ہندوستان
ای او ایس-05 کی کامیاب لانچنگ، اسرو اور صنعتی شراکت داری خلائی پروگرام کو نئی طاقت دے رہی ہے:وزیراعظم
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) کے جی ایس ایل وی-ایف 17 کے ذریعے ای او ایس-05 کی کامیاب لانچنگ کو ’’شاندار کامیابی‘‘ اور ملک کے لیے ’’فخر کا لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرو اور ملکی صنعت کے درمیان بڑھتی شراکت داری کے کردار کو اجاگر کیا، جو ملک کی خلائی صلاحیتوں کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، ’’اسرو کی ایک اور شاندار کامیابی اور ہمارے ملک کے لیے فخر کا لمحہ۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ای او ایس-05 کو لے جانے والے جی ایس ایل وی-ایف 17 کی کامیاب لانچنگ نے ان ’’بہترین کارکردگی، اختراع اور بڑھتی ہوئی صلاحیتوں‘‘ کی عکاسی کی ہے جو ہندوستان کے خلائی شعبے کی شناخت ہیں۔
وزیر اعظم نے اسرو اور ملکی صنعت کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ’’اسرو اور ہندوستانی صنعت کے درمیان بڑھتی شراکت داری‘‘ ہندوستان کی خلائی کوششوں میں ’’نئی طاقت اور وسعت‘‘ پیدا کر رہی ہے اور پورے خلائی نظام میں صلاحیتوں کو مضبوط کر رہی ہے۔
جی ایس ایل وی-ایف 17 مشن جمعہ کو صبح 2.55 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے روانہ ہوا اور اس نے 2,367 کلوگرام وزنی ای او ایس-05 کو کامیابی کے ساتھ اس کے مقررہ جیو سنکرونس مدار میں پہنچا دیا۔ اسرو نے کہا کہ مشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا، جو ہندوستان کے جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی 19ویں پرواز ہے۔
ای او ایس-05 ہندوستان کی زمین کے مشاہدے کی صلاحیتوں میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ یہ ملک کا پہلا امیجنگ سیٹلائٹ ہے جسے جیو سنکرونس مدار سے کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کم مدار میں موجود روایتی زمین مشاہداتی سیٹلائٹ کے برعکس، جو کسی مخصوص علاقے کے اوپر وقفے وقفے سے گزرتے ہیں، اس کی جیو سنکرونس پوزیشننگ وسیع جغرافیائی علاقے کی مسلسل تصویر کشی اور نگرانی کو ممکن بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اس صلاحیت کے زراعت، موسمیاتی مشاہدے، آفات سے نمٹنے اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کی توقع ہے، جبکہ اس سے ہندوستان کو بڑے علاقوں کی مسلسل نگرانی کی بہتر صلاحیت حاصل ہوگی۔
یہ مشن جیو سنکرونس امیجنگ صلاحیتیں تیار کرنے کی اسرو کی کوششوں میں بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ ای او ایس-03/جی آئی ایس اے ٹی-1 مشن کے بعد آیا ہے، جو اگست 2021 میں جی ایس ایل وی-ایف 10 کی پرواز کے دوران خرابی پیش آنے کے بعد مدار تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔
اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کہا کہ مدار میں کامیاب طریقے سے پہنچائے جانے کے بعد ای او ایس-05 ’’بالکل درست حالت‘‘ میں ہے۔ مشن کے حکام نے سیٹلائٹ کو جدید ملٹی بینڈ امیجنگ صلاحیتوں سے لیس ایک پیچیدہ خلائی جہاز قرار دیا۔
یہ کامیاب لانچنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان روایتی حکومت کی قیادت والے پروگراموں سے آگے اپنے خلائی نظام کو وسعت دینے اور سیٹلائٹ سازی، لانچ خدمات، خلائی ایپلی کیشنز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں ملکی کمپنیوں کی شمولیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مودی کے تبصرے ای او ایس-05 کی کامیابی کو ہندوستان کے خلائی شعبے میں اس وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، جس میں ملکی تکنیکی صلاحیتیں تیار کرنے اور ملک کے خلائی پروگرام کے پیمانے کو وسعت دینے کے لیے اسرو اور نجی صنعت کے درمیان تعاون پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
جی ایس ایل وی-ایف 17 کی کامیابی سے ہندوستان کے تیزی سے پرعزم خلائی پروگرام کو بھی نئی رفتار ملی ہے، جس میں زمین کے مشاہدے، تجارتی خلائی منصوبوں اور نجی شعبے کی شمولیت میں سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ یہ مشن جولائی 2025 میں جی ایس ایل وی-ایف 16/نیسار کی لانچنگ کے بعد انجام دیا گیا ہے۔
ای او ایس-05 کے کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچنے کے ساتھ یہ مشن بڑھتی ہوئی پیچیدگی والے خلائی مشن انجام دینے کی اسرو کی صلاحیت کا ایک اور مظاہرہ ہے، جبکہ خلا کے شعبے میں ہندوستان کے طویل مدتی عزائم کی حمایت کرنے والے تکنیکی اور صنعتی نظام کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
یو این آئی۔
ہندوستان
مودی۔پیزشکیان کی مغربی ایشیا پر بات چیت، ہندوستان کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور
نئی دہلی، مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔
