تازہ ترین
جموں صوبے میں طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے سے قہر برپا ، چار افراد لقمہ اجل ، تین زخمی
خبر اردو :
صوبہ جموں کے کئی اضلاع سمیت سرحدی قصبہ کرناہ میں طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں قہر بپا ہوا جس کے نتیجے میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4افراد لقمہ اجل جبکہ 3افراد زخمی ہوگئے جبکہ درجنوں مکانات اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ تیز بارشوں اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں فصلوں اور تعمیراتی ڈھانچوں کے علاوہ درجنوں گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ سیلابی بارشوں کے نتیجے میں کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں جس کی وجہ سے لوگوں کے عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صو بہ جموں کے ادھمپور ضلع میں تیز اور طو فانی بارشوں اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں یہاں ندی نالوں میں اچانک طغیانی آئی ہے جس کے نتیجے میں 2افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ اس دوران 2افراد زخمی ہو ئے ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ ادھمپور کے اکثر علاقوں میں اتوار کی شام سے ہی آسمان گھڑ گھڑا ہٹ سے گونج اٹھا جس کے دوران تیز بارشیں بھی ہو ئی اور کئی جگہوں پر آسمانی بجلی گر نے کے نتیجے میں ندی نالوں میں اچانک طغیانی جیسی صورتحال پیدا ہو ئی ۔زرائع نے بتایا کہ 45سالہ با بو رام رام ایک نالے میں تھا کہ اس دوران نالے میں اچانک طغیانی آئی جس نے با بو رام کے اپنے سا تھ بہا کے لے لیا ۔انہوں نے بتایا کہ با بو رام کی نعش کو اتوار کی سہہ پہر نالے سے باہر نکالا گیا ۔زرائع نے بتایا کہ پانی کے تیز بہاؤ کے نتیجے میں ادھمپور میں ہی ایک 22سالہ استانی ڈمپل دیوی دیور ڈھہ جانے کے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئی ۔
اس دوران معلوم ہوا ہے جموں کے بس اسٹینڈ میں ایک شخص سنجے کمار کا پیر پھسل گیا جس کے نتیجے میں سنجے کمار ڈرین میں گر کر لقمہ اجل بن گیا ۔انہوں نے بتایا کہ جس دوران مذکورہ شخص کا پیر پھسل گیا اس وقت نزدیکی ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ کا فی تیز تھا ۔ادھر زرائع نے پونچھ سے تفصیلات فراہم کرتے ہو ئے بتایا کہ 24سالہ جاوید احمد اس وقت لقمہ اجل بن گیا جب وہ پانی کے تیز بہاؤ کے زد میں آیا۔انہوں نے بتایا کہ جاوید احمد کی نعش کو نالے سے بازیاب کیا گیا ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ صو بہ جموں کے مختلف اضلاع سانبہ ،کھٹوعہ ،ریاسی ،ادھمپور پو نچھ میں تیز بارشوں ،مٹی کے تودے گر آنے اچانک طغیانی اور مٹی کھسکنے کے نتیجے میں 2درجن سے زیادہ مکانات کو شدید یا جزوی نقصان پہنچا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جموں میں تیز بارشوں سے مچی تباہی کے نتیجے میں کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔یاد رہے کہ محکمہ مو سمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں اگلے 36گھنٹوں کے دوران شدید بار شوں کا امکان ہے جبجہ گزشتی کئی روزسے جاری با رشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 8سو کے قریب اموات ہو ئی ہے ۔
اس دوران سرحدی قصبہ کرناہ میں بھی منگلوار کو تیز بارشوں کے دوران شمس بری پہاڑ پر بادل پھٹنے کے نتیجے میں پانی کا ایک سیلابی ریلا ٹنگڈار بستی میں داخل ہوا جس کی وجہ سے علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سیلابی ریلے نے مین مارکیٹ ٹنگڈار میں موجود 5دکانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاجبکہ علاقے میں گھروں سے باہر مال مویشی کو بھی اپنے ساتھ بہالیا۔ انہوں نے بتایا کہ بادل پھٹنے کے بعد یہاں تیز بہاؤ پانی نے بجلی کی سپلائی فراہم کرنے والی ترسیلی نظام کو مکمل طور پراپنے ساتھ بہالے گئی جبکہ ٹاڑ، ہری ڈل، گنڈی شاٹ وغیرہ علاقوں میں تیز بہاؤ پانی نے فصلوں اور میوہ باغات کو بھی کافی نقصان پہنچایا۔
انہوں نے بتایا کہ بارشیں کے نتیجے میں علاقے کے کئی پل اور رابطہ سڑکیں بھی تیز بہاؤ پانی کے ساتھ بہہ گئے جس کی وجہ سے متعدد بستیوں کا آپسی رابطہ منقطع ہوگیا۔ معلوم ہوا ہے کہ بستی میں پانی داخل ہونے سے قبل وہاں کھڑے 2پانی کے ٹینکر بھی لاپتہ ہوگئے۔ واقعہ کے فوراً بعدپولیس اور سیول انتظامیہ کے افسران نے علاقے کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا۔ انتظامیہ کے ایک افسر نے کے این ایس کو بتایا کہ علاقے میں بارشوں اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے افسران کی ایک ٹیم علاقے میں ابھی بھی موجود ہیں جو لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔KNS
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا14 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا10 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا17 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان14 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا9 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر8 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا7 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر8 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
