تازہ ترین
جہاں تنازعہ ، وہاںامریکہ
سمیرہ بی ریشی
اندھا ہونے کی سبب سے بدترین چیز یہ ہے کہ نظر ہونے کے باوجود بصارت نہیں ہے اور یہ شام کے 19ویں صدر بشارالاسد پر صادق آتا ہے۔ ماہر امراض چشم ہونے کے باوجود اسد اسی طرح اندھا ہے جس طرح اُلو، وہ اقتدار سے پرے کچھ نہیں دیکھ رہاہے۔ بشارالاسد کے دورِ اقتدار میں شام کا تنازعہ موجودہ وقت میں سب سے بڑا انسانی بحران بن گیا ہے۔ 8سالہ تنازعہ نے شام میں آبادی کی تباہی مچادی ہے۔ آثاریاتی شواہد کے مطابقکرہ ارض پر شامی تہذیب بہت پرانی تھی اور اسے لوینٹ (Levant)، جسے عربی میں الشام کہتے ہے،کے طور پر بھی جانا جاتا تھا لیکن یہ ماضی تھا۔ 2011سے شام نے تاریخ کی سب سے بدترین خانہ جنگی دیکھی ہے ، آج شام مکمل طور پر گڑبڑی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجہ میں5لاکھ لوگ مارے گئے جبکہ 1کروڑ سے بھی افراد ہجرت کرگئے، 1کروڑ 35لاکھ شام کے اندر امداد کے منتظر ہیں، جن میں 60لاکھ سے زائد افراد ملک میں ہی ہجرت کرچکے ہیں۔ قریب 50لاکھ لوگوںنے ہمسایہ ممالک میں پناہ کی درخواست کی ہے۔
ذبح خانوے کے پہلے شکار مشرق وسطی میں تھے، یورپ میں نہیں اور یورپ ان ظلم و جبرکا بہت سے طریقوں سے جڑا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ میں ہسپتالوں کے بستروں پرکی جانے والی بمباری کا اہلِ یورپ ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں ان کے Warlords اسد حکومت کی مذمت کرنے کیلئے اخباری بیان جاری کرتے ہیں۔ بشارا لاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے یورپ ناکام ہوا ہے ، سیاسی ماہروں کا ماننا ہے کہ اگر اہل مغرب نے وقت پر بشارالاسد پر دباﺅ ڈالا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب ملوسوچ سلبڈان کو 1995میں ڈیٹان سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا تاکہ بوزنیا میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل و غارت گری کا خاتمہ کرسکے تاہم یہ شام میں 8سال سے جاری وحشیانہ خانہ جنگی کو بند کرانے میں ناکام رہا۔ 
اسد حکومت کے حامی اور مخالفین، کرد ترکوں کی حمایت کرنے والے، شیعہ اسلام کے ماننے والے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے والے اورجن کا شیرازہ بکھرچکا ہے، وہ اپنی موجوددکھانے کیلئے ، ان سب کی وجہ سے شام میں تباہی مچ رہی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کی آمد اور ابو ظہبی میںپہلے ہندو مندر کے افتتاح کے سلسلہ میں خلیجی ممالک مصروف تھے اور پاکستان سپُر لیگ کے کرکٹ بخار میں سرابور تھے اور وہ مکمل طور پر مسلم دنیا میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے بے حس تھے۔ شام میں معصوم بچوں کی ہلاکت پاکستانی ذرائع ابلاغ کیلئے کوئی اہمیت نہیں تھی تاہم معروف اداکارہ سری دیوی کی وفات ان کیلئے سب سے برتر اہمیت تھی لیکن عرصہ دراز سے شام میں ہونی والی خون کی ہولی پر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔
8سال کا یہ مسلح تنازعہ مارچ 2011میںحکومت مخالف مظاہروں سے جنوبی شہر کے دیرا شہر میں اُس وقت شروع ہوا جب چند نوعمر لڑکوں نے سکول کی دیوار پر انقلابی نعرے تحریر کئے اور ان کی گرفتاری اور اذیت پہنچانے کے بعد وسیع پیمانے پر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا۔ یہ بے چینی ملک بھر میں شروع ہوئی اور اس حکومت سے مستعفی ہونے کی مانگ کی۔ حکومت کے فوجی طاقت کے استعمال سے مظاہرین کے حوصلے پختہ ہوگئے اور جولائی 2011سے ہزاروں لاکھوں لوگ ملک کی سڑکوں پر نکل گئے۔