برکس چوٹی کانفرنس سے الگ ہوئی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر مودی نے دہرایا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے 31 اگست کو بشکیک میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس سے الگ دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود برکس سے متعلق اجلاسوں میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان استحکام، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو مضبوط بنانے میں برکس اہل ہے۔ وزیر اعظم نے بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیزشکیان کی شرکت کے لیے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر اعظم نے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے برکس سمیت کثیر فریقی تنظیموں میں مشترکہ مفادات کے امور پر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعاون کی بھی تعریف کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، جہاز رانوں کا تحفظ ضروری: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ تجارت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان معاشی رابطے کے پل بنانے میں مصروف ہے۔
نریندر مودی نے یہاں برکس سربراہ اجلاس کے آغازسے قبل آج منعقدہ برکس بزنس فورم سے خطاب کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک مل کر کام کریں گے تو دنیا بھر کے لیے مسائل اور ضروریات کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے نریندر مودی اور ولادیمیر پوتن نے ہندوستان-روس تجارتی نمائش ‘انوپروم’ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا، “دنیا میں تجارت آگے تبھی بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور جہاز راں محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور جہاز رانوں کے تحفظ کا پرزور حامی ہے۔”
نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں آج جب تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان (مختلف مارکیٹوں کے ساتھ) معاشی رابطے کا پل تعمیر کر رہا ہے۔” انہوں نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت امریکہ-ایران جنگ کے باعث رک سی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک دوسرے ممالک کے خلاف تجارت میں اونچے ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے اقدامات کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعظم نے کہا کہ “عالمی تشویشات کے درمیان بھی ہندوستان آج معاشی نمو اور استحکام کا بھروسہ دے رہا ہے۔” انہوں نے عالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان میں جدت طرازی اور ایجادات کے لیے آنے اور یہاں سے دنیا کی مارکیٹوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے برکس گروپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے دنیا کے لیے تمام تر حل پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گروپ سے اپیل کی کہ، “برکس آگے بڑھے، اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔”
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
برکس بزنس فورم میں پوتن کا مغربی ممالک پر تجارتی ناانصافی کا الزام
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ مسابقت میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں کھلے عام غیر منصفانہ طریقے اختیار کررہے ہیں۔
18ویں برکس سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل منعقدہ بزنس فورم میں مسٹر پوتن نے کہا کہ دنیا میں اس وقت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور 21ویں صدی میں ترقی کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد رہا ہے، جبکہ جی7 ممالک کا حصہ 29 فیصد ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی میں برکس ممالک کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ جی7 کا حصہ 18 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی 50 فیصد آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ پوتن نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’انہیں جی7 کہا جاتا ہے، معلوم نہیں انہیں گریٹ کیوں کہا جاتا ہے۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ مغربی حریف اپنی سابقہ پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں اور بعض اوقات غیر منصفانہ طریقے بھی اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر سرکاری سطح پر بھی ایسے اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں، جن میں پائپ لائنوں کو تباہ کرنا، بین الاقوامی نقل و حمل اور کوریڈور بند کرنا، تجارتی جہاز ضبط کرنا اور غیر قانونی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔
روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان اور بعض دیگر ممالک پر عائد پابندیوں کے تناظر میں مسٹر پوتن نے کہا کہ جو ممالک مغربی ملکوں کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان پر بالواسطہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد مجموعی پابندیوں سے تقریباً دوگنی ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا کہ ان مشکل حالات کے باوجود روس نے برکس اور دیگر ممالک میں نئے شراکت دار بنائے ہیں۔ گزشتہ چار برس میں روس کی غیر ملکی تجارت میں جغرافیائی اور اسٹریٹجک تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس تیزی سے ترقی کررہا ہے اور گزشتہ تین برس میں اس کی جی ڈی پی کی شرح نمو عالمی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق روس نے بلند اہداف مقرر کیے اور انہیں حاصل بھی کیا، جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک بلند بجٹ خسارے، عوامی قرضوں اور صنعتی زوال کا سامنا کررہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
