اہم خبریں
ٹوجی گھوٹالہ ثابت نہیں،سبھی ملزمین بری
نئی دہلی، 21 دسمبر (یو این آئی)سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد(یو پی اے) حکومت کو ہلاکر رکھ دینے میں اہم رول ادا کرنے والے ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کے ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھپلہ میں سابق ٹیلی کوم وزیر اے راجہ، ڈی ایم کے کی رکن پارلیمنٹ کنی موزی سمیت تمام 19ملزمین کو آج سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بری کردیا۔پٹیالہ ہاوس واقع سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے اس اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کسی بھی الزام کو ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ’استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ دو فریق کے درمیان پیسے کا لین دین ہواہے۔ اس لئے تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔‘سال 2010 میں کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں اس گھپلہ کو ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے دکھایا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اپنے الزام میں اسے تقریباَ 31ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ بتایا تھا۔الزامات سے بری ہونے والوں میں مسٹر راجہ اور محترمہ کنی موزی کے علاوہ اس وقت کے ٹیلی کوم سکریٹری سدھارتھ بیہورا، راجہ کے اس وقت کے پرائیوٹ سکریٹری آے کے چندولیا، سوان ٹیلی کوم کے پروموٹر شاہد عثمان بلوا اور ونود گوئنکا، یونیٹیک لمیٹیڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر سنجے چندرا ، ریلائنس انل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے تین اعلی افسران سریندر پپرا، گوتم دوشی او رہری نائر ، کوسیگاوں فوڈس اینڈ ویجی ٹیبل پرائیوٹ لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر آصف بلوا اور راجیو اگروال، کلائنگر ٹی وی کے ڈائریکٹر شرد کمار اور فلم ساز کریم مورانی شامل ہیں۔ان کے علاوہ سوان ٹیلی کوم پرائیوٹ لمیٹیڈ ، یونیٹیک وائرلیس تمل ناڈو اور ریلائنس ٹیلی کوم لمیٹیڈ بھی اس معاملے میں ملزم تھے جنہیں بری کیا گیا ہے۔سی بی آئی نے مسٹر سینی کے سامنے ود گیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک کیس دائر کیا تھا۔سی بی آئی کے پہلے کیس میں راجہ اور کنی موزی کو اہم ملزم بنایا گیا تھا۔فیصلہ سنائے جانے سے پہلے عدالت کے احاطے میں زبردست بھیڑکی وجہ سے ملزمین عدالت نہیں پہونچ پائے تھے، اس کی وجہ سے کارروائی کچھ دیر کے لئے موخر کردی گئی۔ دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو انہوں نے ایک سطر کے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری وکیل الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران کنی موزی او راے راجہ کے حامی بھی عدالت کے کمرے میں موجود تھے۔ فیصلہ آتے ہی عدالت میں تالیاں بجنے لگیں۔ خیال رہے کہ ای ڈی نے اپنے چارج شیٹ میں ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی کی اہلیہ دیالو امل کو بھی ملزم بنایا تھا۔ اپنے عبوری رپورٹ میں ای ڈی نے دس افراد اور نو کمپنیوں کو منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ملزم بنایا تھا۔2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے تحت 2010 سے پہلے ”پہلے آو¿ پہلے پاو¿“ کے تحت الاٹمنٹ کیا جاتا تھا۔اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اس طریقے کار کو رد کرنے کے ساتھ ہی کئی الاٹمنٹ لائسنس مسترد کردئے گئے تھے۔بعد میں الاٹمنٹ نیلامی کے ذریعہ کیا جانے لگا تھا۔2014 میں عام انتخابات میں 2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ بڑا انتخابی موضوع بنا تھا۔فیصلے کے بعداپنے پہلے ردعمل میں کنی موزی نے کہا کہ ’میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو اس دوران میرے ساتھ کھڑے رہے۔ فیصلے کے بعد کانگریسی رہنماوں نے بھی بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ 2 جی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس کے سلسلے میں ا ن کی حکومت کے خلاف جو بڑے پیمانے پر وپگنڈہ کیا تھا وہ بالکل بے بنیاد تھا۔ڈاکٹر سنگھ نے یہاں پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بڑی بڑی باتیں نہیں کرنا چاہتا۔ فیصلہ اپنی کہانی خود کہہ رہا ہے۔‘ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ’عدالت کے حکم کا احترام کیا جانا چاہئے۔ مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے واضح طورپر کہا ہے کہ یو پی اے کے خلاف پروپگنڈہ بے بنیاد تھا۔‘سابق ٹیلی کوم وزیر کپل سبل نے اسے قانونی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں کسی طرح کا نقصان نہیں ہونے کی ان کی بات درست ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر جن لوگوں نے الزام لگائے انہیں اب معافی مانگنی چاہئے۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر ممبر پارلیمنٹ پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز لوگوں پر گھپنے کے الزام کبھی درست نہیں تھے اور یہ اب ثابت ہوگیا۔کانگریس نے مزید کہا کہ ٹوجی گھپلہ پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں تمام ملزمین کے بری ہونے سے آج واضح ہوگیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار کے لئے سازش کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو اس کا جواب دینا چاہئے۔کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ٹو جی گھپلے جو فیصلہ آیا ہے اس سے دودھ کا دودھ او رپانی کا پانی ہوگیا ہے۔ بی جے پی اور اس کے چوٹی کے لیڈروں کی طرف سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے بولا گیا جھوٹ سامنے آگیا ہے اور اب مسٹر مودی اور مسٹر جیٹلی جواب دہی سے نہیں بچ سکتے ہیں۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ اس معاملے میں سچائی سب کے سامنے آچکی ہے۔ بی جے پی نے ٹوجی بدعنوانی کو اقتدار کی سیڑھی بنایا اور اس کا خوب پروپیگنڈہ کیا اور اس جھوٹ کا پھل انہیں اقتدار کی صورت میں مل بھی گیا۔ اب ان کا جھوٹ پکڑا گیا ہے اور اس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ معافی صرف کانگریس اور ملک سے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا سے مانگنی چاہئے کیوں کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا گھپلہ کہہ کر پروپیگنڈہ کیاگیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ یو پی اے حکومت کو بدنام کرنے کے لئے یہ تانا بانا مسٹر مودی اور مسٹر جیٹلی اور سابق کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل ونود رائے نے مل کر تیار کیا تھا۔ ایک ماحول بنایا گیا اور ملک کو بدنام کیا گیا۔ اس سے معیشت کو بھی نقصان ہوا اور اس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔اس دوران بی جے پی ممبر پارلیمنٹ اور ٹوجی معاملہ میں کافی سرگرم رہے سبرامنیم سوامی نے تمام ملزمین کوبری کئے جانے پر کہا کہ وہ اس فیصلے سے مایوس نہیں ہیں اور حکومت کو اونچی عدالت میں اسے چیلنج کرنا چاہئے۔دریں اثنا سی بی آئی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اونچی عدالت میں اپیل کرے گی
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا8 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا12 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
