دنیا
ایران اور ہندوستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی، اسٹریٹجک تعاون بڑھانے کے امکانات موجود ہیں: پیزشکیان
بشکیک، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات ہیں اور پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے ذریعے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر پیزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) چوٹی کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی صدر نے حالیہ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران ایران کے ساتھ تعاون پر ہندوستان کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کے آغاز سے ہی ایران کی پالیسی امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور تنازعات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر مبنی ہے۔
مسٹر پیزشکیان نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ نے سفارتی ذرائع استعمال کرنے کے بجائے جنگ، عدم تحفظ اور طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتا اور اس کی ذمہ داری اپنے عوام کو خطرے اور عدم تحفظ سے بچانا اور امن، استحکام اور سلامتی کے حالات پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے معاہدوں کے تحت بقایا مسائل کے حل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہے لیکن امریکی فریق نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ ایران معاہدے اور باہمی افہام و تفہیم کے راستے پر گامزن رہے گا۔ جنگ جاری رکھنا ایران، امریکہ، خطے یا انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے۔
مسٹر پیزیشکیان نے کہا کہ عقلمندی اور منطق جنگ سے گریز اور جنگ کو روکنے کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں بعض گروہ جنگ جاری رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتے ہیں لیکن امن کی حامی قوتوں کا عزم مضبوط ہونا چاہیے اور ہمیں امن، استحکام اور سلامتی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ مسٹر مودی نے ملاقات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہندوستان حالیہ مشکل حالات میں ایران کے ساتھ تعاون اور بات چیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
امن اور سلامتی کے بارے میں صدر پیزشکیان کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی شخصیت کے بارے میں ان کی سمجھ کی بنیاد پر وہ انہیں ایک امن پسند شخص سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایرانی صدر امن کے قیام میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مسٹر پیزشکیان کی کوششوں کے بالآخر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
مسٹر مودی نے ایرانی صدر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ جنگ میں اپنے مفادات دیکھتے ہیں، لیکن ہر کسی کو امن قائم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آخرکار امن اور سلامتی ہی غالب آئے گی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون میں حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے موجودہ صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ٹرانسپورٹ اور بحری تعاون، آبنائے ہرمز میں پیشرفت اور ایران کی چابہار بندرگاہ پر تعاون میں پیش رفت اس ملاقات کے اہم امور میں شامل تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فلپائن میں جہاز میں آگ لگنے سے مرنے والوں کی تعداد 35، درجنوں اب بھی لاپتہ
منیلا، فلپائن کے ساحلی محافظ دستے نے کہا ہے کہ اس نے اس ہفتے آگ لگنے والے ایک جہاز کے ملبے سے 30 لاشیں برآمد کی ہیں، جس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 35 ہو گئی ہے۔ یہ اطلاع ہفتہ کو بی بی سی کی رپورٹ سے موصول ہوئی۔
منیلا سے روانہ ہونے کے بعد ایم وی جون ایسٹر جب کورون کے قریب اپنی منزل کے نزدیک پہنچ رہا تھا، اسی دوران بدھ کو اس میں آگ لگ گئی۔ اس وقت جہاز پر 130 سے زیادہ افراد سوار تھے۔
43 افراد کو بچا لیا گیا ہے، جن میں سے کئی کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے، جبکہ 50 سے زیادہ افراد کی تلاش جاری ہے، جن کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ملک کے ساحلی محافظ دستے کا کہنا ہے کہ جہاز پر ابھی کچھ مزید لاشیں موجود ہیں، لیکن زہریلی گیس اور شدید گرمی کے باعث وہ جمعہ تک جہاز میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔
ایک پریس کانفرنس میں ساحلی محافظ دستے کی ترجمان کموڈور نومی کایابیاب نے کہا کہ زیادہ تر لاشیں جہاز کے آرام کرنے والے حصے سے برآمد کی گئی ہیں۔ یہ جہاز 22 گھنٹے کا سفر کر رہا تھا۔
یو این آئی، ایم جے
دنیا
سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
ریاض/واشنگٹن، 11 ستمبر (یو این آئی) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دو مرتبہ فون کرکے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف فضائی حملے کرے، کیونکہ حوثی جنگجو اسٹریٹجک باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔ یہ بات دو امریکی عہدیداروں نے بتائی۔
تاہم، ٹرمپ نے یہ درخواست مسترد کردی اور امریکی عہدیداروں نے واضح کیا کہ واشنگٹن فی الحال حوثیوں کے خلاف براہ راست مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا، کیونکہ اس وقت اس کی توجہ ایران پر مرکوز ہے۔
ریاض کی اپیل ایسے وقت سامنے آئی جب یمن میں حوثی فورسز کے ایک اسٹریٹجک ساحلی شہر پر قبضے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت سے حوثی جنگجو باب المندب آبنائے کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں، جو عالمی تجارت اور سعودی تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ذریعے عالمی جہاز رانی کو متاثر کرچکا ہے۔ دونوں آبی گزرگاہوں پر کنٹرول تہران کو واشنگٹن اور خلیج میں اس کے اتحادیوں کے خلاف زبردست دباؤ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔
جمعہ کی صبح اطلاعات تھیں کہ حوثیوں نے آبنائے میں واقع ایک اہم جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ سعودی عرب کی اہم مشرق-مغرب تیل پائپ لائن کے اوپر دھواں بھی دیکھے جانے کی اطلاع ملی، تاہم دھویں کے ماخذ کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا۔
امریکہ یمن میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کے اظہار اور ریاض کے لیے اپنی حمایت مضبوط کرنے کے باوجود سعودی عرب کی ایران نواز گروپ کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی براہ راست مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔
دو باخبر ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعرات کو فوری رابطہ کاری کے اجلاسوں کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ تاہم سعودی سفارتخانے اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ محاذ آرائی جولائی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب ریاض نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد اعلیٰ حوثی عہدیداروں کو لے جانے والے ایرانی طیارے کو صنعا میں اترنے سے روک دیا تھا۔
