تازہ ترین
جموں وکشمیربنک کوپبلک سیکٹرادارہ بناناقابل قبول نہیں:کشمیراکنامک الائنس
خبراردو:
سری نگر 25،نومبر ؍کے این ایس ؍ جموں وکشمیربنک کوپبلک سیکٹرادارہ بنائے جانے کوایک بڑی سازش قراردیتے ہوئے کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین حاجی محمدیاسین خان نے خبردارکیاکہ گورنرانتظامیہ نے جے کے بینک کی خودمختاری اورریاست کی اقتصادی ترقی کوختم کرنے کی ٹھان لی ہے۔یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمدیاسین خان جوکہ کشمیرٹریڈرس اینڈمینوفیکچررس فیڈریشن کے صدربھی ہیں ،نے کہاکہ ریاست میں قائم کردہ پبلک سیکٹراداروں بشمول اسٹیٹ فائنانشل کارپوریشن،سڈکو،جے کے ایس آرٹی سی،جے کے انڈسٹریزاوردوسرے ایسے اداروں کی کیاحالت ہے ،وہ ہم سب کے سامنے عیاں ہے ۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ ایس ایف سی اورسڈکوجیسے اداروں نے یہاں ترقیاتی عمل میں کیارول اداکیاہے؟۔حاجی محمدیاسین خان نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پبلک سیکٹرادارے ریاستی خزانہ عامرہ پربوجھ بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی ایک ادارہ آج تک منافع بخش نہیں بن سکا۔انہوں نے کہاکہ ریاستی سرکاروں کی جانب سے جوکروڑوں اربوں روپے آجتک پبلک سیکٹراداروں کوفراہم کئے گئے،وہ روپے عام لوگوں کی جانب سے دیاجانے والاٹیکس ہے لیکن ان رقومات کونہ تواقتصادی ترقی کیلئے استعمال کیاگیااورنہ ہی یہ ادارے ان رقومات کوبرؤے کارلاکرخودکفیل ہی بن سکے ۔کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ ہرسال سالانہ بجٹ میں ان اداروں کیلئے رقومات کومختص کیاجاتاہے لیکن کسی ایک ادارے کوآج تک فائدہ بخش یامنافع بخش نہیں بنایاجاسکا۔انہو ں نے کہاکہ جب ان پبلک سیکٹراداروں کی حالت بگڑتی چلی گئی توان کے ذمہ داروں نیملازمین سے پیچھاچھڑانے کیلئے ’گولڈن ہینڈشیک ‘نامی جیسی مختلف اسکیمیں لاکرملازمین کورضاکارانہ طورپرریٹائرمنٹ لینے پرمجبورکیاگیا۔
کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ پبلک سیکٹراداروں کاقیا م ایک ناکام تجربہ ثابت ہوچکاہے توکیوں کہ جموں وکشمیربینک جیسے اہم ترین مالیاتی ادارے کوبھی اسی دائرے میں لانے کاغلط اورغیرضروری فیصلہ لیاگیا۔انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ ریاست جموں وکشمیرمیں نوجوانوں کیلئے روزگارفراہم کرنے کے راستوں اورترقیاتی عمل کیلئے ایک آخری کیل ثابت ہوگا۔حاجی یاسین خان نے خبردارکیاکہ اگرجموں وکشمیربینک کی خودمختاری کوچھیناگیاتوریاست میں اقتصادیات ،بے روزگاری اورمحتاجی کے محاذوں پرایک مصیبت ناک صورتحال پیداہوجائیگی۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرواحدریاست ہے جس کااپناایک قائم کردہ بینک ہے ،اوریہ بینک یعنی جے کے بینک مہاراجہ کے دورمیں قائم کیاگیاتھاتاکہ ریاست میں تعمیروترقی اوراقتصادیات کوایک نئی جہت مل سکے ۔کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ روزاول سے ہی جموں وکشمیربینک کوخودمختارمالیاتی ادارہ رکھاگیا،اوریہی وجہ تھی کہ ریاست کایہ اپنااہم ترین ادارہ ترقی کے منازل طے کرتاگیااوراس ریاست کی ایک پہچان کے طوراُبھرکرسامنے آیا۔حاجی یاسین خان نے کہاکہ جموں وکشمیربینک کی خودمختاری کایہ نتیجہ نکلاکہ ریاست کے مختلف اہم شعبوں بشمول سیاحت ،باغبانی ،زرعی سیکٹر،ہیڈی کرافٹس اورتجارتی وکاروباری سطح پرتمام ترمشکلات کے باوجودبھی بہتری نظرآئی ۔