ہندوستان
ہندوستان – بیلجیئم شراکت داری میں نئی رفتار، آئندہ 5 سال میں دوطرفہ تجارت دگنا کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان اور بیلجیئم کی شراکت داری میں نئی رفتار آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر دفاع اورصاف ستھری توانائی جیسے اسٹریٹجک شعبوں تک پہنچ گیا ہے جسے آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک نے اگلے پانچ سال میں دوطرفہ تجارت کو دگنا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
مسٹر مودی نے ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی تعلقات کے لیے نئے مواقع کھلے ہیں۔ بیلجیئم کی کمپنیوں کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری فاسٹ ٹریک نظام بنایا گیا ہے اور ہندوستان-بیلجیئم تجارتی فورم کو باقاعدہ نظام بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسٹر مودی نے ہندوستان کے دورے پر آئے بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور سے جمعرات کو یہاں دوطرفہ بات چیت کی۔
بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں گزشتہ ایک دہائی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور آج کی گفتگو سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نیا باب جڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعاون اب روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر دفاع اورصاف ستھری توانائی جیسے حکمت اسٹریٹجک شعبوں تک پہنچ گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران بیلجیئم میں ہزاروں ہندوستانی فوجیوں کی شجاعت اور قربانی دونوں ممالک کی مشترکہ یادداشت کا اہم حصہ ہے۔ جمہوری اقدار، مارکیٹ معیشت اور گہرے عوامی تعلقات ہندوستان اور بیلجیئم کو فطری شراکت دار بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک زورآور ٹینک جیسے جدید دفاعی سامان پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ آندھرا پردیش کے کاکیناڈا میں دنیا کے سب سے بڑے گرین امونیا پروجیکٹوں میں سے ایک کو تیار کیا جا رہا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ چیلنجنگ عالمی ماحول کے باوجود ہندوستانی معیشت نے اپنی رفتار برقرار رکھی ہے اور گزشتہ سہ ماہی میں اس میں 7.8 فیصد کی نمو درج کی گئی ہے۔ ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو انہوں نے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی تعلقات کے لیے نئے مواقع کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیلجیئم کی کمپنیوں کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری فاسٹ ٹریک نظام بنایا گیا ہے اور ہندوستان-بیلجیئم تجارتی فورم کو باقاعدہ نظام بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مالیاتی، فن ٹیک اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھایا جائے گا۔ ان پہلوں کے ذریعے اگلے 5 سال میں دوطرفہ تجارت کو دگنا کرنے کا ہدف ہے۔ دفاعی اور سلامتی تعاون کو تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تبادلے اور تربیت کے تعاون کو بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ حکومتوں اور دفاعی صنعتوں کے درمیان ہوئے معاہدوں سے دفاعی شعبے میں مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے نئے مواقع کھلیں گے۔ خفیہ معلومات کا تبادلہ اور جرائم کے خلاف تعاون کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ قابل تجدید توانائی پر ہوئے مفاہمت نامے سے پائیدار ترقی کے شعبے میں تعاون کو رفتار ملے گی۔ اہم معدنیات کی پروسیسنگ اور ری سائیکلنگ میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں بیلجیئم کی مہارت اور ہندوستان کے پیمانے کو ایک دوسرے کا مددگار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیلجیئم کے آئی ایم ای سی ادارے کو ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم سے جوڑنے کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اسٹارٹ اپس کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور سمندری شعبے میں صلاحیت سازی کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یونیورسٹی اور تحقیقاتی تعاون کو مضبوط کیا جائے گا اور صلاحیتوں کی نقل و حمل کے لیے جلد ہی ایمیگریشن شراکت داری کا معاہدہ کیا جائے گا۔ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور بیلجیئم قانون کی حکمرانی، بات چیت اور سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اور مغربی ایشیا میں تنازع کوجلد ختم کرنے اور امن کی تمام کوششوں کی دونوں ممالک حمایت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کی ہر شکل کو جڑ سے ختم کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ عزم ہے۔ انہوں نے کہا، “یوکرین ہو یا مغربی ایشیا ہم تنازع کی جلد منسوخی اور امن کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اور دہشت گردی کی ہر شکل کو جڑ سے ختم کرنا ہماری مشترکہ عہد بستگی ہے۔”
وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ بیلجیئم اور نیدرلینڈز کی جانب سے مشترکہ طور پر ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کا ذکر کرتے ہوئے ایونٹ کے لیے مبارکباد دی اور ہندوستانی کھلاڑیوں کی محنت اور کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیرے کے کاروبار نے ہندوستان اور بیلجیئم کو طویل عرصے سے جوڑا ہے اور دونوں ممالک اس تاریخی لگاؤ کو وسیع تر شراکت داری کی نئی شکل دے رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مودی۔پیزشکیان کی مغربی ایشیا پر بات چیت، ہندوستان کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور
نئی دہلی، مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔
