تازہ ترین
وزیر داخلہ کی سر برا ہی میں ریاستی سیکورٹی صورتحال سے متعلق اہم میٹنگ منعقد
خبراردو :
مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک غیر معمولی میٹنگ کے دوران ریاست جموں وکشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کاباریک بینی سے جائزہ لیا جس دوران انہوں نے ریاست میں تعینات سیکورٹی فورسز کی جانب سے اندرون و بیرون خطرات سے نمٹنے پر ان کے رول کی سراہنا کی۔۔ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام نے وزیر داخلہ کو ریاست جموں وکشمیر کی سیکورٹی صورتحال سے واقفیت دلائی۔ اس دوران وزیر داخلہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف ریاست میں امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں بحالی امن کے لیے مرکزی سرکار ہمیشہ فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ نے امن و قانون کی صورتحال کو قائم رکھنے، جنگجوئیت سے نمٹنے اور لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے پر فوج، سی آر پی ایف، پولیس اور بی ایس ایف کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے میٹنگ کے دوران سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ موسم سرما شروع ہوچکا ہے لہٰذا لائن آف کنٹرول پر مزید چوکسی برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سیکورٹی حکام پر زور دیا کہ وہ سرحدوں پر کڑی نگاہ رکھ کر دراندازی کی تمام کوششوں کو ناکام بنائیں کیوں کہ سرما کے دوران قوی امکان ہے کہ سرحد پار بیٹھے امن دشمن عناصر دراندازی کرکے اس پار داخل ہونے کی کوششیں کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سرحد پار بیٹھے لوگ وادی میں جنگجوؤں کو دھکیلنے کے لیے بڑے پیمانے پر دراندازی کا سہارا لیں گے لہٰذا ایسے میں لائن آف کنٹرول اور بین االاقوامی سرحد پر انتہائی چوکسی برتنے کی ضرورت ہے۔اس موقعے پر محکمہ وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام اور سیکورٹی ایجنسیوں نے وزیر داخلہ کو سرحدوں پر دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اٹھائے جارہے اقدامات کی مفصل جانکاری دی۔
انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے حوالے سے کئی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا گیا کہ وہ انتخابی عمل کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے لیے ہمہ وقت انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کریں اور امن دشمن عناصر پر کڑی نگاہ رکھیں۔انہوں نے میٹنگ کے دوران ریاستی حکومت کے عہدایداروں اور سیکورٹی حکام پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے معقول سیکورٹی فراہم کریں تاکہ زمینی سطح پر کسی بھی طور کوئی خلا محسوس نہ ہو۔پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے رول کی سراہنا کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے میٹنگ کے دوران بتایا کہ اگر چہ وادی میں سیکورٹی صورتحال انتہائی مخدوش ہیں تاہم جس طرح امن کو بحال کرنے میں ریاستی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے بلند ہمتی کا مظاہرہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ نے پولیس اور سیول انتطامیہ کے مابین بہتر تال میل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف کڑی کارروائی کرنے کے لیے باہمی تال میل کی از بس ضرورت ہے تاکہ کسی بھی عنصر کو حالات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقعہ نہ مل پائے۔KNS
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا21 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا18 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر19 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا3 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر19 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
