ہندوستان
سموتسری کے موقع پر وزیراعظم مودی نے درگزرکرنے ، ہمدردی اور خیر سگالی کی اپیل کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز سموتسری کے مقدس موقع پر لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انسانی رویے کی رہنمائی اور تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے درگزرکرنے ، ہمدردی ، عاجزی اور خیر سگالی پر زور دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں نریندر مودی نے کہا، “سموتسری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ درگزر اور ہمدردی ہر رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔”
اس موقع سے جڑی قدروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا، “اس مقدس موقع پر، عاجزی ہماری رہنمائی کرے اور مہربانی نیز خیر سگالی ہمارے ہر عمل کو سنوارے۔”
نریندر مودی نے روایتی جینی مبارکباد دیتے ہوئے کہا، “مِچھامی دُکڑم!”
جین برادری کی جانب سے پریوشن پرو کے اختتام کے طور پر منایا جانے والا سموتسری کا تہوار روحانی غور و فکر، ضبط نفس ، خود احتسابی اور معافی مانگنے کے لیے وقف ہے۔ اس موقع پر لوگ روایتی طور پر اپنے خیالات، الفاظ یا افعال کے ذریعے جانے یا انجانے میں پہنچنے والے کسی بھی دکھ یا نقصان کے لیے دوسروں سے معافی مانگتے ہیں۔
لفظ “مچھامی دکڑم” معافی کی ایک عاجزانہ درخواست کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور یہ مصالحت، شفقت، عدم تشدد نیز خود کو کینے اور ماضی کے گلے شکووں سے پاک صاف کرنے پر جین مذہب کے زور کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعظم مودی کے پیغام نے ان قدروں کی آفاقی اہمیت کو نمایا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عاجزی، مہربانی اور خیر سگالی سے مضبوط ذاتی تعلقات استوار کرنے اور معاشرے میں مزید آہنگی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
دفاعی شعبے میں ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کے لیے آسان ہوگی راہ
نئی دہلی، دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ نے دفاعی شعبے میں مائیکرو،ا سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے اسٹارٹ اپس کی شراکت کو بڑھانے کے لیے منگل کے روز متعدد نئی پہل قدمیوں کا آغاز کیا، جن کے تحت انہیں براہِ راست مالی امداد، تربیت اور تحقیقی تعاون کے ساتھ ساتھ دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی ٹیسٹنگ کی سہولیات تک خصوصی رسائی حاصل ہوگی۔
وزیردفاع نے پیر کے روز یہاں ڈی آر ڈی او-صنعت رابطہ اجلاس ‘وِمرش’ میں ان پہل قدمیوں کا افتتاح کیا۔
اس دوران ڈی آر ڈی او کی جانب سے تیار کردہ سافٹ ویئر کے سورس کوڈ کو لائسنس یافتہ صنعتوں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ایک محفوظ اور یکساں نظام بھی شروع کیا گیا۔
پروگرام میں 13 مینوفیکچرنگ پارٹنرز کو جدید ترین دفاعی نظام کی تجارتی پیداوار کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے نو لائسنس معاہدے سونپے گئے۔ ڈی آر ڈی او نے صنعتوں تک رسائی بڑھانے اور چھوٹی صنعتوں کی شراکت کو فروغ دینے کے لیے سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز اور لگھو ادیو بھارتی کے ساتھ حکمتِ عملی کے معاہدے بھی کیے۔
ڈی آر ڈی او نے گھریلو دفاعی کمپنیوں کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے کوالٹی کونسل آف انڈیا کے ساتھ ‘سسٹم فار ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ’ کے دوسرے ایڈیشن کے لیے معاہدہ کیا۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈی آر ڈی او اور صنعت کے درمیان تعاون صرف پیداوار تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تحقیق، ڈیزائن، ٹیسٹنگ، سرٹیفکیشن اور مینوفیکچرنگ تک پورے عمل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر ڈی او کے پاس علم اور ٹیکنالوجی، صنعت کے پاس پیداواری صلاحیت، اسٹارٹ اپس کے پاس جدت اور نوجوانوں کے پاس نئے ہندوستان کا خواب ہے۔ ان چاروں کی متحدہ طاقت سے کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047ء تک اہم ٹیکنالوجیز میں خودکفالت، ملک میں تیار کردہ سامان کے شیئر میں بڑا اضافہ، دفاعی برآمدات میں ملٹی فولڈ اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں ہندوستان کی مضبوط موجودگی حاصل کرنی ہوگی۔
