترا اور بوڈھا امرناتھ میلے کے ہموار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے بہترین تال میل اور وسیع انتظامات کرنے پر بابا امرناتھ اور بوڈھا امرناتھ یاتری نیاس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، مقامی انتظامیہ، لنگر تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپوں کی ستائش کی۔
شری سنہا نے کہا کہ “بابا بوڈھا امرناتھ کے دھام کی مقدس یاترا ایک بہت ہی علم افزا تجربہ ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ تیرتھ یاترا ہر عقیدت مند کی زندگی میں گہری تبدیلی لاتی ہے اور انہیں زندگی کی سب سے گہری سچائیوں سے روبرو کراتی ہے۔”
اس موقع پر منعقدہ تقریب میں ممتاز روحانی رہنماؤں، مذہبی سربراہوں، عوامی نمائندوں، سینئر انتظامی اور پولیس افسران، سکیورٹی افسران، معزز شہریوں اور بڑی تعداد میں پرجوش عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
ہندوستان4 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
