دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی مسماری کا سلسلہ ’دن رات‘ جاری
بیروت، جنوبی لبنان کے فروان میں دھماکوں سے زمین لرز رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
56 سالہ حسن سعید رمضان جنوبی لبنان کی اس بلدیاتی حدود میں اپنے گھر پر موجود تھے جب انہوں نے دھماکوں کی آواز سنی۔انہوں نے قریب واقع قنطارہ پہاڑیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’زمین زلزلے کی طرح لرز اٹھی اور پہاڑ کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔‘‘
اسرائیلی فوج فروان کے بالکل جنوب میں موجود ہے اور جنوبی لبنان کے بڑے علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کی تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے باقاعدگی سے فوجی کارروائیاں اور دھماکے کرتا ہے۔
اس ہفتے قنطارہ پہاڑی سلسلے کے ساتھ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم دو مقامات پر پہاڑوں کا ایک نمایاں حصہ منہدم ہوگیا۔ فروان، غندوریہ، برج قلاویہ اور قلاویہ جیسے اسرائیلی زیر کنٹرول لبنانی علاقوں کی سرحد سے متصل دیہات کے مقامی باشندوں اور حکام نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ جنگی آوازیں—جنگی طیاروں اور ڈرونز کی آوازیں، اور سب سے بڑھ کر اسرائیلی مسماری کے دھماکے—مسلسل سنائی دیتے ہیں اور اکثر رات بھر انہیں سونے نہیں دیتے۔
رمضان سے گفتگو کے دوران دور سے ایک اور دھماکے کی آواز سنائی دی، جو بظاہر اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک مکان کو مسمار کرنے کا دھماکہ تھا۔ رمضان نے کہا، ’’دن رات۔ ہم انہیں دیکھتے بھی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اب یہ معمول بن چکا ہے۔‘‘
مارچ میں اسرائیل نے دو سال سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ لبنان پر حملہ کیا۔ اکتوبر 2024 میں ہونے والے پہلے حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے تقریباً مکمل انخلا کرلیا تھا، تاہم جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر فوجی اہلکار موجود رہے۔ دوسری بار حملے کے بعد اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ان کی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی، حالانکہ امریکی حکام یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ اسرائیل کو لبنان میں علاقائی عزائم نہیں ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے اطراف ان اہداف اور بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں وہ حزب اللہ سے متعلق قرار دیتی ہے۔
دریں اثنا، لبنانی حکومت امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں مصروف ہے، حالانکہ حزب اللہ اور اس کے اتحادی ان مذاکرات کی مخالفت کرتے ہیں اور جنگ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کے خاتمے کے لیے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے حامی ہیں۔
اسرائیل اور لبنان نے جون میں ایک ’’فریم ورک معاہدے‘‘ پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت ’’پائلٹ زون‘‘ منصوبہ شروع کیا گیا۔ ان پائلٹ زونز کو ایسے آزمائشی علاقوں کے طور پر استعمال کیا جانا ہے جہاں لبنانی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گی اور اسرائیلی فوج ان علاقوں سے انخلا کرے گی۔
پہلے پائلٹ زونز فروان، صریفا اور زوتر الغربیہ کے دیہات کو بنایا گیا تھا۔ تاہم مقامی لوگوں نے فروان اور صریفا کو اس منصوبے میں شامل کیے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ ان علاقوں پر اسرائیل نے کبھی قبضہ ہی نہیں کیا تھا۔
رمضان نے کہا، ’’اسرائیلی یہاں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے تھے۔‘‘
اسرائیل بھی مبینہ طور پر پائلٹ زون منصوبے پر تنقید کر رہا ہے اور تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ اسرائیل اس منصوبے کو آگے بڑھنے دینے پر آمادہ ہوگا۔
حزب اللہ پر کتاب لکھنے والے اور اٹلانٹک کونسل کے غیر مستقل سینئر فیلو نکولس بلانفورڈ نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا، ’’پائلٹ زونز اسی وقت مؤثر ہوسکتے ہیں جب مختلف فریقوں کی نیک نیتی شامل ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی کہہ چکے ہیں کہ وہ مزید انخلا نہیں کریں گے، اس لیے یہ عمل رک جاتا ہے۔‘‘
لبنانی حکومت اور فوج کی کوششوں کے باوجود حزب اللہ اور اسرائیل دونوں نے اس عمل کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے لبنان کے لیے سینئر تجزیہ کار ڈیوڈ ووڈ نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا، ’’حزب اللہ اس منصوبے کی مکمل مخالفت کرتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ لبنان کو اسرائیلی انخلا کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی خاطر ایران پر انحصار کرنا چاہیے۔ اسرائیل نے پائلٹ زون منصوبے کی محض رسمی حمایت کی ہے، لیکن حال ہی میں اس نے لبنانی علاقے پر اپنے قبضے کو کم کرنے کے بجائے مزید وسعت دی ہے۔‘‘
اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کے قریب واقع دیہات میں متعدد مکانات اور مقامی بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ دیہات تک جانے والی کئی سڑکوں کے کناروں پر کنکریٹ کا ملبہ اور گرد و غبار کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ جمعرات کو دن بھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے اور ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