وزیردفاع نے کہا کہ گزشتہ چند سال میں دفاعی شعبے میں متعدد بڑے اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں مثبت مقامی سطح پر تیاری کرنے کی فہرست، میک ان انڈیا، آئی ڈی ای ایکس اور ادتی جیسی پہل قدمیاں شامل ہیں۔ دفاعی تحقیق و ترقیاتی بجٹ کا 25 فیصد نجی شعبے کے لیے رکھنے کا فیصلہ بھی درآمدات پر انحصار گھٹانے اور خودکفالت بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای ہندوستان میں جدت کے نئے حاملین ہیں۔ انہیں بڑی کمپنیوں کے ساتھ دفاعی سپلائی چین کا لازمی حصہ بنانا ضروری ہے۔ نئی پہل قدمیوں میں صنعت پر مبنی تحقیق و ترقی، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای کو مالی امداد اور رہنمائی، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون نیز مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ہائپر سونکس اور ڈائریکٹڈ انرجی جیسی مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس جدت کو تیز کر سکتے ہیں اور ہندوستان کی تکنیکی و حکمتِ عملی کی صلاحیت کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ایم ایس ایم ای سے معیار، بروقت فراہمی، جدت اور عالمی معیاروں پر مسلسل توجہ دینے کو کہا۔
دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ نے کہا کہ ‘وارتا سے وکاس ‘ کے موضوع پر مبنی وِمرش-2026 کا مقصد نجی شعبے کی صلاحیتوں کو دفاعی نظام کے مرکز میں لانا ہے۔ اس کا ہدف خریدار- فروخت کنندگان کے تعلقات سے آگے بڑھ کر تعاون اور مشترکہ ترقی پر مبنی تکنیکی نظام تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 1,100 سے زائد صنعتوں کو 2,300 سے زیادہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی جا چکی ہیں۔ ڈی آر ڈی او کی جانب سے تیار کردہ تقریباً 50 میزائلوں سے جڑی ٹیکنالوجی بھی صنعتوں کے لیے دستیاب کرائی گئی ہے۔
پروگرام میں ‘ڈیفنس سسٹمز فار ریزیلیئنٹ بھارت-ایڈوانسنگ آتم نربھرتا ان ڈیفنس’ کتاب کا اجراء کیا گیا۔ اس میں 2014ء سے 2026ء کے درمیان ڈی آر ڈی او کے تکنیکی گروپس کے ذریعہ تیار کردہ اہم دفاعی نظاموں کا مجموعہ ہے۔ ڈی آر ڈی او میں انسانی وسائل کی بیرونی خدمات کے لیے معاہداتی رہنمائی کے خطوط بھی جاری کیے گئے۔
پروگرام میں ڈی آر ڈی او کے تکنیکی گروپس نے ایروناٹیکل سسٹمز، میزائلوں، اسلحہ، مائیکرو الیکٹرانکس اور نیول سسٹمز سے جڑے تکنیکی روڈ میپ پیش کیے۔ ڈی آر ڈی او ہیڈکوارٹر نے طریقہ کار کو آسان بنانے، سہولیات تک تیز تر رسائی اور لائسنسنگ کے عمل کے وقت کو کم کرنے سے متعلق پہل قدمیاں بھی پیش کیں۔
پروگرام میں دفاعی صنعت کے 250 سے زائد اہم نمائندوں، صنعتی تنظیموں کے نمائندوں، سینئر سویلین و ملٹری افسران اور ڈی آر ڈی او کے سینئر سائنسدانوں نے شرکت کی۔ شعبہ برائے فروغِ صنعت و اندرونی تجارت کے سکریٹری نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
یوپی آئی چارجز پر کانگریس نے خطرے کی گھنٹی بجائی، جے رام رمیش نے مودی حکومت پر فیس کا راستہ کھولنے کا الزام لگایا
نئی دہلی،کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے منگل کے روز نریندر مودی حکومت پر یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یوپی آئی) کے لین دین پر چارجز عائد کرنے کا راستہ کھولنے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترمیم شدہ پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ 2007ء کے تحت ایک حالیہ نوٹیفکیشن کے ذریعے 2,000 روپے سے زائد کی منتقلی پر فیس کے خلاف واضح قانونی تحفظ کو ختم کر دیا گیا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ اس صورتحال نے ان کی 6 اگست 2026ء کی اس تحریری انتباہ کو درست ثابت کر دیا ہے جس میں انہوں نے یوپی آئی لین دین پر فیس کا نظام لاگو کیے جانے کے امکان پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اس وقت اس معاملے پر مرکزی وزیرِ خزانہ نِرملا سیتارمن نے بھی اپنا ردِعمل دیا تھا۔
جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا، “جیسا کہ ہم نے 6 اگست 2026ء کو خبردار کیا تھا، جس پر خود وزیرِ خزانہ نے جواب دیا تھا، مودی حکومت اب پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرائے گئے نئے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے یوپی آئی پر چارجز لینے کا عمل شروع کر رہی ہے۔”
کانگریس لیڈر نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں بینکوں اور ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو صرف 2,000 روپے سے کم کی یوپی آئی منتقلی پر چارجز وصول کرنے سے روکا گیا ہے، لیکن اس حد سے زیادہ کے لین دین پر فیس نہ لگانے کی کوئی واضح قانونی پابندی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا، “اس حد سے اوپر کی کسی بھی رقم کی منتقلی کے لیے کوئی واضح قانونی تحفظ موجود نہیں ہے،” جس کے باعث زیادہ رقم کے یوپی آئی لین دین پر فیس عائد کرنے کا قانونی راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ 2,000 روپے کی اس حد کو بھی مستقبل میں کسی دوسرے نوٹیفکیشن کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے صارفین کو یہ مستقل قانونی ضمانت حاصل نہیں رہے گی کہ یوپی آئی ادائیگی ہمیشہ مفت رہے گی۔
