جموں و کشمیر
پولیس نے لشکرِ طیبہ سے وابستہ تین افراد کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے راجوری ضلع میں کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ سے جڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کیا اور ان کے پاس سے ایک طاقتور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے منگل کے روز بتایا کہ لشکرِ طیبہ سے مبینہ طور پر جڑے نیٹ ورک کا انکشاف کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت راجوری کے کوٹچر وال تیریاٹھ کے ذاکر حسین، کوٹچر وال تیریاتھ کے محمد اعظم اور راجوری کے ادھان کے محمد مشتاق کے طور پر ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں راجوری-پونچھ علاقے میں متحرک ایک دہشت گرد گروہ کی تحقیقات کے دوران کی گئیں۔ ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ، محفوظ نقل و حرکت اور زمینی سطح پر دیگر مدد فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر گائیڈ کے طور پر کام کیا اور وادیِ کشمیر کی طرف دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت میں مدد کی۔
ذرائع نے بتایا کہ گرفتار افراد پر ان دہشت گردوں کو زمینی مدد فراہم کرنے کا بھی شبہ ہے جو کئی ہائی پروفائل حملوں میں ملوث تھے، جن میں شہریوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا حملہ بھی شامل ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد مبینہ طور پر ایک دہشت گرد گروہ کے ارکان نے ملزمان کو محفوظ رکھنے اور کسی ہدف بنائے گئے حملے میں ممکنہ استعمال کے لیے سونپا تھا۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
عمر نے ’غیر سنجیدہ‘ قرار دینے پر بی جے پی کو جواب دیا، کہا: بی جے پی ’اسمبلی میں بمشکل نظر آتی ہے‘
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو سات روزہ اسمبلی اجلاس کے انعقاد پر ان کی حکومت کو ’’غیر سنجیدہ‘‘ قرار دینے پر بی جے پی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے، خاص طور پر اس وقت جب بی جے پی کے ارکان ’’اسمبلی میں بمشکل نظر آتے ہیں‘‘۔
21 ستمبر سے سات روزہ اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ ’’غیر سنجیدگی‘‘ سے کیا مراد ہے اور بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں ہونے والے مختصر اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اس سے بھی کم مدت کے اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’غیر سنجیدگی اس وقت ہوتی اگر ہم بی جے پی کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے، جہاں ان کی ریاستوں میں ایک یا دو روزہ اجلاس طلب کیے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اسمبلی میں کبھی نہیں آتے۔ یہ پارلیمنٹ میں کبھی نظر نہیں آتے۔‘‘
عمر نے کہا کہ ان کی حکومت کے ارکان صبح سے شام تک اسمبلی میں موجود رہتے ہیں اور دلیل دی کہ اس طرح کی شرکت قانون سازی کے امور کے تئیں حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’ہم صبح اسمبلی میں بیٹھتے ہیں اور شام کو نکلتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا دن ہوتا ہے جب ہم اسمبلی میں موجود نہ ہوں۔ غیر سنجیدگی، چاہے کوئی اور ہم پر غیر سنجیدہ ہونے کا الزام لگائے یا نہ لگائے، بی جے پی یقینی طور پر ہم پر یہ الزام نہیں لگا سکتی۔‘‘
اسمبلی میں بی جے پی کے ارکان کی حاضری پر طنز کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ ان کی حکومت پر سوال اٹھانے سے پہلے بی جے پی کو اپنے ریکارڈ کا جائزہ لینا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بی جے پی کو یو سی سی نافذ کرنے کے لیے ‘پچھلے دروازے’ کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے: عمر
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کے لیے “پچھلے دروازے” کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے مسٹر عبداللہ نے مرکزی وزیرِ داخلہ امِت شاہ کے اس اعلان کے بعد یہ بات کہی ہے جس میں مسٹر شاہ نے کہا تھا کہ سال 2029 تک این ڈی اے کی حکمرانی والی تمام ریاستوں میں یو سی سی نافذ کیا جائے گا۔ مسٹر عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ اس قانون کو الگ الگ ریاستوں کے ذریعے منتخب طور پر آگے بڑھانے کے بجائے پارلیمنٹ میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “اگر آپ کے پاس عددی اکثریت ہے، تو اسے پارلیمنٹ میں لائیں۔ آپ اسے الگ الگ ریاستوں میں کیوں کر رہے ہیں۔” انہوں نے مختلف ریاستی حکومتوں کے ذریعے یو سی سی کو آگے بڑھانے کے قدم پر سوال اٹھائے۔
انہوں نے اس معاملے پر بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے اندرونی اختلافات کی طرف بھی اشارہ کیا اور دعویٰ کیا کہ جنتا دل (یونائیٹڈ) نے بہار میں اسے نافذ کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے پوچھا، “اگر ان کے اپنے ہی لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں، تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسے پورے ملک میں نافذ کیا جانا چاہیے؟” وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی کو پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ان کے پاس قانون منظور کرانے کے لیے ضروری عددی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا، “انہیں پچھلے دروازے کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے؛ انہیں پارلیمنٹ میں بل لانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس عددی طاقت ہے یا نہیں۔” وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس ہو سکے گا، کیونکہ بی جے پی کے کچھ اتحادیوں کی طرف سے اس کی مخالفت کیے جانے کی رپورٹیں ہیں۔