ریاض/واشنگٹن، 11 ستمبر (یو این آئی) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دو مرتبہ فون کرکے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف فضائی حملے کرے، کیونکہ حوثی جنگجو اسٹریٹجک باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔ یہ بات دو امریکی عہدیداروں نے بتائی۔
تاہم، ٹرمپ نے یہ درخواست مسترد کردی اور امریکی عہدیداروں نے واضح کیا کہ واشنگٹن فی الحال حوثیوں کے خلاف براہ راست مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا، کیونکہ اس وقت اس کی توجہ ایران پر مرکوز ہے۔
ریاض کی اپیل ایسے وقت سامنے آئی جب یمن میں حوثی فورسز کے ایک اسٹریٹجک ساحلی شہر پر قبضے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت سے حوثی جنگجو باب المندب آبنائے کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں، جو عالمی تجارت اور سعودی تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے ذریعے عالمی جہاز رانی کو متاثر کرچکا ہے۔ دونوں آبی گزرگاہوں پر کنٹرول تہران کو واشنگٹن اور خلیج میں اس کے اتحادیوں کے خلاف زبردست دباؤ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔
جمعہ کی صبح اطلاعات تھیں کہ حوثیوں نے آبنائے میں واقع ایک اہم جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ سعودی عرب کی اہم مشرق-مغرب تیل پائپ لائن کے اوپر دھواں بھی دیکھے جانے کی اطلاع ملی، تاہم دھویں کے ماخذ کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا۔
امریکہ یمن میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کے اظہار اور ریاض کے لیے اپنی حمایت مضبوط کرنے کے باوجود سعودی عرب کی ایران نواز گروپ کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی براہ راست مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔
دو باخبر ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعرات کو فوری رابطہ کاری کے اجلاسوں کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ تاہم سعودی سفارتخانے اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ محاذ آرائی جولائی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب ریاض نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد اعلیٰ حوثی عہدیداروں کو لے جانے والے ایرانی طیارے کو صنعا میں اترنے سے روک دیا تھا۔
اس کے بعد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے لیے سیاسی حمایت طلب کی تھی اور واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کو براہ راست امریکی فوجی مدد درکار نہیں۔ ٹرمپ نے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔
حوثیوں نے اس کے جواب میں بحیرہ احمر میں سعودی ٹینکروں پر حملے کیے، جس سے مملکت کی تیل برآمدات کے ایک اہم راستے کو خطرہ لاحق ہوگیا، اور بعد میں اپنے حملوں کا دائرہ سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک بڑھا دیا۔
سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادیوں نے حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کا جواب دیا۔
براہ راست امریکی فوجی کارروائی کی تازہ درخواست جولائی کے مقابلے میں سعودی پالیسی میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جب ریاض نے واشنگٹن کو بتایا تھا کہ وہ امریکی فوجی مداخلت کے بغیر حوثیوں سے نمٹ سکتا ہے۔تاہم لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ سعودی عرب نے امریکہ سے مزید حمایت طلب کی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق امریکی فوجی اور سول عہدیداروں نے حالیہ ہفتوں میں اپنے سعودی ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کی ہدایت ہے کہ امریکی افواج ایران اور آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز رکھیں اور ایک اور محاذ کھولنے سے گریز کریں۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق جمعرات کو حوثی فورسز ساحلی شہر المخا کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز پسپائی اختیار کر رہی تھیں، اسی دوران محمد بن سلمان نے ٹرمپ کو فون کرکے بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کیا۔
کئی گھنٹے بعد انہوں نے دوبارہ فون کیا اور ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کا حکم دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر درخواست مسترد کردی، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب کو حوثیوں کے ٹھکانوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔
عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 200 امریکی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور وہ غیر جنگی نوعیت کی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کی ترجیح بحیرہ احمر کو کھلا رکھنا ہے، جبکہ وسیع تر تنازع سے نمٹنے کی ذمہ داری علاقائی شراکت داروں پر چھوڑ دی گئی ہے۔
عہدیدار نے کہا، ”امریکہ اپنے بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ہے، جبکہ ہم اپنے علاقائی شراکت داروں کو علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور انہیں حل کرنے میں قیادت کا کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنا رہے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہم علاقائی استحکام کے حوالے سے سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔“