اس کے بعد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے لیے سیاسی حمایت طلب کی تھی اور واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کو براہ راست امریکی فوجی مدد درکار نہیں۔ ٹرمپ نے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔
حوثیوں نے اس کے جواب میں بحیرہ احمر میں سعودی ٹینکروں پر حملے کیے، جس سے مملکت کی تیل برآمدات کے ایک اہم راستے کو خطرہ لاحق ہوگیا، اور بعد میں اپنے حملوں کا دائرہ سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک بڑھا دیا۔
سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادیوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کا جواب دیا۔
براہ راست امریکی فوجی کارروائی کی تازہ درخواست جولائی کے مقابلے میں سعودی پالیسی میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جب ریاض نے واشنگٹن کو بتایا تھا کہ وہ امریکی فوجی مداخلت کے بغیر حوثیوں سے نمٹ سکتا ہے۔تاہم لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ سعودی عرب نے امریکہ سے مزید حمایت طلب کی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق امریکی فوجی اور سول عہدیداروں نے حالیہ ہفتوں میں اپنے سعودی ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کی ہدایت ہے کہ امریکی افواج ایران اور آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز رکھیں اور ایک اور محاذ کھولنے سے گریز کریں۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق جمعرات کو حوثی فورسز ساحلی شہر المخا کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز پسپائی اختیار کر رہی تھیں، اسی دوران محمد بن سلمان نے ٹرمپ کو فون کرکے بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کیا۔
کئی گھنٹے بعد انہوں نے دوبارہ فون کیا اور ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کا حکم دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر درخواست مسترد کردی، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب کو حوثیوں کے ٹھکانوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔
عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 200 امریکی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور وہ غیر جنگی نوعیت کی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کی ترجیح بحیرہ احمر کو کھلا رکھنا ہے، جبکہ وسیع تر تنازع سے نمٹنے کی ذمہ داری علاقائی شراکت داروں پر چھوڑ دی گئی ہے۔
عہدیدار نے کہا، ”امریکہ اپنے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ہے، جبکہ ہم اپنے علاقائی شراکت داروں کو علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور انہیں حل کرنے میں قیادت کا کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنا رہے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہم علاقائی استحکام کے حوالے سے سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔“
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے ’اقتصادی آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت ایران سے منسلک ملیشیاؤں اور مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا لیا
واشنگٹن، امریکہ نے ایران سے منسلک کتائب حزب اللہ (کے ایچ)، لبنانی حزب اللہ اور دہشت گردی کی مالی معاونت، فوجی سازوسامان کی خریداری اور تہران کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کے الزام میں متعدد افراد اور کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کی گئی ہے۔ اس میں عراق، لبنان، متحدہ عرب امارات اور ترکی میں سرگرم ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے علاقائی اتحادی گروہوں کو مالی اور رسدی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان تھامس ’’ٹومی‘‘ پگٹ نے کہا کہ کتائب حزب اللہ اور حزب اللہ مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر ’’تشدد اور تخریبی سرگرمیوں‘‘ کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے تہران کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے ہیں، جس سے عراق، لبنان، امریکی اہلکاروں اور سفارتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی ترسیل کو خطرہ لاحق ہے۔
وزارت خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول (او ایف اے سی) نے کہا کہ تازہ اقدامات میں کتائب حزب اللہ اور حزب اللہ کی حمایت کرنے والے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایران سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک شخص کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا، ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ ان لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو ناکام ہوتے ایرانی نظام کے ساتھ اب بھی کھڑے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’چاہے وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کریں، رقم کو غیر قانونی طریقے سے منتقل کریں یا ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دیں، ہم انہیں تلاش کریں گے، امریکی مالیاتی نظام سے الگ کریں گے اور ان نیٹ ورکس کو ختم کریں گے جو اس نظام کو قائم رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔‘‘
امریکہ نے کہا کہ ان اقدامات سے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور-قدس فورس (آئی آر جی سی۔ کیو ایف) کا ایران نواز ملیشیاؤں کی حمایت اور اپنی سرگرمیوں کی مالی معاونت اور پابندیوں سے بچنے کے لیے تجارتی نیٹ ورکس کے استعمال میں کردار واضح ہوتا ہے۔
او ایف اے سی نے کتائب حزب اللہ کے چار کمانڈروں اور ارکان، علی حسن فرحان اللامی، حسین احمد حسین الضحیباوی، محمد امین فاضل علی الشیخلی اور کرار محمد قاسم الحریشاوی کو گروپ کی جانب سے کام کرنے کے الزام میں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت نامزد کیا ہے۔
واشنگٹن نے کہا کہ محکمہ خارجہ نے 2009 میں کتائب حزب اللہ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور اسےآئی آر جی سی۔ کیو ایف کی جانب سے تربیت، ہتھیار، مالی امداد، انٹیلی جنس اور رسدی تعاون حاصل رہا ہے۔
امریکہ نے کتائب حزب اللہ پر عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم سی ) اور اس کے انتظامی ادارے پاپولر موبلائزیشن کمیشن (پی ایم سی) میں نمایاں اثر و رسوخ رکھنے کا بھی الزام عائد کیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق کتائب حزب اللہ کے ارکان انٹیلی جنس، میزائل، اینٹی آرمر صلاحیتوں اور اسپیشل فورسز سمیت مختلف شعبوں کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
جاری ۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
کھیل1 week agoورلڈ کپ کے حوالے سے شکوک و شبہات کے درمیان بی سی سی آئی نے روہت شرما کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا5 days agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
