دنیا
امریکہ امن کیلئے پرعزم ہے، ہم لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ امن کے لیے پرعزم ہے، ہم لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کوششوں میں پیشرفت کیلئے مشرقِ وسطیٰ کے تمام فریقین اپنےعزم پر قائم رہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ عالمی مارکیٹیں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاکس میں اضافے کو پسند کررہی ہیں، امریکہ کیلئے کامیابی ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں اور فتح حاصل ہورہی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کو 300 ارب ڈالر کی ادائیگی نہیں ہورہی، یہ جعلی خبر ہے، ڈیموکریٹس کا پروپیگنڈا چل رہا ہے ۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ امن کے لیے پرعزم ہے، ہم لبنان،حزب اللہ،اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں۔
اس سے قبل پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا’اگر دوسرے ممالک کے پاس بلیسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے پاس نہ ہونا کچھ حد تک غیر منصفانہ ہے‘۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کے پاس میزائل ہیں تو متناسب حد تک ایران کے پاس بھی ان کا ہونا قابل قبول ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ تقریباً چار ماہ طویل تنازع کے خاتمے کے بعد بھی خلیج میں اپنی فوجی موجودگی کچھ عرصے تک برقرار رکھے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پزشکیان کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر آمادگی کا اعلان
نیویارک، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق یہ تجویز امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تازہ تجویز قبول کرتا ہے تو ایران ’’اپنے ہر وعدے کی پابندی کرے گا‘‘۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور وسیع تر جوہری معاہدے کی جانب ابتدائی قدم کے طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تجویز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پیش کی گئی تھی، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست ملاقات مشکل ہوگی، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے ہی ’’بداعتمادی کی فضا‘‘ موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جب تک وہ ہمارے خلاف روزانہ عائد کیے جانے والے اقدامات بند نہیں کرتے، ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ وہ ہر روز ہم پر پابندیاں بڑھاتے ہیں، ہر روز ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں، ہر روز ہم پر حملے کرتے ہیں اور تحریری معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کرتے۔ تو اگر وہ مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں تو کیا وہ واقعی اپنے وعدے پورے کریں گے؟‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس کے بجائے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطے ہوئے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنا چاہتا ہے۔ اس سے چند روز قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے سامنے نہیں جھکے گا۔انہوں نے چین کی جانب سے اس معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’’ایران بھی اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اس مفاہمت کی طرف واپس جانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘‘
اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، تاہم بدھ کو عالمی ادارے سے خطاب میں پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران امریکہ کے سامنے ’’گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘‘۔
ایک روز بعد انہوں نے فاکس نیوز سے کہا کہ ایران جنگ جاری رکھنا ’’نہیں چاہتا‘‘، تاہم اسے ختم کرنا واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔
ادھر عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی ملاقات کی، تاہم ان مذاکرات سے فوری طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے ’’تباہ‘‘ کرنے کے حوالے سے انہیں ’’ایک بڑا فیصلہ‘‘ کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی تجویز پر واشنگٹن کے جواب کے متوقع وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تجویز قبول کیے جانے کے فوراً بعد مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر یہ پیغام امریکی صدر، ان کے انٹرویو لینے والوں یا مذاکرات میں شامل افراد تک پہنچتا ہے تو جیسے ہی وہ اسے قبول کریں گے، اسی دن سے عمل شروع ہو جائے گا۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہسپانوی شہر لیئیدا میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کردی گئی
میڈرڈ، اسپین کے مشرق میں کاتالونیا علاقے کے شہر لیئیدا کے عوامی مقامات پر خواتین کے چہرے ڈھانپنے والی نقاب اور برقع پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
لیئیڈا میونسپل کونسل نے “شہری طرزِ عمل اور باہمی زندگی” کے ضوابط کو منظور کیا، جو چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، جیسے برقع یا نقاب کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔
کتالونیا سوشلسٹ پارٹی (پی ایس سی) اور ‘کتالونیا کے لیے اتحاد’ (Junts) کی مقامی حکومت کے حامل لیئیڈا میں منظورہ ضابطے کے تحت برقع اور نقاب پہننے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 400 سے 750 یورو تک جرمانہ کیا جائے گا۔
عبادت گاہیں یا ایسی دوسری جگہیں جہاں اس قسم کے لباس کی اجازت ہو، اس پابندی سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔
میئر فیلیکس لاروسا نے کہا کہ یہ فیصلہ لیئیدا میں رہنے والی مسلم برادری کے رہنماؤں سے مشاورت کر کے کیا گیا، جہاں آبادی کا تقریباً 9 فیصد مسلمان ہے۔
برقع اور نقاب پر پابندی کا معاملہ یورپ میں ایک بار پھر اس وقت موضوعِ بحث بنا جب اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی نے اس بارے میں بیانات دیے۔
اٹلی کی حکومت نے بھی آج اسکولوں میں برقع اور نقاب جیسے چہرہ ڈھانپنے والے ملبوسات کے استعمال پر پابندی لگانے والا ضابطہ منظور کر لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عراقچی نے ایرانیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے پر امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا
ماسکو، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بات کرتے ہوئے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکہ اور اسرائیل پر کڑی تنقید کی اور ان پر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر عراغچی نے 5,000 سے زیادہ لوگوں کی ہولناک موت کو پیش کیا جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جان بوجھ کر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مخصوص مظالم کا حوالہ دیا جن میں مناب کے ایک اسکول میں 168 سے زائد طلباء اور اساتذہ کا قتل عام، لامر اسٹیڈیم پر کلسٹر بم حملہ، گاسیب میں گھروں پر 2,000 پاؤنڈ وزنی بم گرانا، اور سرک میں شادی پر مہلک میزائل حملہ شامل ہیں۔
مسٹر عراغچی نے زور دیا”اس کے باوجود، جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے، امریکی صدر نے مجرم اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ مل کر، حقائق کو مسخ کرنے اور متاثرین اور حملہ آور کے کردار کو پلٹنے کی کوشش کی،”۔
وزیر خارجہ نے ایران کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین جرم اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے پابندیوں اور اقتصادی مشکلات کے ذریعے ایران کی معیشت تک جنگ کو توسیع دینے پر امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفارت کاری نہیں ہے یہ جبر اور معاشی دہشت گردی ہے۔
مسٹر عراقچی نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اور اسرائیل “ایرانی عوام کے خلاف اپنے مجرمانہ اقدامات پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
