جموں و کشمیر
وزیرا علیٰ کی عوامی رابطہ مہم : سانبہ میں عوامی شکایتوں کے ازالے کا کیمپ منعقد
سانبہ//وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ضلع سانبہ کا دورہ کیا اور وہاں عوامی شکایتوں کے ازالے کے کیمپ کا انعقاد کیا۔ کیمپ کے دوران وزیرا علیٰ نے درجنوں وفود اور سینکڑوں لوگوں کے مسائل بغور سنے جن میں ترقیاتی ضروریات سرفہرست تھیں۔ صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا، وائس چیئرمین او بی سی بورڈ ریشپال ورما، ارکان قانون سازیہ دویند ر منیال اور کلدیپ راج اس موقعہ پر موجود تھے۔وفود نے عمومی طور پر لوگوں تک پہنچنے ، ان کی ترقیاتی ضرورتوں کو سمجھنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ لوگوں نے سانبہ اور وجے پور میں فلائی اوور کی تعمیر ، ضلع میں ایک زنانہ کالج کا قیام ،ایس سی / ایس ٹی لوگوں کی بہبودی کے لئے رقومات کی واگزاری ،صنعتوں کے قیام سے پیدا شدہ آلودگی کو روکنے ،سرحدی لوگوں کے لئے روزگار مہم شروع کرنے، ریلوے لائن پر اوور ہیڈ برج کی تعمیر اور ضلع ہسپتال کو مزید مستحکم بنانے کے مطالبات پیش کئے ۔بار ایسو سی ایشن کے ممبران کی ایک وفد نے وکلاء کے لئے مزید چیمبروں کی تعمیر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت کا قیام،مزید عدالتوں کو قائم کرنے جگہ اور بار لائبریری کو اَپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے قصبے میں ایک آڈیٹوریم کی تعمیر اور لکھن پور ۔ وجے پور قومی شاہراہ پر فلائی اوور تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بار لائبریری کو اَپ گریڈکرنے کے لئے 10لاکھ روپے کی رقم واگزار کی ۔انہوں نے قصبے میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لئے امکانات تلاش کرنے کے بھی ہدایات دیں۔امر کھشٹریا راجپوت سبھا کے ایک وفد نے سانبہ قلعے کی مرمت کرنے ، مقامی ضلع ہسپتال کے استحکام اور نئے بس سٹینڈ کو چالو کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے سانبہ فورٹ میں ڈسٹرکٹ لائبریری کی اَپ گریڈیشن اور فورٹ میں دیگر تجدید و مرمت کے کام انجام دینے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزار ی کا اعلان کیا۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفود نے وجے پور میںایمز پر جاری تعمیراتی کام میں سرعت لانے ، قصبے اور کنڈی بیلٹ میں پینے کے پانی کی فراہمی ،ریلوے لائن پر اوور برج تعمیر کرنے ،مرحلہ اول اور مرحلہ دوم کے تحت سڑکوں کی تعمیر،مقامی ہسپتال کو سہولیات میں اضافہ کرنے اور مقامی ہائیر سکینڈری سکول کے لئے جگہ میں وسعت دینے کا مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے مقامی ہائیر سکینڈری سکول کو اضافی اقامتی سہولیات کے لئے 50لاکھ روپے کی رقم واگزار کی۔انہوں نے ضلع میں ٹرانسفارمر بفر کے قیام کے لئے 25لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر سانبہ کو ہدایت دی کہ وہ ریلوے لائن پر کراسنگس کی ایک فہرست پیش کریںجہاں جہاں اوور برجو ں کو تعمیر کرنے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے ضلع ہسپتال میں ایکسرے سہولیات میں بہتری لانے کے لئے 15لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔اوقاف اسلامیہ سانبہ کے ایک وفد نے آئی ٹی کالج کے لئے عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا جس کے لئے اسماعیل پور میں زمین کی نشاندگی کی گئی ہے ۔