دنیا
روس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ قریبی روابط ایک بار پھر بڑھاتے ہوئے ماسکو کو کئی رعایتیں دی ہیں، جس پر واشنگٹن میں دونوں بڑی جماعتوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے۔ اس صورت حال نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو مشکل سوالات کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
ووٹنگ میں تقریباً تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور ٹرمپ کے تازہ اقدامات نے پوتن کے ساتھ ان کے ایک دہائی پرانے تعلقات کو ایک بار پھر جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ پوتن کو بیشتر امریکی ناپسند کرتے ہیں، جن میں ٹرمپ کے اپنے بہت سے حامی بھی شامل ہیں۔
جمعہ کو پوتن سے بات چیت کے بعد ٹرمپ نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں ناقدین ماسکو کے حق میں قرار دے رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول، روس کی جانب سے اس کے بدلے کوئی ٹھوس رعایت حاصل نہیں کی گئی۔
جمعہ کو ٹرمپ نے عالمی منڈیوں میں لاکھوں ٹن روسی ڈیزل کی فراہمی کی اجازت دینے کے معاہدے کا اعلان کیا، جس سے ان پابندیوں میں نرمی آئے گی جن کا مقصد جنگ کے لیے ماسکو کی آمدنی محدود کرنا تھا۔
ہفتے کو انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کیف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے رہنما کو تبدیل کرے۔ اس کے ایک روز بعد ٹرمپ نے فوری طور پر ”توانائی کے شعبے میں جنگ بندی” کا اعلان کیا، تاہم روس نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے اور واشنگٹن کی جانب سے بظاہر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پیر کو ٹرمپ نے انٹیلی جنس جائزوں پر مبنی ان خبروں کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ روس، ایران کی جنگی کوششوں میں مدد کے لیے تہران کو امریکی فوجی اثاثوں سے متعلق معلومات فراہم کررہا ہے۔
منگل تک ٹرمپ نے ڈیزل معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے ان خدشات کو بھی مسترد کردیا کہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی روس کی جنگی سرگرمیوں کی مالی معاونت کرسکتی ہے۔ تاہم، ریپبلکن سینیٹروں نے اس معاہدے کو ”دشمن کے ساتھ غداری” اور ”ہمارے مخالف کو تحفہ” قرار دیا۔
روس کو ہونے والے فوائد واضح ہیں، لیکن امریکی سلامتی، یورپی اتحادیوں اور ریپبلکنز کے انتخابی امکانات پر اس کے اثرات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ڈیزل معاہدے سے ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئے گی، جو ایران سے متعلق جنگ کے دوران بڑھی ہیں۔ یورپ میں واشنگٹن کے اس طرزِ عمل نے نیٹو کے اندر اختلافات بڑھنے کے خدشات پیدا کردیے ہیں، جبکہ روس پر تخریب کاری، سائبر حملوں اور ڈرون دراندازیوں میں اضافے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس کے بڑے حملے میں یوکرین میں کم از کم چھ افراد ہلاک، بجلی کا نظام متاثر
کیف، روس کے فضائی حملوں میں یوکرین میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہوگئے ہیں۔ یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں ‘توانائی جنگ بندی’ کے اعلان کے چند روز بعد کیے گئے ہیں۔
روسی وزارت دفاع نے بدھ کو کہا کہ اس کی فوج نے یوکرین میں مواصلاتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کیے۔
وزارت کے مطابق، حملوں میں دارالحکومت کیف کے دو حرارتی و بجلی گھروں، کیف کے وسیع تر علاقے میں ایک اور ایسے ہی مرکز، ایک تھرمل پاور پلانٹ اور بجلی کے سب اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ خارکیف میں ایک حرارتی و بجلی گھر اور ایک تھرمل پاور پلانٹ پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے بارے میں روس کا دعویٰ ہے کہ وہ خارکیف کے جنوب مشرقی علاقے میں یوکرینی فوج کو بجلی فراہم کرتا تھا۔
روسی وزارت دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیف میں ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جسے روسی مسلح افواج کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے شہریوں سے پناہ گاہوں میں رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ کیف اور اس کے اطراف میں توانائی کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے بتایا کہ حملوں کے باعث کیف کے کئی شہری علاقوں میں ہنگامی طور پر بجلی بند کرنی پڑی۔
یوکرین کی سرکاری ایمرجنسی سروس کے مطابق، دارالحکومت کے ڈیسنیانسکی ضلع میں ایک کثیر منزلہ عمارت پر روسی حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ ہولوسیوسکی ضلع میں ایک اور شخص مارا گیا۔
یوکرینی فوج نے بتایا کہ دنیپروپیٹروفسک علاقے میں روسی حملوں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ جنوب مشرقی زاپوریژیا علاقے میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
خارکیف اور ژیتومیر علاقوں میں مزید روسی میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ سومی اور چیرنیہیو میں بھی حملے کیے گئے۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میک الپائن نے بتایا کہ دارالحکومت پر حملوں میں ریکارڈ تعداد میں ہائپرسونک میزائل استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق، حملوں کے نتیجے میں یوکرین میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہوگئے ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ مغربی اتحادیوں نے کیف پر روسی بیلسٹک میزائل حملے سے قبل یوکرین کو کوئی اطلاع نہیں دی، جس سے خفیہ معلومات کے تبادلے کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے فیس بک پر لکھا، ”کیف پر روسی بیلسٹک میزائل حملہ۔ ایک بار پھر ہمارے اتحادیوں کی جانب سے کوئی پیشگی انتباہ نہیں ملا۔”
