دنیا
آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران تیل کا ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا
تہران، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں کی زد میں آ جانے کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آرجی سی) نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
آئی آر جی سی نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا، “سپر ٹینکر ‘ایل گئیا’ جنوبی آبنائے ہرمز کے ایک ممنوعہ علاقے سے گزرنے والا تھا کہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے کا شکار ہو گیا۔ آگ بجھانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔”
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے آئی آر جی سی کے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ماہ ایران کی جانب سے داغی گئی ایک میزائل سے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا تھا جس سے وہ ناکارہ ہو گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے کے اختتام پر، جب جہاز عمان کے ساحل کے قریب تھا، تو ایران نے مبینہ طور پر ڈرون سے اس پر دوبارہ حملہ کیا۔
سینٹ کام نے ‘ایکس’ پر لکھا، “فی الحال ایک علاقائی اتحادی ملک ٹینکر کو کھینچ کرلے جا رہا ہے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں قائم ٹھکانوں پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی حملے کیے گئے۔ جون کے وسط میں ایران اور امریکہ نے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم بعد میں ان کے درمیان دوبارہ حملے شروع ہو گئے۔ فی الحال یہ تنازع حل نہیں ہوا ہے۔
تنازع میں شدت آنے کی وجہ سے آبنائےہرمز کے ذریعے ہونے والی بحری جہازوں کی نقل و حرکت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ راستہ تیل، پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی عالمی منڈی کے لیے ایک انتہائی اہم سپلائی روٹ ہے۔ نتیجے کے طور پر، دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
چین کے وزیر دفاع کا جبر کے خلاف انتباہ، امریکہ اور جاپان کا ذکر نہیں کیا
بیجنگ، چین کے وزیر دفاع ڈونگ جون نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنا چاہیے اور رجعت پسند تاریخی رجحانات کی دوبارہ واپسی کو روکنا چاہیے۔
ڈونگ نے بدھ کو 13ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کا افتتاح کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ ان کے تبصرے کو بالواسطہ طور پر جاپان پر تنقید سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی وسیع تقریر میں بین الاقوامی کشیدگی کے حل کے لیے ایک نئے اور زیادہ جامع طریقۂ کار پر زور دیا، تاہم اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں اور نہ ہی کسی حریف ملک پر براہ راست تنقید کی۔
ڈونگ نے کہا، ’’ہمیں تاریخ کے اسباق کو مدنظر رکھنا چاہیے اور بالادستی، عسکریت پسندی اور تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے تمام پوشیدہ مظاہر کے خلاف انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں ایسے رویے سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں اور نہ ہی اسے برداشت کرنا چاہیے۔ انصاف کی وسیع قوتوں کو متحد کرتے ہوئے ہمیں تاریخ کے ان باقیات کی دوبارہ واپسی کو روکنا چاہیے۔‘‘
یہ فورم تائیوان اور متنازع جنوبی بحیرۂ چین کے حوالے سے علاقائی کشیدگی میں اضافے اور ایشیا کے لیے امریکہ کے روایتی سلامتی وعدوں کے بارے میں بڑھتے شکوک کے درمیان منعقد ہو رہا ہے۔یہ اجلاس ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ کے آئندہ ہفتے واشنگٹن کے متوقع دورے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔
ڈونگ کی تقریر ان تبصروں کا تسلسل تھی جو انہوں نے فورم سے قبل غیر ملکی مہمانوں سے ملاقاتوں کے دوران کیے تھے۔ انہوں نے میانمار، برونائی، بیلاروس، آذربائیجان، کرغزستان اور آرمینیا کے دفاعی حکام کے علاوہ آسیان کے سیکریٹری جنرل کاؤ کم ہورن سے الگ الگ ملاقاتوں میں فوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ سلامتی کا تصور پیش کیا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بیجنگ نے شیانگ شان فورم کو فوجی سفارت کاری کے اپنے اہم پلیٹ فارم کے طور پر احتیاط سے فروغ دیا ہے اور اسے سنگاپور کے شانگری لا ڈائیلاگ کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ درجنوں ممالک کے سیکڑوں فوجی افسران، سفارت کاروں اور ماہرین تعلیم کو یکجا کرنے والا یہ تین روزہ اجلاس چین کو کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ اور عالمی جنوب کے لیے زیادہ مؤثر آواز کی حمایت کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کی پیش گوئی کے مطابق ڈونگ نے امریکہ یا اس کے علاقائی اتحادیوں، بشمول جاپان، پر براہ راست تنقید نہیں کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
جدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے حوثی گروپ کی طرف سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے کے خلاف کیے گئے گھناؤنے حملوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے خلاف جاری جارحیت کی مذمت کی ہے۔ یہ حملے معصوم شہریوں میں خوف پیدا کرتے ہیں، مقدس مقامات اور مساجد کے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں۔جنرل سیکرٹریٹ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کی طرف سے مقدس مقامات، مساجد اور شہری انفراسٹرکچر کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں دہشت گردی ہیں جو اسلامی اقدار اور بین الاقوامی اصولوں، اصولوں اور قانون کے خلاف ہیں۔
اس میں زور دیا گیا ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی ایک ناقابل قبول اور ناقابل برداشت خلاف ورزی ہے جس کے لیے مجرموں کو روکنے اور ان مقامات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کا راستہ روکنے کی ضرورت ہے۔
جنرل سیکرٹریٹ سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور جارحین کو روکنے، مقدس مقامات کے تقدس اور مسلمانوں کی جانوں کے تحفظ اور اس کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مملکت کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
غزہ میں عمارت منہدم، کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق، متعدد ملبے تلے دبے
غزہ، مغربی غزہ سٹی میں رات کے وقت ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق ہوگئے، جبکہ چھ خاندانوں کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔
مقامی عینی شاہدین اور صحافیوں کے مطابق ملبے کے نیچے متعدد افراد کے پھنسے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
غزہ کی شہری دفاعی ٹیم نے بدھ کو بتایا کہ واقعے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں پانچ بچے شامل ہیں۔ الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے کم عمر بچوں کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ مقامی افراد بھی ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں امدادی ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین اور تصدیق شدہ ویڈیو کے مطابق کنکریٹ کے ملبے تلے بچوں کی مدد کے لیے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جبکہ شہری دفاع کے اہلکار ملبے میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک اور ویڈیو میں ایک کم عمر بچی کو ملبے سے زندہ نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ متعدد دیگر افراد، جن میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے، ملبے سے نکلنے کے بعد سانس لینے میں دشواری کا شکار دکھائی دیے اور انہیں ایمبولینسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس عمارت کو اس سے قبل اسرائیلی بمباری میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس میں دراڑیں پڑ گئی تھیں اور عمارت کا ڈھانچہ کمزور ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ منہدم ہوگئی۔
جنگ کے دوران غزہ بھر میں ہزاروں مکانات اور اپارٹمنٹ عمارتیں تباہ یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں، جو اب رہائش کے قابل نہیں اور اچانک منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی سامان کی غزہ میں آمد پر پابندیاں عائد کیے جانے کے باعث بہت سے فلسطینی عارضی پناہ گاہوں اور جنگ کے دوران بمباری سے متاثرہ نیم تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
امدادی کارروائیوں کے لیے شہری دفاعی ٹیموں کو درکار بھاری مشینری کی کمی نے بھی ملبہ ہٹانے اور لوگوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے کام کو مشکل بنا دیا ہے۔
اس کمی کے باعث ایسے حادثات میں امدادی کارکن بڑی حد تک دستی مشقت پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے اور انہیں بچانے میں مزید وقت لگ رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا1 week agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
جموں و کشمیر4 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
جموں و کشمیر4 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
-
دنیا4 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
تجزیہ7 days agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
کھیل1 week agoایشیائی جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ: ہندوستان نے جنوبی کوریا کو 7-3 سے شکست دی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
دنیا5 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر6 days agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