انہوں نے کہاکہ عام دکاندارہویاکہ کارخانہ دار،زمیندارہویاکہ باغ مالکان ،سیاحتی صنعت سے جڑے لوگ ہوں یاکہ میوہ بیوپاری سبھی طبقوں نے ہمیشہ جموں وکشمیربینک پرہی بھروسہ کیاہے کیونکہ عام تاثریہی ہے کہ یہ ہمارااپنابینک ہے ۔کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین نے کہاکہ سبھی طبقوں سے وابستہ لوگ بلاجھجھک اسی بینک میں کھاتہ کھولتے ہیں ،اوریہی بینک مشکل وقت میں اپنے لوگوں کی مددکرتاآیاہے ۔انہوں نے کہاکہ سیلابی صورتحال ہو،خراب موسمی حالات ہوں یاکہ کوئی اورمشکل ،جب بھی کسی طبقے کوضرورت پڑتی ہے تووہ جموں وکشمیربینک سے ہی رجوع کرتاہے ۔انہوں نے کہاکہ جے کے بینک ریاست کاایساواحدادارہ ہے جواسٹاک ایکسچینج میں ہماری نمائندگی کرتاہے ۔
حاجی یاسین خان نے کہاکہ جموں وکشمیربینک نے یہاں مختلف شعبوں کی ترقی میں کلیدی رول اداکیاہے ،اوراس مقصدکیلئے اس بینک نے یہاں مختلف طبقوں کو25ہزارکروڑروپے بطورقرضے کے فراہم کئے ہیں جبکہ باقی قومیائی یانیشنلائزدکہلانے والے بینک 10فیصدکارول بھی ادانہیں کرپائے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جے کے بینک ہمیں مفت میں قرضہ فراہم نہیں کرتاہے بلکہ ہم سے سودوصول کرتاہے اوراس طرح سے اپناکاروبارچلاتاہے ۔ انہو ں نے کہاکہ جب ریاست کسی مالی مشکل یابحران کی شکارہوجاتی ہے توجموں وکشمیربینک ہی ریاستی سرکارکی مددکیلئے آگے آتاہے ۔کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ کاروباری طبقہ ہویاکہ بیوپاری ہرطبقہ جے کے بینک پربھروسہ کرتاہے جبکہ اسی بینک کویہ سہرابھی جاتاہے کہ اس بینک نے بیواؤں ،یتیموں اوردوسرے ضرورتمندوں کومالی معاونت فراہم کرکے اپنی ٹانگوں پرکھڑاہونے کاحوصلہ دیا۔ کشمیراکنامک الائنس کے چیئرمین حاجی محمدیاسین خان نے خبردارکیاکہ گورنرانتظامیہ نے جے کے بینک کی خودمختاری اورریاست کی اقتصادی ترقی کوختم کرنے کی ٹھان لی ہے۔انہوں نے کہاکہ گورنرراج ایک عارضی انتظام یاجزوقتی نظام ہوتاہے ،اورایسے نظام میں بڑے فیصلے نہیں لئے جاتے ہیں بلکہ عام لوگوں کودرپیش مشکلات اورمسائل کوحل کیاجاتاہے لیکن موجودہ گورنرانتظامیہ نے حالیہ دنوں میں قوانین میں جوترمیم کی ہے یاکہ دوسرے اقدامات اُٹھائے ہیں ،اُنکے درپردہ سیاسی مقاصدیاسوچ واپروچ کارفرمانظرآتاہے ۔
انہوں نے کہاکہ ریاستی انتظامی کونسل یاگورنرانتظامیہ نے جموں وکشمیربینک کی خودمختاری کوختم کرنے کاجوفیصلہ لیاہے ،وہ کسی بھی طبقے کوقابل قبول نہیں ،اسلئے تاجرانجمنوں کے اتحادنے فیصلہ لیاہے کہ جے کے بینک کوپبلک سیکٹرادارہ بنائے جانے کے فیصلے کے بارے میں رائے عامہ کومنظم کیاجائیگاتاکہ سبھی لوگ یہ سمجھ سکیں کہ جے کے بینک کی خودمختاری کوختم کرنے کے کیامحرکات ہیں اوراس اقدام سے یہاں سبھی طبقوں کیلئے کیاصورتحال پیداہوسکتی ہے ۔حاجی محمدیاسین خان نے دوسرے تنظیمی رفقاء کی موجودگی میں اعلان کیاکہ اگرگورنرانتظامیہ نے جے کے بینک کیخلاف لئے گئے فیصلے کوواپس نہیں لیاتوریاست گیرایجی ٹیشن چھیڑدی جائیگی ۔KNS
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا24 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا22 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا20 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر22 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر1 hour agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا5 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