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے ’اقتصادی آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت ایران سے منسلک ملیشیاؤں اور مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا لیا
واشنگٹن، امریکہ نے ایران سے منسلک کتائب حزب اللہ (کے ایچ)، لبنانی حزب اللہ اور دہشت گردی کی مالی معاونت، فوجی سازوسامان کی خریداری اور تہران کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کے الزام میں متعدد افراد اور کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کی گئی ہے۔ اس میں عراق، لبنان، متحدہ عرب امارات اور ترکی میں سرگرم ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے علاقائی اتحادی گروہوں کو مالی اور رسدی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان تھامس ’’ٹومی‘‘ پگٹ نے کہا کہ کتائب حزب اللہ اور حزب اللہ مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر ’’تشدد اور تخریبی سرگرمیوں‘‘ کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے تہران کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے ہیں، جس سے عراق، لبنان، امریکی اہلکاروں اور سفارتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی ترسیل کو خطرہ لاحق ہے۔
وزارت خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول (او ایف اے سی) نے کہا کہ تازہ اقدامات میں کتائب حزب اللہ اور حزب اللہ کی حمایت کرنے والے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایران سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک شخص کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا، ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ ان لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو ناکام ہوتے ایرانی نظام کے ساتھ اب بھی کھڑے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’چاہے وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کریں، رقم کو غیر قانونی طریقے سے منتقل کریں یا ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دیں، ہم انہیں تلاش کریں گے، امریکی مالیاتی نظام سے الگ کریں گے اور ان نیٹ ورکس کو ختم کریں گے جو اس نظام کو قائم رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔‘‘
امریکہ نے کہا کہ ان اقدامات سے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور-قدس فورس (آئی آر جی سی۔ کیو ایف) کا ایران نواز ملیشیاؤں کی حمایت اور اپنی سرگرمیوں کی مالی معاونت اور پابندیوں سے بچنے کے لیے تجارتی نیٹ ورکس کے استعمال میں کردار واضح ہوتا ہے۔
او ایف اے سی نے کتائب حزب اللہ کے چار کمانڈروں اور ارکان، علی حسن فرحان اللامی، حسین احمد حسین الضحیباوی، محمد امین فاضل علی الشیخلی اور کرار محمد قاسم الحریشاوی کو گروپ کی جانب سے کام کرنے کے الزام میں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت نامزد کیا ہے۔
واشنگٹن نے کہا کہ محکمہ خارجہ نے 2009 میں کتائب حزب اللہ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور اسےآئی آر جی سی۔ کیو ایف کی جانب سے تربیت، ہتھیار، مالی امداد، انٹیلی جنس اور رسدی تعاون حاصل رہا ہے۔
امریکہ نے کتائب حزب اللہ پر عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم سی ) اور اس کے انتظامی ادارے پاپولر موبلائزیشن کمیشن (پی ایم سی) میں نمایاں اثر و رسوخ رکھنے کا بھی الزام عائد کیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق کتائب حزب اللہ کے ارکان انٹیلی جنس، میزائل، اینٹی آرمر صلاحیتوں اور اسپیشل فورسز سمیت مختلف شعبوں کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
جاری ۔ ع ا۔
دنیا
اگر ریپبلیکنز کو ووٹ نہیں دیا تو جہنم مقدر ہوگا:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے پولنگ اسٹیشن جانے کا حلف لیا اور خبردار کیا کہ ڈیموکریٹس کی جیت ان کی انتظامیہ کے ایجنڈے کے لیے خطرہ بن جائے گی۔
گزشتہ رات ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں منعقدہ ریپبلکن مڈ ٹرم کنونشن کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے شرکاء سے کہا کہ وہ 3 نومبر کو یا قبل از وقت ووٹنگ کے عمل کے دوران ووٹ ڈالنے اور اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو بھی ساتھ لانے کے حلف کو دہرائیں۔
ڈیموکریٹس پر انتخابی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے ٹرمپ نے مجمعے سے حلف لیا: کہ”میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر سے وفاداری کا عہد کرتا ہوں… میں اپنے دوستوں، اپنے خاندان کو اپنے ساتھ لاؤں گا اور ہم 3 نومبر کو یا اس سے پہلے ووٹ دیں گے۔
حلف کے بعد ٹرمپ نے مزید کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ ووٹ نہیں دیں گے تو کیا ہوگا؟ آپ جہنم میں جائیں گے۔”
ٹرمپ نے ایک برسرِ اقتدار صدر کی پارٹی کے مڈ ٹرم انتخابات میں سیٹیں ہارنے کے تاریخی رجحان کو چیلنج کرتے ہوئے، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن کنٹرول کو برقرار رکھنے کا وعدہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہ لوگوں کی دولت ضبط کر لیں گے… ٹیکساس کے تیل اور گیس کو تباہ کر دیں گے اور مجرموں کو ڈکیتی، عصمت دری اور قتل کی وارداتیں کرنے کے لیے رہا کر دیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
