ہندوستان
مودی کی سمجھوتہ کرنے والی پالیسیوں نے خارجہ پالیسی کو کمزور کیا: کھڑگے، راہل
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر امریکی دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار قوم کے طور پر ہندوستان نے ہمیشہ اپنے فیصلے خود کیے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں جس طرح امریکہ کے اشاروں پر کام ہو رہا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی سفارتی شاندار روایت کھو رہے ہیں مسٹر کھڑگے نے کہا، ’’ہندوستان کی اسٹریٹیجک خودمختاری اور قومی خودمختاری سنگین خطرے میں ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایپسٹین فائلز اور آڈانی کیس کے حوالے سے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ روس سے تیل خریدنے کی امریکی اجازت جو کہ ’30 دن کی چھوٹ’ کے طور پر دی گئی ہے، واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ مودی حکومت مسلسل سفارتی آزادی کھو رہی ہے۔ اس طرح کی زبان پابندی والے ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے نہ کہ ہندوستان کے لیے جو عالمی نظام میں ایک ذمہ دار اور مساوی شراکت دار رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور کے دوران سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ فوجی کارروائی روکنے کا اعلان پی ایم مودی کے دوست ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا، ہم نے نہیں۔ انہوں نے کم از کم 100 بار دعویٰ کیا ہے کہ فوجی کارروائی ان کے کہنے پر روکی گئی جس پر وزیراعظم خاموش رہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایرانی تیل نہ خریدنے کے لیے کہا گیا جس پر ہندوستان حکومت نے مان لیا۔ ٹرمپ نے ہندوستان کو روسی تیل نہ خریدنے کا کہا اور ہندوستان نے درآمدات کم کر دی۔ ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان اس شرط پر کیا گیا کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا اور پی ایم مودی نے اس پر دستخط کر دیے۔ اب امریکہ نے ہندوستان کو ‘عارضی 30 دن کی چھوٹ’ دی ہے اور ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجارت سے لے کر تیل تک، اعداد و شمار سے لے کر دوست ممالک کے ساتھ ہندوستان کے طویل مدتی تعلقات تک مودی جی نے سب کچھ قربان کر دیا۔ جاری۔۔۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
ہندوستان
راہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو خط لکھ کر زمرہ-2 اور زمرہ-3 اساتذہ کی بھرتی میں آسامیوں کی تعداد بڑھانے اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ جلد شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے 29 ستمبر کو مسٹر یادو کو تحریر کردہ خط پیر کو جاری کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ اندور میں ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام کے دوران اساتذہ کے امیدواروں نے زمرہ-2 اور زمرہ-3 کی بھرتی میں آسامیوں میں اضافے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ مدھیہ پردیش کے سرکاری اسکولوں میں پہلے ہی ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود اساتذہ کی بھرتی-2025 میں زمرہ-3 کی صرف 13089 اور زمرہ-2 کی صرف 10800 آسامیوں پر بھرتی نکالی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوان امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ اساتذہ کی بھرتی میں آسامیوں کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ بچوں کو بہتر تعلیم حاصل ہوسکے اور ہزاروں نوجوانوں کو مستقل ملازمت مل سکے۔ کئی امیدواروں نے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کیے ہیں اور کئی مہمان اساتذہ کے طور پر پڑھا رہے ہیں، لیکن محدود آسامیوں کی وجہ سے وہ مستقل ملازمت سے محروم ہیں اور انتظار کرتے کرتے کئی امیدوار عمر کی حد کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنی بات حکومت تک پہنچانے کے لیے اساتذہ کے امیدوار احتجاج اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، لیکن ان کی بات سننے کے بجائے حکومت انہیں نوٹس بھیج کر ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی کہ احتجاج کرنے والے امیدواروں کو بھیجے گئے نوٹس فوری طور پر واپس لیے جائیں اور ان کے نمائندوں سے ملاقات کرکے ان کی بات سنی جائے۔ انہوں نے زمرہ-2 اور زمرہ-3 اساتذہ کی بھرتی میں آسامیوں میں اضافہ کرنے اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ جلد شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
دنیا میں اگلے مالیاتی بحران کا سبب غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں: آر بی آئی گورنر
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے ہفتہ کے روز کہا کہ دنیا میں آئندہ مالیاتی بحران کی وجہ غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔
مسٹر ملہوترا نے یہاں پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانفرنس میں ’’غیر یقینی صورتحال کے دور میں مرکزی بینکوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قطعی ضروری نہیں کہ دنیا میں اگلا مالیاتی بحران مالیاتی وجوہات ہی کی بنا پر آئے۔ اس لیے موجودہ معاشی استحکام مستقبل میں مالیاتی بحران سے تحفظ کی کوئی قطعی ضمانت نہیں ہے، اور بحیثیت مرکزی بینک بدلتے ہوئے حالات پر مسلسل نگاہ رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگلا مالیاتی بحران جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) وجوہات، کسی بڑے سائبر حملے یا پھر کسی سنگین تکنیکی خرابی کی صورت میں بھی رونما ہو سکتا ہے، اور اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور گہرا رہتا ہے۔
مسٹر ملہوترا نے کہا کہ اگرچہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا براہ راست ریزرو بینک کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر یہ اس کے دائرہ اختیار سے منسلک ہے۔ مالیاتی استحکام کے بغیر افراطِ زر (مہنگائی کی شرح) میں استحکام لانا ممکن نہیں، اور اس کے بنا معیشت میں بھی استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور عالمی سطح پر طویل عرصے تک برقرار رہنے والے مالیاتی استحکام کی بدولت ہی ہم حالیہ برسوں کے دوران مختلف بحرانوں کا کامیابی سے سامنا کر سکے ہیں—چاہے وہ کورونا وبا کا چیلنج رہا ہو یا پھر جغرافیائی و سیاسی بحران۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات سے ہندوستانی معیشت بھی محفوظ نہیں رہی ہے اور اس کا اثر قیمتوں پر پڑا ہے، تاہم معیشت کی مضبوط بنیادوں کے باعث افراطِ زر طے شدہ ہدف کے دائرے میں رہی ہے اور ترقی کی شرح بھی مستحکم ہے۔
آر بی آئی گورنر نے کہا کہ موجودہ صدی کے ابتدائی برسوں کے دوران بینکوں کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے دیے گئے قرضوں (این پی اے) کے منفی اثرات سے نجات پانے میں ملک کو ایک دہائی کا وقت لگ گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی معیشت میں نقد رقم (لیکویڈیٹی) کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہندوستان میں مرکزی بینک کی اہم ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے بعض اوقات افراطِ زر میں اضافے کا خطرہ بھی مول لینا پڑتا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا7 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا1 week agoپزشکیان کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر آمادگی کا اعلان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا6 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