2011سے ہوئی اموات پر دنیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا۔انکل سیم۔۔ امریکہ نے 2013میں ڈیل ہونے کا موقعہ اُس وقت گنوا دیا جب شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے بعد اس نے کوئی سرخ لکیر نہیں کھینچی اور امریکہ کی ہچکچاہٹ کے سبب شام نے بشارالاسد کی حکومت بچانے کیلئے فوجی کارروائی شروع کی۔
نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ بھی اسد حکومت پر دباو ڈالنے سے باز رہا تاہم فرانس 2013میںجنگی جہازوں کے استعمال کیلئے تیار تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ وہ اکیلا ہی رہ جائیگا۔شام 2011سے افراتفری اور تباہی میں ہے اور جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یورپ نے استحکام لانے کیلئے عہد کیا لیکن حالیہ برسوں میں بیرونی دنیا سے عدم استحکام اور افراتفری نے یورپ کو گھیر لیا ہے۔ یورپ نے ایک وقت میں کہا تھا کہ وہ ماضی کونہیںدہرائے گالیکن یہ وعدہ نبھانے میں وہ ناکام رہا۔ یورپ آج ایک خاموش تماشائی اور برا ملٹری ایکٹر ہے۔ اس کے برعکس فرانس اور برطانیہ مشرق وسطی کے سابق نوآبادیاتی طاقتیں ہیں اور وہ آج موجودہ وقت میں غیر اہم ہے،کسی فالج زدہ کی طرح وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے لیکن کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔
رقہ کی ہار کے بعد شام میں بحران گہرا گیا اور جنگ جیسی صورتحال میں تبدیل ہوگیا، یہ اب داخلی تنازعہ نہیں رہا، اس میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں ( روس، ایران، ترکی اور امریکہ) الجھ گئیں اور اگر کھلے طور نہیں تو درپردہ طور پر ، یہ بڑے کردار شام کی مدد نہیں کررہے ہیں بلکہ علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑرہے ہیں۔
چند ماہرین اس کا لبنان کے 15سالہ تنازعہ سے جوڑ رہے ہیں اور اور شام اس درپردہ جنگ کے مرکز میں کھڑا ہے۔
روس اور ایران جیسے سپانسر کی مداخلت کی وجہ سے نام نہاد اسلامک سٹیٹ (IS)بکھر گئی ہے ، صدر بشارالاسد ابھی بھی حکمران ہیں اوربا غیوں کوشکست دینے میں روس کامیاب ہوگیا اوربشارالاسد کو بچالیا۔ ترکی بھی اب میدان میں کود پڑا ہے اوراس نے کردش جنگجوﺅںسے لڑنے کیلئے افواج سرحد پر بھیج دیئے۔ حریف روس کو مارنے کیلئے امریکہ فاتح بن گیا اور ایران و اسرائیل کے درمیان دیرینہ تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ابھی شام کے بحران سے چھٹکارا نہیں ملا ہے۔
یہ تنازعہ ہر گزرتے دن اور 8برسوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے ، اندرونی تنازعہ نے شام کی ہر ایک انچ کو یرغمال بناکے رکھ دیا ہے ۔ شام میں جنگ کے شعلے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ کیوں کوئی چھٹکارا نہیں ؟ بے شک ، اس کا جواب خارجی کرداروں کے پاس ہے ، جن کا شام میں پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ صدر بشارالاسد کیخلاف اٹھنے والی مقامی شورش اب یہ جنگ اسد کے حامیوں اور مخالفین میں بدل گئی ہے۔ اب یہ فرقہ پرستی کے رنگوں میں ڈھل چکی ہے اوراکثریتی سنی فرقہ کوصدر کے شیعہ علوی فرقہ کے خلاف جبکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس تنازعہ کا حصہ بن گئیں۔ جہادی گروپ اسلامک سٹیٹ کے وجود میں آنے سے اس کے پہلو میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسلامک سٹیٹ کی شکست کے بعدشام کے مستقبل کے بارے میں بیرونی طاقتوں میںمزید دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔سابق امریکہ کے سیٹٹ سیکریٹری ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ کردش کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی فوج تب تک قیام پذیر رہینگی جب تک آئی ایس کا خطرہ موجود ہے اور جنگ کا کوئی حل نہیں نکل آتا۔
