ہندوستان
پی ایم مودی نے انڈونیشیا کا دورہ مکمل کیا، اسٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دینے کے بعد میلبورن کے لیے روانہ
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو انڈونیشیا کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کیا اور اپنے تین ممالک کے ہند-بحرالکاہل دورے کے دوسرے مرحلے کے لیے میلبورن روانہ ہو گئے وزارت خارجہ نے اس دورے کو دوطرفہ شراکت داری کو نمایاں طور پر مضبوط کرنے اور مستقبل کے تعاون کے لیے ایک پرجوش روڈ میپ تیار کرنے والا قرار دیا ہے۔ اپنے وہاٹس ایپ چینل پر ایک پوسٹ میں، وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے آسٹریلیا روانہ ہونے سے پہلے انڈونیشیا کا کامیاب دورہ مکمل کر لیا ہے۔ وزارت نے کہا، ”پی ایم نریندر مودی نے انڈونیشیا کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کیا اور اپنے تین ممالک کے دورے کے دوسرے مرحلے کے لیے میلبورن روانہ ہو گئے۔“
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی گرمجوشی کو ظاہر کرتے ہوئے ایک غیر معمولی سفارتی اقدام کے تحت، انڈونیشیا کے صدر پروبوو سوبیانتو خود مودی کے ساتھ ہوائی اڈے تک تشریف لائے اور ان کی روانگی سے قبل انہیں رخصت کیا۔ وزارت خارجہ نے کہا، ”دوستی کے ایک خاص جذبے کے تحت، صدر پروبوو سوبیانتو نے پی ایم کو ہوائی اڈے پر رخصت کیا۔“
یہ دورہ ہندستان اور انڈونیشیا کے تعلقات میں ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی سطح پر تعاون کو گہرا کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر نتائج حاصل ہوئے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، ”انڈونیشیا کے دورے سے تعاون کے اہم شعبوں میں نمایاں نتائج برآمد ہوئے، جس سے ہند-انڈونیشیا شراکت داری مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئی اور مستقبل کے لیے ایک پرجوش ایجنڈا طے ہوا۔“
جکارتہ میں اپنے قیام کے دوران، مودی نے صدر پروبوو کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ان دونوں سمندری پڑوسیوں کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ بات چیت میں دفاع اور سکیورٹی، سمندری تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز،حفظان صحت ، زراعت، اہم معدنیات، خلا، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس دورے کے دوران 14 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط اور چھ اہم اقدامات کا آغاز بھی دیکھنے میں آیا، جن کا مقصد موجودہ ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط کرتے ہوئے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔
دورے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ رہی کہ مودی انڈونیشیائی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم بن گئے، جہاں انہوں نے ‘گنگا-مہاکم وژن’ کے ذریعے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اعلان کیا اور مشترکہ تہذیبی روابط، جمہوری اقدار اور گلوبل ساؤتھ کے مفادات کو آگے بڑھانے میں تعاون پر زور دیا۔ ہندستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کے تعاون کے اعتراف میں صدر پروبوو نے وزیر اعظم کو انڈونیشیا کا سب سے بڑا شہری اعزاز، ‘بنتانگ آدیپورن آف دی ریپبلک آف انڈونیشیا’ بھی عطا کیا۔
مودی کا یہ دورہ ان کے تین ممالک کے ہند-بحرالکاہل دورے کا پہلا مرحلہ تھا۔ ان کا آسٹریلیا کا دورہ طے ہے، جہاں وہ میلبورن میں آسٹریلوی رہنماؤں کے ساتھ ہندستان-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی توسیع کا جائزہ لینے اور تجارت، دفاع، اہم معدنیات، صاف توانائی، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں گہرے تعاون کے راستے تلاش کرنے کے لیے بات چیت کریں گے۔ دورے کا آخری مرحلہ میں وہ نیوزی لینڈ جائیں گے ۔
ہندستان اور انڈونیشیا نے 2018 میں اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری تک بڑھایا تھا اور تب سے سمندری سکیورٹی، دفاع، کنیکٹیویٹی، تجارت اور علاقائی امور میں تعاون کو مسلسل بڑھایا ہے۔ توقع ہے کہ تازہ ترین دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار فراہم کرے گا اور ساتھ ہی ایک آزاد، کھلے اور ہمہ گیر ہند-بحرالکاہل کو یقینی بنانے میں تعاون کو مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا11 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان11 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا14 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر5 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر5 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا4 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
