ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی۔پیزشکیان کی مغربی ایشیا پر بات چیت، ہندوستان کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور
نئی دہلی، مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔
برکس چوٹی کانفرنس سے الگ ہوئی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر مودی نے دہرایا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے 31 اگست کو بشکیک میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس سے الگ دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود برکس سے متعلق اجلاسوں میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان استحکام، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو مضبوط بنانے میں برکس اہل ہے۔ وزیر اعظم نے بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیزشکیان کی شرکت کے لیے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر اعظم نے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے برکس سمیت کثیر فریقی تنظیموں میں مشترکہ مفادات کے امور پر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعاون کی بھی تعریف کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، جہاز رانوں کا تحفظ ضروری: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ تجارت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان معاشی رابطے کے پل بنانے میں مصروف ہے۔
نریندر مودی نے یہاں برکس سربراہ اجلاس کے آغازسے قبل آج منعقدہ برکس بزنس فورم سے خطاب کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک مل کر کام کریں گے تو دنیا بھر کے لیے مسائل اور ضروریات کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے نریندر مودی اور ولادیمیر پوتن نے ہندوستان-روس تجارتی نمائش ‘انوپروم’ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا، “دنیا میں تجارت آگے تبھی بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور جہاز راں محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور جہاز رانوں کے تحفظ کا پرزور حامی ہے۔”
نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں آج جب تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان (مختلف مارکیٹوں کے ساتھ) معاشی رابطے کا پل تعمیر کر رہا ہے۔” انہوں نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت امریکہ-ایران جنگ کے باعث رک سی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک دوسرے ممالک کے خلاف تجارت میں اونچے ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے اقدامات کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعظم نے کہا کہ “عالمی تشویشات کے درمیان بھی ہندوستان آج معاشی نمو اور استحکام کا بھروسہ دے رہا ہے۔” انہوں نے عالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان میں جدت طرازی اور ایجادات کے لیے آنے اور یہاں سے دنیا کی مارکیٹوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے برکس گروپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے دنیا کے لیے تمام تر حل پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گروپ سے اپیل کی کہ، “برکس آگے بڑھے، اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔”
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
برکس بزنس فورم میں پوتن کا مغربی ممالک پر تجارتی ناانصافی کا الزام
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ مسابقت میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں کھلے عام غیر منصفانہ طریقے اختیار کررہے ہیں۔
18ویں برکس سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل منعقدہ بزنس فورم میں مسٹر پوتن نے کہا کہ دنیا میں اس وقت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور 21ویں صدی میں ترقی کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد رہا ہے، جبکہ جی7 ممالک کا حصہ 29 فیصد ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی میں برکس ممالک کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ جی7 کا حصہ 18 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی 50 فیصد آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ پوتن نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’انہیں جی7 کہا جاتا ہے، معلوم نہیں انہیں گریٹ کیوں کہا جاتا ہے۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ مغربی حریف اپنی سابقہ پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں اور بعض اوقات غیر منصفانہ طریقے بھی اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر سرکاری سطح پر بھی ایسے اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں، جن میں پائپ لائنوں کو تباہ کرنا، بین الاقوامی نقل و حمل اور کوریڈور بند کرنا، تجارتی جہاز ضبط کرنا اور غیر قانونی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔
روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان اور بعض دیگر ممالک پر عائد پابندیوں کے تناظر میں مسٹر پوتن نے کہا کہ جو ممالک مغربی ملکوں کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان پر بالواسطہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد مجموعی پابندیوں سے تقریباً دوگنی ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا کہ ان مشکل حالات کے باوجود روس نے برکس اور دیگر ممالک میں نئے شراکت دار بنائے ہیں۔ گزشتہ چار برس میں روس کی غیر ملکی تجارت میں جغرافیائی اور اسٹریٹجک تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس تیزی سے ترقی کررہا ہے اور گزشتہ تین برس میں اس کی جی ڈی پی کی شرح نمو عالمی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق روس نے بلند اہداف مقرر کیے اور انہیں حاصل بھی کیا، جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک بلند بجٹ خسارے، عوامی قرضوں اور صنعتی زوال کا سامنا کررہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
کھیل1 week agoورلڈ کپ کے حوالے سے شکوک و شبہات کے درمیان بی سی سی آئی نے روہت شرما کی حمایت کی