شام میں کرد کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی افواج کی موجودگی سے ناٹو کے اتحادی ترکی آگ بگولہ ہوگیا۔ پیپلز پروٹکشن یونٹس (YPG)جیسے گروپ امریکہ کے شریک کو ترکی دہشت گرد مانتی ہے جو شام میں کردش ملیشیا ہے ۔ جس وقت ٹلرسن نے شام کیلئے منصوبے کا اعلان کیا، ترکی نے شمال ۔ مغرب شام میں وائی پی جی کے زیر کنٹرول عفرین میں افواج بھیج کر حملہ کیا تاہم عفرین میں امریکی فوج موجود نہیں ہے ، ترکی نے دھمکی دی ہے کہ وہ منبج کی طرف مارچ کرے گا۔ امریکہ کے یہ کہنے سے کہ ملک کو ISسے پاک کرنے تک وہی رہے گا، اس پر روس آگ بگولہ ہوگیا جو عفرین میں ترکی کے حملہ کرنے کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اس طاقت کے کھیل میں شام میں حالات مزید دگرگوں ہوگئے ہیں۔
شام اب داخلی معاملہ نہیں رہا، آمرحکمران کیخلاف ایک اور عرب بہار شروع ہونے سے درپردہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا جس میں علاقائی اور عالمی طاقتیں نبردآزما ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا اثرورسوخ کو قائم کرے جبکہ اس تنازعہ کے ترکی، روس ، امریکہ اور ایران کردار ہیں۔
شام میں ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے اور لبنان کی درپردہ حزب اللہ کے ذریعہ ہتھیاروں کی ترسیل سے وہ اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہے۔ مشرق وسطی اب طاقت کے کھیل کا میدان جنگ بن چکا ہے۔ حزب اللہ ایران کا پشت پناہی والا ملی ٹنٹ گروپ ہے جو اسرائیلی قبضہ میں گولان پہاڑیوں کے قریب ہیں۔ ایران اور اسرائیل آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتے اور علاقہ میں ایران کے اثرورسوخ سے اسرائیل میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خارجہ کرداروں کے ذریعہ طاقت کا کھیل
شام میںمرکزی عناصر کی وجہ سے تنازعہ میں اضافہ ہوا ہے جو علاقائی اور عالمی طاقتوں کیلئے مداخلت کاسبب بن گیا ، جن میںایران، روس، سعودی عربیہ اور امریکہ قابل ذکر ہے۔حکومت اور حزب اختلاف کیلئے ان ممالک کی فوجی ، مالی اور سیاسی امداد سے جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور شام ایک درپردہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
جہادی گروپوں کی تقسیم اور ان کے فروغ کے سبب جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ ’حیات تحریر ال شام‘ جوالقاعدہ سے جڑا ’النصرت فرنٹ‘ کا اتحادی تھا، شمال مغربی کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول ہے ۔ متبرک شیعہ زیارتوں کی حفاظت کیلئے ہزاروں شیعہ ملیشیا ، جو ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن سے تعلق رکھتی ہیں ، وہ شام کی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑرہی ہیں۔
بھیس بدل کر ہر ایک ملک اپنے دشمنوں سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اور شام ایک آزاد میدان جنگ ہے۔ تنازعہ شروع ہوتے ہی ایران اسد حکومت کا زبردست حامی ہے اور اسے پیسوں، ہتھیاروں اور خفیہ اطلاعات کی فراہمی سے مدد کررہاہے۔ شام میں ایران کی مداخلت کو شیعیت کی حفاظت کرنے کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ ایران اسد کو حکومت میں برقرار رکھنے کے حق میں ہے تاکہ تہران شام کو لبنان میں حزب اللہ کی مدد جاری رکھ سکے۔ اسد کے حامیوں کی ایران سے اچھی بنتی ہے اور وہ سعودی عربیہ کے مقابلہ میں ایران کو علاقائی لیڈرشپ کے طرفدار ہیں۔حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے سے اسرائیل میں تشویش پائی جارہی ہے اور وہ اسے شام میں’مورچہ بندی‘ کہہ رہا ہے اور اس کا توڑ کرنے کیلئے اسرائیل نے درجنوں ہوائی حملے کئے۔
