تازہ ترین
پلوامہ لہو لہو : 7عام شہری جاں بحق، 3 جنگجو ، فوجی جاح بحق 100سے زائد زخمی، ضلع میں کرفیو نافذ

خبراردو:
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے مضافاتی گاؤں خارپورہ سرنو میں سنیچر کو اُس وقت لوگ ششدرہ ہوکر رہ گئے جب یہاں فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی 182اور 183بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے جنگجوؤں سے متعلق ایک مصدقہ اطلاع کے بعد پورے گاؤں کو محاصرے میں لیتے ہوئے جنگجو مخالف آپریشن کا آغاز کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں میں موجود جنگجوؤں کی تلاش کے لیے فورسز نے دوران شب ہی پورے گاؤں کو محاصرے میں لیا تھا جس کے بعد ہی طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گاؤں میں گولیوں کی گن گرج سنائی دی۔

انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طرفین کی گولی باری چند گھنٹوں تک محیط رہی جس دوران مکان کے ملبے سے حزب المجاہدین سے وابستہ 3عسکریت پسندجاں بحق ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران فوج و فورسز کی طرف سے شروع کئے کئے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر علی الصبح ہی سرنو اور ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد جن میں نوجوان بھی شامل تھے نے جھڑپ والے مقام کی طرف پیش قدمی شروع کرنے چاہی تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پر چہار سوپتھراؤ کیا جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ فورسز اہلکاروں نے اس موقعے پر مظاہرین کا اگر چہ تعاقب کرنا چاہیے تاہم بضد مظاہرین نے فورسز کے خلاف محاذ جاری رکھتے ہوئے سنگ باری اور احتجاج میں شدت لائی۔معلوم ہوا کہ اس دوران فورسز اہلکاروں نے سنگ باری کررہے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں آہ و بکاہ کا عالم برپا ہوا ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے راست فائرنگ اور پیلٹ کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں بھیڑ میں موجود سینکڑوں نوجوان خون میں لت پت ہوکر گر پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں یہاں کئی نوجوانوں کے نازک اعضا میں گولیاں پیوست ہوئیں جس کے نتیجے میں یہاں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ اس موقعے پر یہاں موجود لوگوں نے اگر چہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کردیاتاہم ہسپتال پہنچانے کے ساتھ ہی کئی نوجوان یہاں دم توڑ بیٹھے۔ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام پر فورسز کی ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں 6نوجوان جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت شہباز علی ساکن منگہامہ، سہیل احمد ساکن بیلو، لیاقت احمد ساکن پاری گام، مرتضیٰ احمد ساکن پرچھو، عامر احمد پالا ساکن اشمندر اور عابد حسین لون ساکن کریم آباد شامل ہیں۔اس دوران اگر چہ درجنوں زخمیوں کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم یہاں ابتدائی مرحلے میں ایک اور نوجوان زندگی کی جنگ ہار بیٹھا جس کی شناخت توصیف احمد میر شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ توصیف احمد جھڑپ والے مقام پر ابتدائی طور پر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا تھا جسے پہلے پہل ضلع ہسپتال پلوامہ منتقل کردیا گیا تھا تاہم یہاں موجود ڈاکٹروں نے اس کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ توصیف احمد میر کے جسم سے کافی خون بہہ چکا تھا جس کے بعد سرینگر پہنچتے ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز کی فائرنگ سے سرنو میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ یہاں موجود لوگوں نے زخمی ہوئے افراد کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز کی راست فائرنگ لوگوں کا زخمیوں تک پہنچنا محال بن گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک گولیوں کا سلسلہ جاری رکھا جس دوران یہاں خوف و دہشت ماحول پیدا ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں سڑکوں پر پڑے زخمی افراد کے جسم سے کافی خون بہہ گیا جن میں سے بعد میں کئی نوجوان ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔معلوم ہوا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں 100سے زائد مظاہرین بری طرح زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ ادھر سنیچر کی سہ پہر تک جنوبی کشمیر سے ایمبولینس گاڑیاں سرینگر کی جانب رواں دواں تھی جو فورسز کارروائی میں زخمی افراد کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس، صورہ، جے وی سی اور برزلہ ہسپتالوں میں منتقل کررہی تھی۔ اس دوران وادی بھر میں حالات نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب سرنو پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عام شہری ہلاکتوں کی خبر شمال و جنوب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے ساتھ ہی ہر سو صف ماتم بچھ گئی۔معلوم ہوا کہ سرنو پلوامہ میں جونہی فورسز کارروائی کے دوران عام شہریوں سے متعلق ہلاکتوں کی خبر شمالی اور وسطی اضلاع تک پھیل گئی تو یہاں کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا نے سنیچر کی صبح اپنے کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے سرنو پلوامہ میں ہوئی عام شہری اور جنگجو ہلاکتوں کے خلاف کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا نے اس موقعے پر اسلام اور آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے لگاتے ہوئے وائس چانسلر کے سیکرٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقعے پر یہاں موجود طلبا نے فورسز کارروائی میں مارے گئے جنگجوؤں اور عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کیا۔ ادھر شہر کے نوہٹہ علاقے میں بھی لوگوں نے شہری ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاجی ظاہرے کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں سے شہری ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر نوہٹہ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرنو پلوامہ میں 7عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاج کیا اور اس دوران انہوں نے فورسز کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے اس موقعے پر آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں کو شہری ہلاکتوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی۔شہر کے امر سنگھ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کالج کے احاطے میں جم کر نعرے بازی کی ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف سنیچر دوپہر کو کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طلبا نے اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں بھی زور دار نعرے بازی کی جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ شمالی قصبہ سوپور میں بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ڈگر ی کالج سوپور کے طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج سے باہر آکر پلوامہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس دوران مظاہرین نے جونہی آگے بڑھنے کی کوشش کی تو یہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے احتجاج کررہے طلاب کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ہوا میں آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے ساتھ ہی یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ اس دوران احتجاج کے نتیجے میں یہاں تمام تجارتی مراکز مکمل طورپر بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوگئی۔ادھر وادی کے بقیہ علاقوں میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑتالی صورتحال دیکھنے کو ملی جس دوران دکانداروں نے اپنے دکانات کے شٹر گراکر محفوظ مقامات کی جانب پیش قدمی کی۔
ادھر ضلع پلوامہ میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے سنیچر کو پیدا شدہ صورتحال کے بعد اعلانیہ طور پر کرفیو نافذ کردیا جس کے بعد یہاں حساس مقامات پر ہتھیار بند فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے امن دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے ضلع کے حدود میں اگلے احکامات تک کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا ہے جس کے بعد یہاں کسی بھی شخص کو پرمارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اور کولگام سمیت وادی کے شمال و جنوب میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فی الحال معطل کردیا ہے جس کے ساتھ ہی عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا۔ معلوم ہوا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا جب کہ حکام نے براڈ بینڈ سروس کی تیز رفتار سروس میں بھی کمی لائی ۔ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ریل سروس کو حالات سازگار ہونے تک معطل کردیا ہے۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
