تازہ ترین
منوج سنہا نے جموں کشمیر کے دوسرے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے کا حلف لیا
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/297160548208979/?t=2
’کشمیر بھارت کی جنت،ہمارا کوئی مخصوص ایجنڈا نہیں‘
آئینی اختیارات کا استعمال لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے ہوگا،کسی کیساتھ بھید بھاؤ نہیں ہوگا‘
جموں وکشمیر میں امن،ترقی،عوام کا اعتماد بحال کرناپہلی ترجیح، ملی ٹینسی کا خاتمہ ہدف اورمشن‘:نومنتخب لیفٹیننٹ گور نر
خبراردو:-
سرینگر:کشمیر کو بھارت کی جنت قرار دیتے ہوئے جموں وکشمیر کے دوسرے اور نو منتخب لیفٹیننٹ گورنر منسوج سنہا نے کہا ہے کہ 5اگست جموں وکشمیر کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے جبکہ برسوں تک الگ تھلگ رہنے کے بعد اب جموں وکشمیر قومی دھارے میں شامل ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ آئینی اختیارات کا استعمال جموں وکشمیر کی ترقی،خوشحالی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کیا جائیگا جبکہ جموں وکشمیر میں ہمہ جہت ترقی اور ملی ٹینسی کا خاتمہ اُن کا ہدف اور مشن ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق نو منتخب لیفٹیننٹ گورنر نے جمعے کے روز راج بھون سرینگر میں اپنی حلف برداری کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’کشمیر بھارت کی جنت ہے‘۔انہوں نے 5اگست کو جموں وکشمیر کی تاریخ کا اہم ترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن جموں وکشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جائیگا۔منوج سنہا نے کہا کہ جموں وکشمیر برسوں تک الگ تھلگ رہنے کے بعد قومی دھارے (مین اسٹریم) میں شامل ہوگیا ہے۔ان کا کہناتھا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران جموں وکشمیر میں ترقیاتی کام بہت سارے ہوئے،جو لمبے عرصے میں نہیں کئے گئے لیکن گزشتہ ایک برس میں ہوئے۔
ان کا کہناتھا ’مجھے نئی ذمہ داری ملی ہے اور میں اپنی ذمہ داری کو نبھا نے کیلئے پُر عزم ہوں،یہاں گزشتہ ایک برس میں کئی کام شروع کئے گئے،میری پہلی ترجیح ہے کہ میں اس کام کو اورتیز رفتاری کیساتھ آگے لیجا ؤں‘۔ان کا کہناتھا ’میری دوسری ترجیح جموں وکشمیر کے عام لوگوں کیساتھ جمہوری رابطہ قائم کرنا ہے،ان کااندر نیا اعتماد پیدا کرنا ہے‘۔منوج سنہا نے کہا ’میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہما را کوئی مخصوص ایجنڈا نہیں ہوگا،کسی کیساتھ بھید بھاؤ نہیں ہوگا،ہم جمہوریت کی روح سے عام لوگوں کا اعتماد بحال کریں گے،لوگوں سے براہ راست رابطہ قائم کریں گے‘۔
ان کا کہناتھا ’میں یہاں کے عوام کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اُنکے جائز مطالبات اور اُنکی جائز شکایات کا سنا جائیگا اور اُن کا حل ترجیحی بنیادوں نکالا جائیگا۔ نو منتخب لیفٹیننٹ گورنر منسوج سنہا نے کہا کہ آئین ہمار ے لئے گیتا کا کام کرے گی اور آئینی اختیارات کا استعمال جموں وکشمیر کے لوگوں کی فلاح وبہبود،ترقی اور امن کیلئے کیا جائیگا۔ان کا کہناتھا کہ آئینی اختیارات کا صحیح سمیت استعمال کیا جائیگا۔انہوں نے کہا’میں جموں وکشمیر کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ا’نکے جائز شکایات ہوں گی اُنہیں یقینی طور سنا جائیگا اور حل تلاش کیا جائیگا،عوام سے سیدھا رابطہ کیسے ہو آنے والے دنوں میں یہ عمل بھی شروع کیا جائیگا‘۔
ان کا کہناتھا ’جموں وکشمیر میں امن وامان ہو،افراتفری کا ماحول ختم ہو،شدت پسندی یہاں سے ختم ہو اور لوگ امن کی فضا میں زندگی گزار ے یہی ہماری ہدف اور مشن ہے،اس پر ہم پوری طرح سے کام کریں گے‘۔ اس سے قبل سابق مرکزی وزیرمنوج سنہا نے جمعہ کو جموں کشمیر کے نئے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے کا حلف لیا۔وہ مرکز ی زیر انتظام علاقے کے پہلے سیاسی لیفٹیننٹ گورنر ہیں۔ لوگوں کے ساتھ جْڑے رہنے کیلئے مشہور61سالہ سنہا کو جموں کشمیر کی چیف جسٹس گیتا متل نے راج بھون سرینگر میں ایک سادہ تقریب کے دوران عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔راج بھون سری نگر کے خوبصورت لانز میں منعقد ہونے والی تقریب حلف برداری میں سول، پولیس اور فوج کے کچھ سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔
تاہم کورونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر حلف برداری کی یہ تقریب سادگی سے ہی منعقد کی گئی۔ اس میں بعض چنندہ میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔اس موقع پر راج بھون کے اندر و باہر اور اس کی طرف جانے والی سڑکوں پر سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے تھے۔واضح رہے کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند نے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رہنما و سابق مرکزی وزیر منوج سنہا کو جمعرات کے روز جموں وکشمیر کا نیا لیفٹیننٹ گور نر مقرر کیا۔قبل ازیں صدر جمہوریہ نے جموں و کشمیرکے پہلے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو کا استعفیٰ منظور کیا جس کے بعد انہیں کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) تعینات کیا گیا۔ایک رپورٹ کے مطابق منوج سنہا کی لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے تقرری کے بعد انہوں نے بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیا جس کی تصدیق پارٹی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا نے کی ہے۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