انہوں نے چھنی مناسہ میں 38کنال وقف اراضی پر ایک واٹر پارک تعمیر کرنے کی تجویز بھی رکھی۔انہوں نے رام گڈھ میں وقف اراضی پر بینکٹ ہال /شاپنگ کمپلیکس تعمیرکرنے کا بھی مطالبہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے اسماعیل پور میں آئی ٹی کالج کی تعمیر شروع کرنے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزاری کی ہدایت دی۔کسانوں کے ایک وفد نے 2014ء کے سیلاب کی وجہ سے سوئیل پولیوشن سے اراضی کو ہوئے نقصان اور فصل کے نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے فارمنگ کمیونٹی کے لئے انشورنس کور اور علاقے میں آرگینک فارمنگ کو متعارف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ رام گڈھ علاقے کے ایک وفد نے کسان کریڈٹ کارڈ سکیم کے تحت قرضہ جات کو معاف کرنے اور پکھڑی گائوں میں بجلی کی تقسیم کاری کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چک ناکہ سے پکھڑی تک سڑک تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے کیم اور دیگر ملحقہ دیہات کے بجلی کے تقسیمی نظام میں بہتری لانے کے لئے 40لاکھ روپے کی واگزاری کی ہدایت دی ۔انہوںنے پکھڑی علاقے میں بجلی کی تقسیم کاری کے نیٹ کو بحال کرنے کے لئے 25لاکھ روپے اور نڈ میں ایک ریسونگ سٹیشن کے قیام کے لئے 50لاکھ روپے واگزار کرنے کی ہدایت دی۔چھمب کے ایک وفد نے آرمی کے قبضے میں اراضی کے کرایہ کی ادائیگی اور معاوضے میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کے باشندگان کے لئے ایک خصوصی بھرتی مہم چلانے کے علاوہ سرحد ی علاقے کے لوگوں کو دیگر سہولیت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اتر بانی ، پرمنڈل ،چملیال ، بیملا ، کھارہ ،کٹیاں ، گگوال ، مانسر و دیگر علاقوں کے وفود بھی وزیراعلیٰ سے ملے اور اپنے مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوںنے وزیر اعلیٰ کو عوام تک پہنچنے اور ان کے مطالبات بغور سننے کی سراہنا کی۔وزیر اعلیٰ نے دن بھر تمام وفود کے مطالبات بغور سنے اور یہ سلسلہ شام تک جاری رہا۔ کئی معاملات میں وزیر اعلیٰ نے موقعہ پر ہی مسائل کے حل نکالنے کی ہدایت دی جس کی وفود نے بہت ستائش کی ہے ۔وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل، ڈویژنل کمشنر جموںڈاکٹر ایم کے بھنڈاری ، آئی جی پی جموں زون ڈاکٹر ایس ڈی ایس جموال ،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ اور پلاننگ محکمہ کے سینئر افسران ، کئی محکموںکے سربراہان ، انجینئرنگ ونگوں کے چیف ، ڈی آئی جی ، ایس کے آررفیق الحسن ،ڈپٹی کمشنر سانبہ شیتل نندا، ایس ایس پی اور ضلع انتظامیہ کے افسران اس موقعہ پرموجود تھے۔جموں صوبہ میں وزیر اعلیٰ کا یہ دوسرا عوام تک پہنچنے کا پروگرام تھا ۔ اس سے قبل انہوں نے رام بن میں ایسے ہی ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ عوامی حلقوں میں ان پروگراموں کی کافی سراہنا کی جارہی ہے جن میں لوگوں کے مسائل عمومی طور پر موقعہ پر ہی حل کئے جاتے ہیں۔ابھی تک محبوبہ مفتی نے ایسے پروگرام پلوامہ ، کپواڑہ ، بڈگام اور بارہمولہ میںمنعقد کئے جن میں سینکڑوں لوگوں نے اپنے مطالبات کی فہرست وزیر اعلیٰ کو پیش کیںاور ان کا ازالہ بھی کیا گیا ۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان10 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا12 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
