ہندوستان
‘اسمارٹ بارڈر’ کا کام آخری مرحلے میں، اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد شروع کیا جائے گا: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ سرحدوں کی نگرانی کے لیے حکومت کے ‘اسمارٹ بارڈر’ کا کام آخری مرحلے میں ہے اور اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد ہی شروع کیا جائے گا۔
مسٹر شاہ نے جمعہ کو تریپورہ میں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی لنکامورا سرحدی چوکی کا معائنہ کرنے کے بعد جوانوں کے ساتھ بات چیت کی۔ انہوں نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر اگرتلا میں شجرکاری مہم کے تحت ‘اگر’ کا پودا لگایا۔ سرحدوں پر کئی طرح کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں جہاں سرحد پر بی ایس ایف اور سشستر سیما بل تعینات ہیں، وہاں ‘اسمارٹ بارڈر’ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چار نکاتی حفاظتی حکمتِ عملی کے تحت، مقامی انتظامیہ، ٹیکنالوجی اور جوانوں کی محنت کو ساتھ لیتے ہوئے سرحدوں کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمارٹ بارڈر کے تصور پر بحث آخری مرحلے میں ہے اور اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد ہی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “ہم ایک ساتھ ملک کی مختلف سرحدوں پر سات یا آٹھ مقامات پر اس پائلٹ پروجیکٹ کو شروع کریں گے۔
پائلٹ پروجیکٹ میں جو بھی ابتدائی مسائل آئیں گے انہیں دور کر کے پوری سرحد کو اسمارٹ بارڈر بنانے کی سمت میں ہم آگے بڑھیں گے۔ اس کانسیپٹ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ایس پی، گاؤں کے پٹواری اور سرپنچ کا بھی کردار ہوگا۔ جب تک سرحدی علاقوں کی مقامی انتظامیہ کو ہم اس میں شامل نہیں کرتے، تب تک ہم سرحد کو ناقابلِ تسخیر نہیں بنا سکتے۔ اگر ہم تنہائی میں سرحد کی سکیورٹی کا تصور کرتے ہیں تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔” مسٹر شاہ نے کہا کہ تریپورہ فرنٹیر ملک کی سرحد کے لیے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ کی جدید کاری کے لیے 15 سال سے پرانی تقریباً 650 کلومیٹر کی باڑ میں سے 119 کلومیٹر نئی باڑ کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کی سہولیات کے لیے سرحدی چوکیوں میں بجلی کی فراہمی، گرین انرجی کے اقدامات، جوانوں کے لیے محفوظ پینے کا پانی وغیرہ جیسے پروجیکٹوں کا کام مکمل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تریپورہ تین طرف سے سرحدوں سے گھرا ہوا ایک حساس ریاست ہے۔ انہوں نے ملک کو 2047 تک مکمل طور پر ترقی یافتہ بنانے کے لیے سب سے پہلے اسے محفوظ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ملک کو اسمگلنگ، انسانی تریفکنگ (انسانی اسمگلنگ) اور ملک کے نوجوانوں کو نشے سے محفوظ کرنا ہوگا۔ ہر چیز کے لیے سکیورٹی کا انتظام ہو، ایسا اسمارٹ سکیورٹی گرڈ بنانے کا کام حکومت نے ہاتھ میں لیا ہے۔” مسٹر شاہ نے کہا کہ باڑ کی سکیورٹی کے پورے تصور اور کام کے کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے معاشرے کو متاثر کرنے والی ہر برائی سے ملک اور سرحدوں کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ سرحدی سکیورٹی کی اسمارٹ فینسنگ اور چار نکاتی سکیورٹی گرڈ کے تصور کو آنے والے دنوں میں سرحد کی حفاظت کرنے والی ہر مرکزی مسلح پولیس فورس کے کام کا کلچر بنانے کی شروعات کی گئی ہے۔”
مرکزی وزیر داخلہ نے ماحولیات کے تحفظ میں پولیس فورسز کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019 سے لے کر آج تک تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز کے جوانوں نے تقریباً 7.5 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے ہیں۔ اس سال بھی 40 سے 60 لاکھ درخت لگائیں گے اور لگائے ہوئے درختوں میں سے جو درخت زندہ نہیں رہ سکے، ان تمام درختوں کو دوبارہ لگانے کا کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال کے لیے دو کروڑ درخت لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے بی ایس ایف کی 37 ویں کور میں جوانوں کی رہائش گاہوں کا ای-افتتاح اور 97 ویں کور میں کوارٹر گارڈ کمپلیکس کا ای-
سنگِ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی سہولیات بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
شجرکاری مہم کے تحت آج ایک دن میں مرکزی مسلح پولیس فورسز، آسام رائفلز، نیشنل سکیورٹی گارڈ، دہلی پولیس، نارکوٹکس کنٹرول بیورو، نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور انٹر اسٹیٹ کونسل سیکرٹریٹ سمیت وزارتِ داخلہ کے تمام دفاتر نے ملک بھر میں 5 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے۔ اس موقع پر تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا، مرکزی ہوم سکریٹری، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، سکریٹری بارڈر مینجمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل بارڈر سکیورٹی فورس سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