اپوزیشن کے اس الزام پر کہ بی جے پی فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے یو سی سی کا استعمال کر رہی ہے، انہوں نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں نافذ قانون کو یونیورسل نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “اگر یہ پورے ملک پر نافذ نہیں ہوتا ہے تو یہ یونیورسل نہیں ہے۔ پورا ملک بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست نہیں ہے۔ ایسی کئی ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ اس لیے، اگر آپ اسے صرف بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں نافذ کرتے ہیں، تو یہ یونیورسل نہیں ہے۔ اور اس طرح کی چیز کا فیصلہ الگ الگ ریاستوں کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فیصلہ پورے ملک کو کرنا ہوگا۔ پورے ملک کی نمائندگی ریاستوں میں نہیں، بلکہ پارلیمنٹ میں ہوتی ہے۔ قانون کو پارلیمنٹ میں آنے دیں۔”
مسٹر عمر نے کہا کہ یہ قانون ابھی پارلیمنٹ میں نہیں آیا ہے۔ جب مسٹر عمر سے پاکستان کا نام لیے بغیر پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرنے والے برکس اعلامیے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مرکزی حکومت، بالخصوص وزارتِ خارجہ کو دھیان دینا چاہیے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ اعلامیہ ہندستان کی خارجہ پالیسی کی ایک “کامیابی” ہے۔ انہوں نے کہا، “دیکھیے، پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت ہونا ہی اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے۔ ذرا دیکھیے کہ اس کمرے میں پاکستان کے کتنے اتحادی ملک موجود تھے۔ اس لیے، پہلگام کا نام لیا جانا ہی ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔”
مسٹر عمر نے کہا کہ ہندستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں دوسرے ممالک کی تعریف یا تنقید کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے؛ ملک کی خارجہ پالیسی اس کے اپنے مفادات اور فیصلوں پر مبنی ہونی چاہیے۔
انہوں نے چین کی طرف سے ہندستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کیے جانے کے سوال پر کہا کہ ہندستان کو اپنی خارجہ پالیسی کی منظوری کے لیے دوسرے ملکوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کی کارروائی سے شوپیاں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے 13 کھاتہ داروں کو 4.50 کروڑ روپے واپس ملے
سری نگر، شوپیاں میں مبینہ بینک فراڈ کے متاثرین کو بڑی راحت ملتے ہوئے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر کی کارروائی کے نتیجے میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے 13 کھاتہ داروں کو تقریباً 4.50 کروڑ روپے واپس دلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ رقم بینک کی ایک شاخ میں مالی بے ضابطگیوں کی شکایت پر مقررہ مدت میں کی گئی تحقیقات کے بعد واپس دلائی گئی۔
یہ معاملہ 2025 میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ ایف آئی آر شوپیاں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کی شاخ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے موصولہ شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی تھی۔ بعد میں پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو)، جموں و کشمیر کی ہدایت پر تفصیلی تحقیقات کے لیے یہ معاملہ کرائم برانچ جموں و کشمیر کو منتقل کردیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران ای او ڈبلیو کشمیر نے پانچ اہم ملزمان کی شناخت کی، جن میں شوپیاں اور پلوامہ میں تعینات ایچ ڈی ایف سی بینک کے سابق برانچ منیجرز اور ملازمین بھی شامل تھے۔ پانچوں ملزمان کو 18 فروری 2026 کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ای او ڈبلیو کشمیر نے مئی 2026 میں شوپیاں کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں 11 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔
مبینہ فراڈ سے متاثر ہونے والے 13 کھاتہ داروں کو ایچ ڈی ایف سی بینک نے تقریباً 4.50 کروڑ روپے واپس کردیئے، جس سے متاثرین کو بڑی راحت ملی ہے۔
ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی مجاز عدالت میں جاری ہے۔ ای او ڈبلیو کشمیر نے کہا ہے کہ وہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے اور تمام ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یواین آئی ظ ا
-
دنیا1 week agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا1 week agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا1 week agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
دنیا1 week agoتہران اقتصادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، یہ امریکی حملوں کا “دردناک” جواب دے گا:قالیباف
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
-
جموں و کشمیر3 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
ہندوستان1 week agoگونڈہ میں سڑک حادثہ میں دو طلبہ کی موت
-
دنیا1 week agoمیامی میں کارگو طیارے کے رنوے سے اترنے سے پانچ افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoبرطانوی حکام نے انگلش چینل میں 140 تارکینِ وطن کو لے جانے والی کشتی کو روک لیا
-
تجزیہ6 days agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
جموں و کشمیر3 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