انہوں نے کہا، “ہر کسی کے لیے یوپی آئی لین دین پر فیس ادا کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ کل کو ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے اس حد کو بھی بدلا جا سکتا ہے – اب قانون میں کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔”
جے رام رمیش نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ مستقبل کے چارجز کا دائرہ روزمرہ کے ایک شخص سے دوسرے شخص (پرسن ٹو پرسن) کی رقم کی منتقلی تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “جہاں تک ہم جانتے ہیں، حکومت روزمرہ کی آپسی منتقلی پر بھی چارج عائد کر سکتی ہے۔”
یوپی آئی ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن کر ابھرا ہے، جو موبائل ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فوری بینک ٹو بینک لین دین کو آسان بناتا ہے۔ اس نظام کی تیز رفتار توسیع کا بڑا سبب بلا معاوضہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی دستیابی رہی ہے، اور عام صارفین سے براہِ راست کوئی چارج نہیں لیا جاتا۔
اس تناظر میں جے رام رمیش نے حکومت پر ترمیم شدہ قانون کے اثرات پر شفافیت برتنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس قدم سے ملک کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “مودی حکومت نے ایک بار پھر ایمانداری اور شفافیت کے مکمل فقدان کا مظاہرہ کرتے ہوئے صارفین کا اعتماد توڑا ہے۔”
جے رام رمیش نے اس مسئلے کو وسیع جیو پولیٹیکل اور معاشی زاویہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت کا یہ رویہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہندوستانی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے سے جڑا ہوا ہے؟
حکومت مسلسل یوپی آئی کو ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ایک اہم ستون کے طور پر پیش کرتی رہی ہے اور ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اس کی توسیع کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔
تاہم جے رام رمیش کے اس حالیہ حملے نے یوپی آئی چارجز کو کنٹرول کرنے والے قانونی تحفظات پر روشنی ڈالی ہے اور اس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مستقبل کی لاگت، صارف کے تحفظ اور ہندوستانی ادائیگیوں کے نظام میں غیر ملکی شمولیت پر ایک وسیع سیاسی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ریلوے بورڈ کی ہدایت: تمام ہیلتھ یونٹس میں پینل میں شامل اسپتالوں کی فہرست آویزاں کی جائے گی
نئی دہلی، ریلوے سے مستفید ہونے والوں کے لیے اب ریفرل علاج سے جڑے پینل میں شامل اسپتالوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ ریلوے بورڈ نے تمام زونل ریلوے اور پروڈکشن یونٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اسپتالوں اور ہیلتھ یونٹس میں پینل میں شامل ہیلتھ آرگنائزیشنز کی جدید ترین فہرست کو نمایاں طور پر آویزاں کریں۔
یہ ہدایت ریلوے بورڈ کو موصول ہونے والی ان درخواستوں کے بعد جاری کی گئی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ ریلوے اسپتالوں اور ہیلتھ یونٹس میں آنے والے مریضوں کو اکثر متعلقہ ریلوے سے منسلک ہیلتھ کیئرآرگنائزیشنز (ایچ سی او) کی معلومات نہیں مل پاتی تھیں۔ بورڈ نے کہا کہ اس طرح کی معلومات نہ ہونے سے ریفرل خدمات کا فائدہ اٹھاتے وقت مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ہدایات کے مطابق تمام زونل ریلوے اور پروڈکشن یونٹس سے کہا گیا ہے کہ وہ ایمپینلڈ ہیلتھ آرگنائزیشنز کی اپ ڈیٹ شدہ فہرست نمائش کے لیے لگائیں۔ اس فہرست میں ان کی خصوصیات (اسپیشلائزیشن)، ایمپینلمنٹ کی مدتِ جواز، پتے اور رابطہ کی تفصیلات کا واضح ذکر ہونا چاہیے۔ یہ معلومات تمام ریلوے اسپتالوں اور ہیلتھ یونٹس میں ایسی اہم جگہوں پر لگائی جانی چاہئیں جہاں آنے والوں کی نظر آسانی سے پڑے اور وہ اسے آسانی سے پڑھ سکیں۔ بورڈ نے ریلوے ڈویژنز اور زونز کی ویب سائٹس پر پہلے سے موجود ہیلتھ آرگنائزیشنز کی فہرستوں کو بھی وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں ان کے الحاق کی درستگی کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا1 week agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا1 week agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
دنیا1 week agoتہران اقتصادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، یہ امریکی حملوں کا “دردناک” جواب دے گا:قالیباف
-
جموں و کشمیر3 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
-
دنیا1 week agoمیامی میں کارگو طیارے کے رنوے سے اترنے سے پانچ افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoبرطانوی حکام نے انگلش چینل میں 140 تارکینِ وطن کو لے جانے والی کشتی کو روک لیا
-
ہندوستان1 week agoگونڈہ میں سڑک حادثہ میں دو طلبہ کی موت
-
جموں و کشمیر3 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
دنیا3 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
