دنیا
پینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
واشنگٹن، امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ ایران میں مہنگی فوجی مہم کے براہِ راست نتیجے کے طور پر امریکہ گولہ بارود کے ذخائر میں اسٹریٹجک کمزوریوں کا سامنا کر رہا ہے۔
کانگریس کو پیش کردہ مذکورہ پہلی رپورٹ میں پینٹاگن کے نگران ادارے نے واضح کیا ہے کہ 28 فروری تا 30 جون کے آپریشن ایپک فیوری (او پی ایف) پر اندازاً 33.4 ارب ڈالر لاگت آئی، جس میں سے گولہ بارود پر 22.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔
رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ “او پی ایف پر گولہ بارود کے اخراجات نے اسٹریٹجک اسٹاک میں کمی لائی ہے اور ان کی دوبارہ فراہمی کے لیے صنعتی بنیاد میں رکاوٹیں موجود ہیں ۔”
نگران ادارے نے مہم کے دوران امریکی بیڑے کو پہنچنے والے اہم سازوسامان کے نقصانات کی تفصیل دی، جن میں چار ایف-15 لڑاکا طیارے تباہ، ایک ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ متاثر ، سات کے سی-135 ایندھن بھرنے والے ٹینکرز متاثر اور ممکنہ طور پر 30 تک ایم کیو-9 ریپر ڈراونز مار گرائے گئے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکم ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر کے بارے میں خدشات کو نظرانداز کیا ہے۔
پیر کو ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی کارخانے ‘ہماری تاریخ میں کسی بھی دور سے زیادہ نفیس اور اعلیٰ ہتھیار’ تیار کر رہے ہیں۔
تاہم رپورٹس سے واضح ہوا ہے کہ طویل فاصلے کے درست رہنمائی والے میزائلوں اور فضائی دفاع کے انٹرسیپٹرز کی شدید قلت نے ایران کے خلاف فوجی منصوبہ بندی کو محدود کر دیا ہے، اور امریکی افواج نے اپنے تھاڈ میزائل انٹرسیپٹر ذخائر کا تقریباً 80 فیصد استعمال کر لیا ہے۔
جنگ کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے ، تا ہم فوج نے دوبارہ اس سطح کی بمباری نہیں کی۔
نگران ادارے نے مزید کہا کہ ایرانی حملوں نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی تنصیبات پر سینکڑوں تنصیبات کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا۔
ان تعمیر نو کے اخراجات کو مرکزی بجٹ سے خارج رکھا گیا ہے، کیونکہ حکام اس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا نقصان زدہ مقامات کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا یا نہیں اور ان کارروائیوں کی مالی اعانت کہاں سے ہو گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شی جن پنگ اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کا چین کا دورہ
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بدھ کو چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ چین نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب چین کے صدر شی جن پنگ کی رواں ماہ کے اواخر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا، ’’ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی 16 ستمبر کو چین کا دورہ کریں گے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ یی ان کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔‘‘
عراقچی کا یہ دورہ شی جن پنگ کے 24 ستمبر کو امریکہ کے متوقع دورے سے قبل ہو رہا ہے، جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں چینی صدر کے ساتھ بات چیت سے مثبت نتائج کی امید ہے۔
عراقچی کا دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی محاذ آرائی کے باعث مغربی ایشیا میں کشیدگی برقرار ہے اور تہران اہم شراکت داروں کے ساتھ سفارتی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران اور چین کے درمیان قریبی سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جبکہ بیجنگ علاقائی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
عراقچی اور وانگ یی نے جولائی میں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر بات چیت کی تھی۔ دونوں رہنما اس ماہ نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس کے دوران بھی ملے تھے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں ایران کے وفد کی قیادت کی تھی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، صدر پزشکیان نے 2025 میں لانژو میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت ریت اور گرد کے طوفانوں اور صحرائی پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے چین کے ساتھ پانچ سالہ ایکشن پلان تیار کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت صالحیہ ویٹ لینڈ، جو ایران کے البرز، قزوین اور تہران صوبوں کو متاثر کرنے والی گرد و غبار کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور تباس کا صحرا مشترکہ منصوبوں کے لیے آزمائشی علاقوں کے طور پر منتخب کیے گئے ہیں۔