برکس چوٹی کانفرنس سے الگ ہوئی بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر مودی نے دہرایا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے 31 اگست کو بشکیک میں بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس سے الگ دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم نے مشکل حالات کے باوجود برکس سے متعلق اجلاسوں میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان استحکام، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو مضبوط بنانے میں برکس اہل ہے۔ وزیر اعظم نے بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیزشکیان کی شرکت کے لیے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر اعظم نے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ملاحوں کی سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نے برکس سمیت کثیر فریقی تنظیموں میں مشترکہ مفادات کے امور پر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعاون کی بھی تعریف کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، جہاز رانوں کا تحفظ ضروری: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں تجارت کی توسیع کے لیے سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ تجارت کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان معاشی رابطے کے پل بنانے میں مصروف ہے۔
نریندر مودی نے یہاں برکس سربراہ اجلاس کے آغازسے قبل آج منعقدہ برکس بزنس فورم سے خطاب کیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک مل کر کام کریں گے تو دنیا بھر کے لیے مسائل اور ضروریات کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے نریندر مودی اور ولادیمیر پوتن نے ہندوستان-روس تجارتی نمائش ‘انوپروم’ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا، “دنیا میں تجارت آگے تبھی بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں، سپلائی کے راستے کھلے ہوں اور جہاز راں محفوظ ہوں۔ اسی لیے ہندوستان جہاز رانی کی آزادی اور جہاز رانوں کے تحفظ کا پرزور حامی ہے۔”
نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں آج جب تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں، ہندوستان (مختلف مارکیٹوں کے ساتھ) معاشی رابطے کا پل تعمیر کر رہا ہے۔” انہوں نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت امریکہ-ایران جنگ کے باعث رک سی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک دوسرے ممالک کے خلاف تجارت میں اونچے ٹیرف اور دیگر پابندیوں کے اقدامات کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ اس پروگرام میں وزیراعظم نے کہا کہ “عالمی تشویشات کے درمیان بھی ہندوستان آج معاشی نمو اور استحکام کا بھروسہ دے رہا ہے۔” انہوں نے عالمی سرمایہ کار برادری کو ہندوستان میں جدت طرازی اور ایجادات کے لیے آنے اور یہاں سے دنیا کی مارکیٹوں کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے برکس گروپ کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے دنیا کے لیے تمام تر حل پیش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے گروپ سے اپیل کی کہ، “برکس آگے بڑھے، اور دنیا کو بھی آگے بڑھائے۔”
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
برکس بزنس فورم میں پوتن کا مغربی ممالک پر تجارتی ناانصافی کا الزام
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ مسابقت میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے تجارت میں کھلے عام غیر منصفانہ طریقے اختیار کررہے ہیں۔
18ویں برکس سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل منعقدہ بزنس فورم میں مسٹر پوتن نے کہا کہ دنیا میں اس وقت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور 21ویں صدی میں ترقی کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد رہا ہے، جبکہ جی7 ممالک کا حصہ 29 فیصد ہے۔ عالمی اقتصادی ترقی میں برکس ممالک کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ جی7 کا حصہ 18 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی 50 فیصد آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ پوتن نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’انہیں جی7 کہا جاتا ہے، معلوم نہیں انہیں گریٹ کیوں کہا جاتا ہے۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ مغربی حریف اپنی سابقہ پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں اور بعض اوقات غیر منصفانہ طریقے بھی اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر سرکاری سطح پر بھی ایسے اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں، جن میں پائپ لائنوں کو تباہ کرنا، بین الاقوامی نقل و حمل اور کوریڈور بند کرنا، تجارتی جہاز ضبط کرنا اور غیر قانونی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔
روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان اور بعض دیگر ممالک پر عائد پابندیوں کے تناظر میں مسٹر پوتن نے کہا کہ جو ممالک مغربی ملکوں کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان پر بالواسطہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد مجموعی پابندیوں سے تقریباً دوگنی ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا کہ ان مشکل حالات کے باوجود روس نے برکس اور دیگر ممالک میں نئے شراکت دار بنائے ہیں۔ گزشتہ چار برس میں روس کی غیر ملکی تجارت میں جغرافیائی اور اسٹریٹجک تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس تیزی سے ترقی کررہا ہے اور گزشتہ تین برس میں اس کی جی ڈی پی کی شرح نمو عالمی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق روس نے بلند اہداف مقرر کیے اور انہیں حاصل بھی کیا، جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک بلند بجٹ خسارے، عوامی قرضوں اور صنعتی زوال کا سامنا کررہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر7 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoتہران کی گوتریس کے بیان پر تنقید، سپر پاورز کے مظالم پر پردہ ڈالنے کا الزام
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