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش کا کام جلد شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے امریکہ اور یورپ کو حاصل ہونے والے سلامتی کے فوائد کی بھی تعریف کی۔
ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ڈنمارک کے زیر انتظام خود مختار علاقے گرین لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے ایسے ذخائر موجود ہیں، جہاں سے تیل نسبتاً آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے لکھا، ”ہمارے نئے اور خوبصورت گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع ہونے کی تیاری ہو رہی ہے۔”
ٹرمپ نے ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ وہاں آسانی سے نکالے جانے والے تیل کے ذخائر دنیا کے تقریباً ہر دوسرے علاقے سے کہیں زیادہ ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس عمل میں امریکہ کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔
گزشتہ ماہ ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت کے ساتھ ایک سلامتی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت جزیرے میں امریکی فوج کا کردار بڑھایا جائے گا۔
اس معاہدے سے دو نئے فوجی اڈوں کے قیام اور ٹرمپ کے مجوزہ میزائل دفاعی نظام ‘گولڈن ڈوم’ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کی توثیق بھی کی گئی ہے۔
یہ معاہدہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد نہ کرنے کے ٹرمپ کے موقف سے پیدا ہونے والے تقریباً دو سالہ بحران کو ختم کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔
ٹرمپ نے بدھ کی پوسٹ میں کہا کہ گزشتہ ماہ ہونے والے معاہدے سے امریکہ اور یورپ کو حاصل ہونے والے سلامتی کے فوائد بے مثال ہیں۔
ان کے مطابق، امریکہ پر مستقبل میں ہونے والے کسی بھی فضائی حملے کو گرین لینڈ کے راستے سے گزرنا پڑے گا، جہاں امریکی دفاعی نظام ڈرونز، میزائلوں اور مستقبل میں تیار ہونے والے دیگر ہتھیاروں کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
انہوں نے لکھا، ”یہ ہمیں ایسا وقت، مقام اور نظر رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جیسا دنیا میں کہیں اور میسر نہیں۔”
گرین لینڈ یا ڈنمارک کی قیادت کی جانب سے ٹرمپ کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پوتن-ٹرمپ کی بات چیت کے نتائج نے جنگ کے حامی خیمے کے کئی لوگوں کو چونکایا: ریابکوف
ماسکو، روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر ہوئی بات چیت کے نتائج نے کشیدگی بڑھانے کی وکالت کرنے والوں کو حیران کر دیا ہے اور ڈیزل ایندھن پر معاہدہ انہیں ہوش میں لانے کا کام کر رہا ہے۔
مسٹرریابکوف نے منگل کے روز صحافیوں سے کہا، “بلاشبہ، صدور کے درمیان ٹیلیفون پر ہوئی بات کا بالکل انوھا نتیجہ نکلا جو جنگ چاہنے والے خیمے کے کئی لوگوں کے لیے چونکا دینے والا تھا اور ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ ہم نے ہمیشہ سیاسی حل کی وکالت کی ہے اور آگے بھی کرتے رہیں گے۔ اگر دوسری طرف کے لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو ان کے مقاصد فوجی طریقوں سے حاصل کیے جائیں گے اور اس سے بات چیت میں ان کی پوزیشن کمزور ہوگی۔ انہیں جتنی جلدی یہ بات سمجھ میں آ جائے اتنا ہی اچھا ہے۔”
مسٹرریابکوف نے کہا کہ روس یوکرین کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے لیکن معلومات کو لیک نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سال ختم ہونے سے پہلے روس اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے امور پر ایک نئی میٹنگ ہو سکتی ہے۔
سفارت کار نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کی اپنی اپنی سمتیں ہیں جن میں وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی میٹنگیں بےکار نہیں ہوتیں اور روس کے پاس پیش کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
مسٹرریابکوف نے کہا کہ امریکہ-روس کی سہ فریقی میٹنگ کو لے کر کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہوا ہے اور یوکرین پر دباؤ ڈالے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔
مسٹرریابکوف نے صحافیوں سے کہا، “میری سمجھ سے، اس معاملے پر کوئی پکا سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔ امکانات بڑھیں گے یا نہیں، یہ سب سے پہلے ان لوگوں کے رخ پر منحصر ہے جن کا یوکرین پر اثر ہے۔ کیف پر خاطر خواہ دباؤ ڈالے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔”
مسٹرریابکوف نے کہا کہ بیلجیم کو سمجھ نہیں آ رہا کہ اور کیا کیا جائے، اس لیے روس کے خلاف نئی پابندیوں کی اسکیمیں مکمل طور پر عام یورپی شہریوں کو دھیان میں رکھ کر بنائی گئی ہیں۔
مسٹر ریابکوف نے صحافیوں سے کہا، “نیا پیکج، پرانا پیکج۔ یہ پیکجز خود اپنے حل کی ہی نفی کر رہے ہیں۔
انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا پیش کریں۔ ایسے اقدامات عام یورپی لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔”
روسی نائب وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ روس نے پابندیوں کے درمیان کام کرنا بہت پہلے ہی سیکھ لیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان6 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
جموں و کشمیر7 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا6 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا1 week agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان4 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا5 days agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
دنیا5 days agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
جموں و کشمیر4 days agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