پزشکیان نے ایرانی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ساتھ قریبی تعاون کریں اور پانچ سالہ منصوبے کے تحت مطالعات اور اقدامات کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں۔
ایران ایک خشک اور نیم خشک ملک ہے، جہاں بار بار پڑنے والی خشک سالی، کم ہوتی بارش اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے صحرائی پھیلاؤ اور گرد و غبار کے طوفانوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ ان عوامل سے زراعت، عوامی صحت اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔
ایران نے اس مسئلے پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے جولائی میں نیویارک میں ریت اور گرد کے طوفانوں سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی۔
ایروانی نے کہا کہ گرد و غبار کے طوفان ایک عالمی چیلنج بن چکے ہیں، جو صحت، غذائی تحفظ، نقل و حمل، معیشت اور ماحولیات کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی اور مالی وسائل تک رسائی سمیت بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
ایران، عراق، سینیگال اور منگولیا، جنہوں نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کے اس اجلاس کی میزبانی کی، نے گرد و غبار کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے نگرانی، قبل از وقت انتباہی نظام، زمین کی بحالی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مالی معاونت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایرانی اقدام کے بعد 2023 میں 12 جولائی کو ریت اور گرد کے طوفانوں سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
ریاض، سعودی عرب نے منگل کو خبردار کیا کہ وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف “سخت” ردعمل ظاہر کرے گا، بعد ازاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں میں ملک کے جنوب میں 13 عام شہری زخمی ہو گئے۔
حوثی گروپ جولائی میں جب یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑکی تب سے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے ساتھ نئی لڑائیوں میں ملوث ہے، جب گروپ نے ریاض پر بحری محاصرے کا اعلان کیا اور بحیرہ احمر میں اس کی کشتیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔
گروپ نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل اور باب المندب کے تنگ راستے پر قبضہ کر لیا، جو اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ امریکہ-ایران کے وسیع تر تنازع نے ہرمز کی تنگ گزرگاہ کو متاثر کیا ہے، اور یہ یمنی حکومتی فورسز کے لیے ایک اہم نقصان رہا۔
انہوں نے سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کنندہ ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی حد سے اوپر چلی گئیں۔
دو فوجی ذرائع کے مطابق پیر کو مغربی یمن میں ایک حوثی حملے میں حکومتی فورسز کے آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے۔
حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے خمیس مشیط میں کنگ خالد ائربیس کے خلاف “بڑے پیمانے” کے ایک نئے حملے کا دعویٰ کیا جس میں “دسوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز” استعمال کیے گئے۔
ریاض کی قیادت میں اتحاد نے منگل کو تصدیق کی کہ پچھلے روز خمیس مشیط، ابہا اور الطائف پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے تھے اور 13 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
حوثیوں کے مطابق ریاض نے پچھلے روز کی طرح اس بار بھی 50 سے زائد جوابی حملے کیے۔
اتحاد نے کہا کہ وہ مملکت کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا “سخت” طریقے سے مقابلہ کرے گا اور اس “دشمنانہ اور انتہا پسندانہ رویے” کو روکنے کے لیے “تمام لازم آپریشنل اقدامات” کرے گا۔
حوثیوں کے پولیٹ بیورو کے رکن ہازم الاسد نے کہا کہ “یمنی جواب جاری رہے گا اور جب تک وہ (سعودی عرب) ہماری عوام پر جارحیت برقرار رکھیں گے، یہ شدت اختیار کرتا جائے گا”۔
منگل کی صبح سویرے سعودی سول ڈیفنس نے چھ خطوں میں ہوائی حملے کی الرٹس جاری کیں، بعد ازاں انہیں ہٹا دیا گیا۔
یمن میں دوبارہ بھڑکتی لڑائی ایسے وقت میں ہے جب خطے کا وسیع تنازع بے نتیجہ سا برقرار ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کرتے ہیں۔
“ناکام ہوتی ہوئی قوم ایران جلدی اور شدت کے ساتھ ایک سودے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں طے کروں گا کہ آیا امریکہ میں ملوث ہونا چاہیے یا نہیں — اس تصور کے لیے ہم کھلے ہیں،” ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل نیٹ ورڪ پر کہا۔
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے ایکس پر کہا کہ “جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بس اتنا ہی ہے۔”
خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان ہرمز کے مستقبل پر مجوزہ ملاقات پیر کو ملتوی کر دی گئی، جس پر تہران نے الزام عائد کیا کہ ریاض یمن کو “عذر” بنا کر مذاکرات میں تاخیر کر رہا ہے۔
قاہرہ نے اعلان کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان منگل کو مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی سے بات چیت متوقع تھی۔
یمنی حکومتی فورسز نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے جنوبی مغربی صوبے تعزی میں حوثیوں سے پوزیشنیں واپس لیکر ہوائی حملے کیے اور سرکاری صبا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہوں نے کم از کم 10 جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔
سعودی ولی عہد نے منگل کو جدہ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی تاکہ “علاقے کی تازہ ترین پیش رفت” پر گفتگو کی جا سکے، سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق۔
نیو ز سائٹ ایکسیوس کے مطابق ایڈمرل نے ہنگامی ہم آہنگی ملاقاتوں کے لیے جمعرات کو سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔
حوثیوں نے 2014 میں خانہ جنگی کے آغاز پر یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں حکومت کو جنوب کے عدن منتقل ہونا پڑا۔
اگلے سال سعودی عرب نے حکومت کے حق میں مداخلت کے لیے ایک اتحاد کی قیادت کی، اور جیسے جیسے تنازعے نے شدت اختیار کی اس نے ہوائی حملوں کی لہر در لہر کارروائیاں شروع کیں، جس سے یہ تنازع دنیا کے سب سے سنگین انسانی المیے میں سے ایک بن گیا۔
اقوام متحدہ کی ہجرت ایجنسی نے پیر کو کہا کہ عرب دنیا کے سب سے غریب ملک میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائیوں کی وجہ سے 93,864 افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران تیل کا ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا
تہران، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں کی زد میں آ جانے کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آرجی سی) نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
آئی آر جی سی نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا، “سپر ٹینکر ‘ایل گئیا’ جنوبی آبنائے ہرمز کے ایک ممنوعہ علاقے سے گزرنے والا تھا کہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے کا شکار ہو گیا۔ آگ بجھانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔”
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے آئی آر جی سی کے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ماہ ایران کی جانب سے داغی گئی ایک میزائل سے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا تھا جس سے وہ ناکارہ ہو گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے کے اختتام پر، جب جہاز عمان کے ساحل کے قریب تھا، تو ایران نے مبینہ طور پر ڈرون سے اس پر دوبارہ حملہ کیا۔
سینٹ کام نے ‘ایکس’ پر لکھا، “فی الحال ایک علاقائی اتحادی ملک ٹینکر کو کھینچ کرلے جا رہا ہے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں قائم ٹھکانوں پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی حملے کیے گئے۔ جون کے وسط میں ایران اور امریکہ نے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم بعد میں ان کے درمیان دوبارہ حملے شروع ہو گئے۔ فی الحال یہ تنازع حل نہیں ہوا ہے۔
تنازع میں شدت آنے کی وجہ سے آبنائےہرمز کے ذریعے ہونے والی بحری جہازوں کی نقل و حرکت تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ راستہ تیل، پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی عالمی منڈی کے لیے ایک انتہائی اہم سپلائی روٹ ہے۔ نتیجے کے طور پر، دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
-
دنیا1 week agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا1 week agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
دنیا1 week agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا1 week agoتہران اقتصادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، یہ امریکی حملوں کا “دردناک” جواب دے گا:قالیباف
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
-
جموں و کشمیر3 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
ہندوستان1 week agoگونڈہ میں سڑک حادثہ میں دو طلبہ کی موت
-
دنیا1 week agoمیامی میں کارگو طیارے کے رنوے سے اترنے سے پانچ افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoبرطانوی حکام نے انگلش چینل میں 140 تارکینِ وطن کو لے جانے والی کشتی کو روک لیا
-
تجزیہ6 days agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
جموں و کشمیر3 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
