تازہ ترین
جموں وکشمیر کا دستکار طبقہ کسمپرسی کی حالت میں قرضوں کی معافی کیساتھ ساتھ امدادی پیکیج کی اشد ضرورت:نیشنل کانفرنس
نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کے دستکار طبقہ کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیکٹر صدیوں سے ایک وسیع آبادی کے روزگار کا ذریعے رہا ہے لیکن گذشتہ کچھ برسوں کے حالات و واقعات اور اب کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال سے یہ سیکٹر دم توڑنے کی کگار پر پہنچ گیا ہے کیونکہ اس سے منسلک کاریگر اور مند مجبوراً دوسرے کاموں کی طرف راغب ہورہے ہیں۔کے این ایس کو بھیجے گئے ایک تحریری بیان کے مطابق پارٹی کے سینئر لیڈر و سابق وزیر مبارک گل، نائب صدر صوبہ محمد سعید آخون، وسطی زون صدر علی محمد ڈار، ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمد اور سینئر لیڈر عرفان احمد شاہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دستکاری شعبے سے وابستہ افراد کیلئے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقہ گذشتہ کئی برسوں سے مصائب و مشکلات سے دوچار ہے۔
2014کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اگر اس طبقہ سے وابستہ افراد نے پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کی لیکن 2016سے شروع ہوئی بے چینی اور 2017میں جی ایس ٹی کے لاگو اور آج تک مسلسل غیر یقینیت سے جموں وکشمیر کا محنت کش محنت کش طبقہ افلاس اور غربت کے شکنجوں میں بری طرح پھنس گیا ہے اور بیشتر نانہ شبینہ کے محتاج بن گئے ہیں اور بننے کی دہلیز پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوزنی، قالین بافی، شال سازی، نمدہ اور گبّا اور رفل اور پٹو،آری، کریول، ووڈ کارونگ، پیپر ماشی، سنگتراشی اور دیگر کاموں کیساتھ منسلک کنبوں اس وقت بہت ہی زیادہ کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ حکومت کو اس طبقے کی فلاح و بہبود اور راحت رسانی کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔ اس طبقہ سے وابستہ افراد کے قرضوں کو معاف کیا جانا چاہئے اور انہیں امداد کے علاوہ بغیر سود کے نئے قرضے فراہم کئے جانے چاہئیں تاکہ یہ اپنی روزی روٹی کیساتھ ساتھ اپنا کاروبار پھر سے شروع کر سکیں۔اس کے علاوہ اس طبقہ کو مرکزی سرکار کی مختلف سکیموں کے دائرے میں بھی لایا جائے تاکہ ان لوگوں کی پریشانیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں۔
ادھرنیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمان شریف الدین شارق نے ملک بھر میں مہاجر مزدوروں کی حالت زار پر زبردست افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی بے حسی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مہاجر مزدوروں میں ہزاروں کشمیری بھی شامل ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ افسوس اس بات ہے کہ مرکزی حکومت صرف بلند بانگ دعوے کررہی ہے لیکن زمینی سطح پر غریب عوام حکومتی ناکامی اور نااہلی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ شریف الدین شارق نے کہا کہ ملک بھر میں مہاجر مزدوروں کی حالت دیکھ کر انسانیت شرمسار ہورہی ہے۔
جہاں حکومت لاکھوں کروڑ مالی پیکیج کے اعلان کررہی ہے لیکن دوسری جانب ان مزدوروں کو گھر پہنچانے کیلئے کوئی بھی گھر تک پہنچانے کیلئے دو ماہ سے کوئی بھی لائحہ عمل مرتب نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے زیادہ لوگ سڑکوں پر مررہے ہیں۔ پھنسے ہوئے مزدوروں کو مناسب راشن مہیا نہیں ہورہا ہے اور بعض مقامات پر راشن کی فراہمی بالکل بھی نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے انہیں مجبوراً گھروں کی طرف پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ مرکزی حکومت کو فوری طور پر ان مزدوروں کی گھر واپسی کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات کرنے چاہئیں۔ دریں اثناء صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے پارٹی کے سابق بلاک صدر آری زال خانصاحب حشت اللہ خان کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی ہے۔ انہوں نے مرحوم کے پسماندگان کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی پارٹی او عوامی خدمات کویاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ پارٹی کے صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، سینئر لیڈران عبدالمجید متو، منظور احمد وانی، عبدالاحد ڈار اور غلام نبی بٹ نے بھی اس سانحہ ارتحال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