اکھاڑے کے میدان میں ایک اور کردار 2015میں روس بھی شامل ہوگیا اور اسد مخالف قوتوں سے چھٹکارا دلانے کیلئے مدد کی۔ مشرق وسطی میںروس اپنا اثرورسوخ رکھنے کیلئےاسد کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اوراس کے بدلے وہ مغربی صوبہ لٹاکیا میںاہم فوجی اڈہ اور بندرگاہ کے شہر ٹاٹرس میںبحری اڈے کو محفوظ رکھنے کا خواہاں ہیں ۔ ماسکو کا بڑا مقصد یہ ہے کہ مشرق وسطی میں روس کی ساخت کومضبوط کیاجائے۔
شام کے نزدیک ہونے سے سعودی عربیہ کے سیاسی نظام پر اثر پڑسکتا ہے ، سعودی عرب دنیا ویسا ہی جیسے باقی دنیا کیلئے امریکہ ۔۔مڈل ایسٹ انکل سام۔ یہ خاموش نہیں رہا بلکہ اس نے شامی حکومت کے مخالفین کو رقومات اور ہتھیار فراہم کئے اور امریکہ کی قیادت والی بین الاقوامی اتحاد کے حصہ رہا ہے۔
لوگوں کا یہ یقین ہے کہ موجودہ وقت میں مسلمانوں کا بچانے والا فقط ترکی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل خصوصی طور پر روہنگیائی مسلمانوں کی بودھوں کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم اور حالت زار اور اب معصوم شامیوں کیلئے ترکی نے یہ مسائل زورشور سے اٹھائے۔ ترکی باغیوں کا پُرجوش حامی رہا ہے تاہم ہمدرد ہونے کی آڑ میں وہ ’کردش پاپولر پروٹکشن یونٹس‘ (YPG) کیخلاف طاقت کا استعمال کیا جنہیں وہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ جب میدان جنگ میں چھوٹے کھلاڑی ہیں تو بڑے بھائی (امریکہ) کو یہ نہیں لگتا کہ وہ ہٹ جائیگا اور امریکہ خدا کی طرح قادر مطلق دکھنا چاہتا ہے۔
جہاں کہیں بھی تنازعہ ہوتا ہے ، وہاں امریکہ ہوگا۔ اس کا مرکزی مقصدشام میں ISکی تباہی اور دیگر سخت گیر گروپوں کا خاتمہ ہے۔ شامی حکومت کا مخالفین کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہٹ کر ٹرمپ انتظامیہ اسد حکومت کے متعلق مشکوک ہے۔ جب تک خارجی عناصر طاقت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، شام خون خرابے سے آزاد نہیں ہوگا۔
دنیا
ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل میں مصروف نہیں ہیں اور جب تک واشنگٹن انتظامیہ متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے عراقچی نے امریکہ کے ساتھ رابطوں اورآبنائے ہرمز کے حوالے سے بیان دیا۔
فریقین کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، “اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ کسی بات چیت میں نہیں ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر اسے مذاکرات کہنا درست نہیں۔”
عراقچی نے کہا کہ ثالث دوبارہ باہمی سمجھ بوجھ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے امریکہ کو متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا، “جب تک مفاہمت ِیادداشت کی خلاف ورزیاں ختم نہیں ہوتیں اور امریکہ نے متفقہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کیا، مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ممکن نہیں۔”
ہرمز کے سلسلے میں عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں عراقچی نے اعادہ کیا اس ملک کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔اس کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونی چاہئیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان5 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا12 minutes agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
