تازہ ترین
آٹھ دہائیوں بعد آیا صوفیہ مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی
ترک عوام کا ۸۶؍ سالہ انتظار ختم ہوا۔ صرف استنبول ہی نہیں دیگر شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں آئے نمازیوں کی شرکت۔ صدر رجب طیب اردگان اور ان کے وزراء بھی نماز میں شریک ہوئے۔ آیا صوفیہ میں ۳؍ ائمہ کرام اور ۳؍موذنوں کاتقرر، اب سے پانچوں وقت کی نمازیں یہاں پابندی سے ہوں گی۔
یورپی ممالک کی مخالفت اور ترک عوام کی خوشیوں کے درمیان ترکی کے شہر استنبول میں واقع آیا صوفیہ مسجد میں تقریباً ۸؍ دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ نمازِ جمعہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اپنے کئی اہم وزراء کے ساتھ موجود تھے۔ واضح رہے کہ اردگان نےجمعرات ہی کو یہاں آکر مسجد پر لگائی گئی تختی کی نقاب کشائی کرکے اس کا افتتاح کیا تھا۔ جمعہ کو نماز کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ استنبول کے گورنر علی یار لیکایا نے کہا کہ ’’ہم نے لوگوں سے چار چیزیں اپنے ساتھ لانے کو کہا تھا ، ماسک، مصلیٰ، صبر اور سمجھداری‘‘ نماز کے دوران کورونا وائرس کے پیش نظر ۲؍ نمازیوں کے درمیان درکار فاصلے کا خاص خیال رکھا گیا۔ اس دوران عمارت میں موجود عیسائی دور کی علامتوں کو کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ خواتین اور مردوں کیلئے نماز کا علاحدہ انتظام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سیکوریٹی اور طبی سہولیات کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ ۷؍سو طبی اہلکاروں کو خصوصی طور پر تعینات کیا گیا تھا جبکہ ہنگامی حالات کے مدنظر ۱۰۱؍ ایمبولنس بھی مسجد کے پاس موجود تھیں ۔ ساتھ ہی ایک ہیلی کاپٹر ایمبو لنس کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ مجموعی طور پر استنبول میں ۲۰؍ ہزار سیکوریٹی گارڈ کو تعینات کیا گیا تھا۔
ائمہ اور موذن کی تقرری
ایک روز قبل ہی ترکی حکومت کے مذہبی امور کے نگراں علی ارباز نے آیا صوفیہ مسجد میں ۳؍ ائمہ کرام کی تقرری کا اعلان کیا تھا۔ ان میں سے ایک استنبول کی مرامر یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں ۔ محمد بوئنو کالین یونیورسٹی میں اسلامی قوانین سے متعلق درس دیتے ہیں ۔ ان کے علاوہ بن یامین تبغلو اور فروخ مستر بھی یہاں نماز پڑھائیں گے۔ ان کے علاوہ ۳؍ موذنوں کا بھی تقرر کیا گیاہے لیکن ان کے نام حاصل نہیں ہو سکے۔ البتہ ان میں سے ۲؍ کا تعلق استنبول کی سب سے بڑی سلطان احمد مسجد سے ہے۔
آیا صوفیہ مسجد کے حکام نے بتایا کہ آئندہ ۲۴؍ گھنٹوں تک یہاں قرآن پاک کی تلاوت ہوگی۔اور اب سے یہاں پانچوں وقت کی نمازیں پابندی سے ادا کی جائیں گی۔ یہاں اب عوام کا داخلہ مفت ہوگا۔ واضح رہے کہ جب یہ عمارت میوزیم ہوا کرتی تھی تو عوام کو اس میں داخل ہونے کیلئے فیس ادا کرنی ہوتی تھی۔
چھیاسی سال کا انتظار ختم ہوا
جمعہ کو آیا صوفیہ میں نماز ادا کرنے کی غرض سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ ان میں صرف استنبول کے لوگ شامل نہیں تھے بلکہ دیگر شہروں کے لوگ بھی یہاں پہنچے تھے۔ انہی میں سے ایک نے کہا ’’ آج ہمارا ۸۶؍ سالہ انتظار ختم ہوا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ لوگ اس عمارت کو میوزیم بنائے جانے کے بعد سے اس کے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک اور نمازی نے کہا ’’ ہمارے صدر اور عدالت کا شکریہ جن کی وجہ سے آج ہم آیا صوفیہ میں جمعہ کی نامز ادا کر رہے ہیں ۔‘‘ بڑی تعداد میں یہاں خواتین بھی موجود تھیں جن میں سے ایک خاتون نے کہا ’’ میں چھٹی پر تھی اور شہر سے باہر گئی ہوئی تھی لیکن جیسے ہی مجھے علم ہوا کہ آیا صوفیہ کو دوبارہ نماز کیلئے کھولنے کا اعلان ہو چکا ہے میں نے اپنا پروگرام منسوخ کر دیا اور استنبول لوٹ آئی تاکہ یہاں نماز ادا کر سکوں ۔‘‘ واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نماز کے بعد عوام سے خطاب کرنے والے تھے لیکن خبر لکھے جانے تک ان کی تقریر سے متعلق کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ البتہ اطلاع کے مطابق یہاں موجود عوام میں کافی جوش وخروش دیکھا گیا۔ یاد رہے کہ اس ۱۵؍ سو سالہ عمارک کو جو کہ کوئی ۶؍ سال تک ایک مسجد رہی کمال اتارک نے ۱۹۳۱ء میں بند کر دیا تھا اور ۱۹۳۴ء میں اسے ایک میوزیم بنانے کا حکم دیا تھا ۔ جبکہ ۱۹۳۵ء میں اسے بطور میوزیم عوام کیلئے کھول دیا تھا۔ اس طرح کوئی ۸۹؍ سال سے یہاں نماز ادا نہیں کی گئی تھی۔ گزشتہ دنوں ترکی کی سب سے بڑی عدالتنے اس مسجد کو دوبار ہ نمازیوں کیلئے کھولنے کا حکم دیا جس کے بعد جمعہ ۲۴؍ جولائی سے یہاں نماز کا سلسلہ شروع کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔
(انقلاب)
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر20 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا24 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان22 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
