تازہ ترین
بکھرے ساتھی ایک بار پھر اقتدار کی گدھی پر ہونگے براجمان ، وزیر اعلیٰ کی کرسی مظفر حسین بیگ کو سو نپے جانے کا امکان
خبر اردو:
ریاست جموں کشمیر میں در پر دہ حکومت سازی کے حوالے سے کو ششوں کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آنے والے دنوں میں پرانے بکھرے ساتھی ایک بار پھر اقتدار کی گدھی پر برا جمان ہو نگے ۔معلوم ہوا ہے کہ نئی حکومت میں وزیر اعلیٰ کی کرسی مو جودہ ممبر پارلیمنٹ اور پی ڈی پی کے سینئر لیڈر مظفر حسین بیگ کو سو نپی جائے گی ۔
ریاست میں حکومت سازی کے حوالے سے در پر دہ کو ششوں اور قیاس آرائیوں کو اس وقت تقویت ملی جب اندورنی ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ سابق مخلوط حکومت ایک بار پھر گلے ملنے کی تیار یوں میں مصروف عمل ہے اور متوقع طور پر آنے والے د نوں میں اس حوالے سے سیاسی سطح پر بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی ۔ذ رائع نے بتایا کہ 19جون کو ریاست جموں کشمیر میں سابق مخلوط حکومت کے ٹو ٹ جانے کے بعد مختلف سطحوں پر حکومت سازی کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھی جس دوران متعدد سیاسی لیڈران تنظیمی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حکومت سازی کے حوالے سے جو ڑ تو ڑکی کو ششوں میں مصروف ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے گز شتہ 2ہفتوں سے سیاسی سطح پر کافی چہل پہل اور در پر دہ کو ششیں جاری ہے اور اس دوران مختلف سیاسی لیڈران ریاست میں حکومت سازی کے لئے اپنے اپنے رابطوں اور وسائل کو بر وئے کا ر لانے میں مصروف ہیں اور اگر تازہ اطلاعات کو صحیح مانا جائے تو اس حوالے سے نئی حکومت تشکیل دینے میں مصروف عمل سیاسی جماعتیں یا لیڈران کامیاب ہو تے نظر آرہے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ 19جون کو بٹ چکے اتحاد میں ایک بار پھر آنے والے د نوں میں صلاح ہو نے کے قوی امکانات ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے مقامی جماعت پی ڈی پی کو ہی وزیر اعلیٰ کی کر سی ملے گی جس کے لئے پارٹی نے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ کا نام پیش کیا ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ مظفر بیگ کے نام کے ساتھ بی جے پی نے بھی مکمل طور اتفاق کیا ہے اور اس حوالے سے ستمبر کے ابتدائی دنوں میں سیاسی سطح پر گہما گہمی دیکھنے کو ملے گی ۔ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی ریاست میں ستمبر تک پی ڈی پی کے ساتھ دیگر معاملات طے کرے گی جبکہ مر کز ی سر کار بھی امر ناتھ یاترا کے اختتام کے ساتھ ہی ریاست میں نئی سرکار کو ہر ی جھنڈ ی دکھائے گی ۔معلوم ہوا ہے کہ دو نوں جماعتوں کے در میان حکومت سازی کے حوالے سے مختلف معاملات پر اتفاق رائے ہوا ہے جن میں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر اگلے 3بر سوں کے لئے مظفر حسین بیگ کا نام طے ہوا ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ پی ڈی پی صدر اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ نئے سر ے سے سر کار تشکیل دینے پر ریاست اور نئی دہلی میں اپنے قریبی صلاح کاروں کے ساتھ تفصیلی تبا دلہ خیا ل کیا ہے جبکہ اس دوران مر کز میں اقتدار پر برا جمان بی جے پی نے بھی نئی سر کار کے حوالے سے مختلف معاملات پر اتفاق کیا ہے اور جلد ہی ریاست میں ایک بار پھر پی ڈی پی بھاجپا حکومت وجود میں آئے گی ۔معلوم ہوا ہے کہ مر کزی سر کار میں سابق وزیر اور مو جودہ ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ کو خا صی عزت کی نگاہ
سے دیکھا جاتا ہے کیو نکہ مو صوف نے مر کز میں مو دی کی حکومت کو ہندو ستان کے لئے خدا کا انعام قرار دیا تھا ۔
معلوم ہوا ہے کہ پیپلز کانفرنس کے چیر مین کے حوالے سے بی جے پی میں کافی لو گ اس رائے کے حق میں تھے کہ سجاد غنی لون کو وزیر اعلیٰ کی کر سی پر بٹھایا جائے کیونکہ وہ ریاست جموں کشمیر کے ایک با اثر اور قابل سیاست داں ہے اور اگر اس کو وزیر اعلیٰ کی کر سی تھما دی جاتی تو اس کے ریاست میں مثبت اثرات مر تب ہو تے لیکن اس کے ساتھ دلی میں ایک اور لابی نے سجاد غنی لون کے نام پر اتفاق نہیں کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ اس لابی نے اس کی یہ و جو ہات بتائی کہ سجاد غنی لون کو بی جے پی وزیر اعلیٰ کی کر سی پر بٹھا دے تو ریاست کی سیاسی گلیاروں میں اس سے خلا پیدا ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر سجاد غنی لون کو وزارت اعلیٰ کی کر سی پر برا جمان کیا جاتا ہے تو یہ بی جے پی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 2019کو انتخا بات ہو نے وا لے ہیں جس کے نتیجے میں بی جے پی کو زمینی سطح پر خفت کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ مظفر بیگ کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا نے کے نتیجے میں پی ڈی پی کے اندر پیدا ہو ئی خلفشار کا بھی خا تمہ ہو گا کیو نکہ مظفر حسین بیگ کے نام کے ساتھ پہلے ہی ناراض ممبران نے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔اس دوران بی جے پی کے زرائع نے بتایا کہ مظفر حسین بیگ کے خلاف کو ئی بھی کر پشن کیس در ج نہیں ہے جبکہ مو صوف نئی دلی کے بھی چہیتے ہو نے کے ساتھ ساتھ انکی ساکھ بھی اچھی ہے ۔
ادھر بی جے پی کے جنرل سیکریٹری اشو ک کو ل نے بتایا کہ مظفر حسین بیگ کے حوالے سے جو بھی معاملات ہو نگے وہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی طے کرے گی ۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس حوالے سے ابھی کو ئی بھی فیصلہ نہیں لیا اور نہ ہی اس معاملے کو لے کر کوئی میٹنگ منعقد کی ۔انہوں نے بتایا کہ اگر اس حوالے سے کو ئی بھی فیصلہ لینا ہو گا تو اس حوالے سے پارٹی پہلے صلاح مشورہ کر ے گی اور حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمانڈ ہی لے سکتی ہے ۔اس دوران پی ڈی پی نے بتایا کہ ہم نے حکومت سازی کے حوالے سے ابھی تک ایسا کو ئی فیصلہ نہیں لیا تاہم آگے کیا ہو گا اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا ۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا16 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا12 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا19 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان16 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا11 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر10 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا8 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر10 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
